بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال ماضی کے مقابلے میں بہتر ہے، ضیاء لانگو

کوئٹہ :وزیرداخلہ بلوچستان میر ضیااللہ لانگو نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال ماضی کے مقابلے میں بہتر ہے،کراچی اور بلوچستان کی دہشت گرد تنظیمیں مل کر کام کررہی ہیں،ان کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے،بلوچستان عوامی پارٹی(باپ)بنانے کا مقصد بلوچستان کے مسائل صوبے میں رہ کر ہی حل کرنا ہے، ہم نہیں چاہتے کہ بلوچستان کے مسائل کے لئے لاہور یا لاڑکانہ جانا پڑے، سینٹ میں پیپلزپارٹی کوووٹ دینے والوں کو شوکاز نوٹس ایگزیکٹو کمیٹی جاری کرے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو کراچی پریس کلب کے دورے کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرکراچی کلب کے صدر فاضل جمیلی،سیکرٹری رضوان بھٹی اور دیگر عہدیداربھی موجود تھے۔میرضیا اللہ لانگو نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے صوبے کی ترقی کا جو خواب دیکھا ہے بلوچستان عوامی پارٹی کی حکومت اسے پورا اور صوبے کے مسائل حل کرے گی، بلوچستان کے وسائل کے مطابق محروم طبقوں سے مذاکرات کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی بنانے کا مقصد یہی تھا کہ صوبے کے مسائل صوبے میں ہی حل ہوں ہمیں ان کے لیے لاہورر یا لاڑکانہ نہ جانا پڑے بلوچستان عوامی پارٹی ایک ہم خیال لوگوں کا گروپ ہے یہ ایک جمہوری سیاسی جماعت ہے کسی کی بنائی ہوئی جماعت نہیں انہوں نے کہا کہ درپیش مسائل کا حل مستقل جدوجہد میں ہے حکومت عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے دن رات کام کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے دہشت گردی کے کچھ واقعات ضرور رونما ہوئے ہیں سکیورٹی فورسز نے کئی دہشت گردوں کو ہلاک اور گرفتار کیا ہے کراچی اور بلوچستان کی دہشت گرد تنظیمیں مل کر کام کررہی ہیں ان کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوئی نہیں چاہتا کہ شاہراہیں بند ہوں ملازمین کی مشکلات کا احساس ہے اس کے لیے حکومت کی جانب سے کمیٹی قائم کی گئی ہے جلد ان کے مسائل کو حل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ گوادر میں ترقی ہورہی ہے لیکن وہاں کوئی سیکرٹریٹ نہیں بنایا جارہا ہے گوادر میں ماضی میں ونٹر کیپٹل ضرورتھا لیکن حالیہ دنوں میں اس پر کابینہ میں کوئی بات نہیں ہوئی وزیراعلی بلوچستان کی ہدایت پر صوبے کے تمام اضلاع میں ترقیاتی کام کیے جارہے ہیں ہمارا عزم ہے کہ بلوچستان کو ترقی یافتہ صوبہ بنائیں لاپتہ افراد کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر داخلہ بلوچستان نے کہا کہ ہمیں 392گمشدہ افراد کی فہرست فراہم کی گئی تھی ان میں سے 300لوگ بازیاب ہوچکے ہیں صوبائی حکومت اس حوالے سے تحقیقات کررہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں