وزیر اعظم کا قوم سے خطاب
وزیر اعظم عمران خان نے شام سواپانچ بجے قوم سے خطاب کیا اور ایل پی ٹی سے مذاکرات، معاہدے اور اسے کالعدم قرار دینے کا پس منظر مختصراً بیان کیا۔انہوں نے بتایا کہ ٹی ایل پی کے عزائم خطرناک تھے،وہ مذاکرات کے دوران 20اپریل کو اسلام آباد دھرنے کی تیاری کر رہی تھی۔ٹی ایل پی کا بنیادی مطالبہ تھا فرانس کے سفیر کو پاکستان سے نکالا جائے،اس سے تعلقات ختم کئے جائیں۔ لیکن اس بات کی ضمانت کون دے گا؟ کہ فرانس کے سفیر کو نکالنے کے نتیجے میں یورپی ممالک اس کے بعد ایسی گستاخانہ حرکت نہیں کریں گے۔بلکہ اس کا خطرہ بڑھ جائے گا کیونکہ یورپی ممالک اس اقدام کو اظہار رائے کی مخالفت سمجھتے ہیں۔وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ 1990میں یا اس سے کچھ پہلے سلمان رشدی نے ایک گستاخانہ کتاب(Satanic Verses)لکھی۔پاکستان میں اس کے خلاف بڑا احتجاج ہوا،امریکی سفارت خانے کو نقصان پہنچایا گیا۔لیکن یورپ نے اس احتجاج کو آزادیئ رائے کی مخالفت سمجھا۔اس کا رد عمل اس شکل میں آیا کہ توہین آمیز مواد شائع کرنے کے عمل میں اضافہ ہوگیا۔انہوں نے کہا پاکستا ن تنہا کچھ نہیں کر سلکتا، 50اسلامی ملک خاموش ہیں۔جب تک تمام اسلامی ملکو کی جانب سے متحدہ اور مشترکہ احتجاج سامنے نہیں آتا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔انہوں نے کہا کہ وہ(وزیراعظم) طویل عرصے تک برطانیہ میں رہے ہیں، وہ ان کی نفسیات سمجھتے ہیں۔یورپی یونین کو سمجھانا ہوگا کہ مسلمان اپنے نبی محمد(ﷺ) سے جس طرح محبت کرتے ہیں،اس کا یورپی اقوام کو اندازہ نہیں۔یورپی اقوام اپنے نبیوں سے اس طرح پیار نہیں کرتے جیسا ہم کرتے ہیں۔اس لئے میں تمام مسلم ممالک کے سربراہان کو اس بارے میں خط لکھے ہیں۔میں سب کو یقین دلاتا ہوں کہ اقوام متحدہ سمیت ہر فورم پر اس مسئلے کو اٹھائیں گے۔پہلے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسلاموفوبیا پر بات کی ہے۔دنیا کو بتایا ہے کہ اس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔ face bookکے سربراہ کو خط لکھا ہے۔انہیں بتایا ہے کہ جس طرح ہولو کاسٹ(یہودیوں کے قتل عام کے خاص تصور)کے خلاف بات کرنا ممنوع ہے بلکہ چاریورپی ملک اس جرم میں متعلقہ شخص کو جیل بھیج دیتے ہیں۔ وزیر اعظم نے قوم کویقین دلایا وہ تمام مسلم ممالک کی مدد سے اس مسئلے پر مہم چلائیں گے۔ہولوکاسٹ کی طرز کی قانون سازی کرائیں گے۔یہی درست طریقہ ہے۔مسلم لیگ نون اور نواز شریف نے اپنے اقتدار کے زمانے میں اس مسئلے پر کبھی کوئی بات نہیں کی۔اب وہ بھی پاکستان میں فسادات پھیلانے کے عمل میں بیان بازی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 4پولیس اہلکار جاں بحق اور 800زخمی ہوئے ہیں،40گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا، کروڑوں روپے کی املاک تباہ ہوئیں۔100سڑکیں بلاک کیں۔کئی مریض اسپتال نہیں پہنچ سکے،راستے میں دم توڑ گئے۔ٹی ایل پی کی حمایت میں بھارت سوشل میڈیا پر سرگرم ہو گیا۔ ہم نے 4لالکھ ٹوئیٹر اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کی 380اکاؤنٹس جعلی نکلے۔گزشتہ روز فرانس کے خلاف قومی اسمبلی سے ایک قرار داد منظور کرانے کا اعلان بھی کیا گیا تھا مگر بعد میں کہا گیا کہ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اس مسئلے پر پالیسی بیان دیں گے لیکن وہ طبیعت خراب ہونے کے باعث جانے کی جلدی میں تھے، مختصر تقریر کی اور پالیسی بیان دینے کی ذمہ داری وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری کے سپرد کر کے اجلاس سے چلے گئے۔ وزیر داخلہ کے چلے جانے پر سابق وزیر اعظم راجہ پتویز اشرف نے شدید تنقید کی کہا کہ حکومت کو حالات کی سنگینی کا اندازہ نہیں، وزیر اعظم کو قوم سے خطاب کرنے کی بجائے یہاں قومی اسمبلی آنا چاہیئے تھا،یہ مناسب فورم ہے۔جن لوگوں نے ٹی ایل پی سے معاہدے کئے،ان کو اس کا اختیار کس نے دیا تھا۔معاہدے ہو گئے میں بے خبر ہوں، یہ ایوان بے خبر ہے۔تاہم اسپیکر نے وزیر مذہبی امور کو پالیسی بیان دینے کا موقع دیا،انہوں نے ایوان کو بتایا کہ ٹی پی ایل سے حکومت نے مذاکرات کے دو دور مکمل کر لئے ہیں، تیسرا دو رتراویح کے بعد ہوگا۔اور جو معاہدہ ہوگاایوان میں پیش کردیا جائے گا۔ معلوم ہوا ہے کہ دیگر مذہبی پس منظر رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی مذاکرات کا حصہ ہیں۔ مفتی منیب الرحمٰن اور علمائے اہل سنت کی اپیل پرکراچی سمیت ملک بھر شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال بھی کامیاب رہا۔اس سے بھی حکومت کوسمجھ لینا چاہیئے ٹی ایل پی سے ہمدردی رکھنے والی دیگر جماعتیں بھی موجود ہیں ورنہ شٹر ڈاؤن اور ہڑتال کی اپیل ناکام ہو جاتی۔ مذاکرات کی کامیابی کے یہ معنے ہوں گے کہ حکومت کو کاعدم قرار دینے کا نوٹس واپس لینا ہوگا،نیز مطالبات میں وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا مستعفی ہونا بھی شامل ہے۔ظاہرہے مذاکرات پر بحث جاری ہے، کچھ لو، کچھ دو، کی بنیاد پر حتمی معاہدہ ہوگا۔ٹی ایل پی کی زیر حراست قیادت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شہداء کی تدفین فرانس کے سفیر کی بیدخلی سے پہلے نہیں کریں گے۔اور جنازے لے کر اسلام آباد جائیں گے۔جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ ایسی صورت میں وہ بھی ٹی ایل پی ساتھ دیں گے۔حکومت کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ کہ اسے بیک وقت ایک سے زائد مخالفین کاسامنا درپیش ہے۔ پی ڈی ایم جیسی بھی ہے حکومت کو گرانے کے لئے تازہ دم ہے بشرطیکہ لانگ مارچ کی کال کوئی دوسری پارٹی دے۔ جہانگیر ترین کی شکل میں ایک وزیر اعظم مخالف قوت پی ٹی آئی کے اندر سے بھی سر اٹھا رہی ہے۔30اراکین ایک ساتھ افطار ڈنر کرتے دیکھے جا رہے ہیں،راہیں جداہونے کی باتیں بھی دھیمے سروں سنائی دی جانے لگی ہیں۔یہی وجہ ہے وزیر اعظم عمران خان قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی بجائے براہ راست قوم سے خطاب کو ترجیح دیتے ہیں۔ایوان کا ماحول ابھی تبدیل نہیں ہوا، وہی پرانی تلخی تاحال برقرار ہے جو روز اول دیکھی گئی تھی۔ حالانکہ پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنی نصف مدت گزار لی ہے۔اس مدت میں اپوزیشن سے دعا سلام تو شروع ہو جانی چاہیئے تھی۔ابھی مصافحہ کی ابتداء بھی نہیں ہوئی۔کہا جاتا کہ پہل ہمیشہ حکومت کرتی ہے۔مگر پی ٹی آئی کی حکومت ’زمیں جنبدنہ جنبد گل محمد‘بنی بیٹھی ہے۔ حکومت کو بھی اپنی اداؤں پر غور تو کرنا ہوگا کہ کاروبار مملکت ضد اور انا کا مسئلہ بنا لیا جائے تو الجھنیں بڑھ جاتی ہیں،آگے بڑھنے کے راستے مسدود ہو جاتے ہیں۔یورپی یونین کو سمجھانے کے ساتھ اپنی کابینہ کو بھی سمجھایا جائے۔ اندرون ملک خلفشار کا شکار حکومت بیرون ملک حکمرانوں کو قائل کرنے کی صلاحیت کھو دیتی ہے۔


