حکومت میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے پاکستان میڈیا ڈیلپمنٹ اتھارٹی کاآرڈیننس لانے جا رہی ہے، شیری رحمن
اسلام آباد :پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمن نے کہاہے کہ حکومت میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے پاکستان میڈیا ڈیلپمنٹ اتھارٹی کاآرڈیننس لانے جا رہی ہے،ہم میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کیخلاف نہیں،اس سے زیادہ ریاستی سنسرشپ کا ٹول نہیں دیکھا،یہ ضیا الحق اورمشرف کی قوانین پر مشتمل منی مارشل لاء ہے،خدارا آرڈیننس فیکٹری کو بندکیا جائے،اگر میڈیا بند ہے تو ہم بندہیں،آرڈینس کو پارلیمنٹ میں لایاجائے۔ سینٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آرڈیننس پہ آرڈیننس آرہے ہیں،اس پر سخت تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ایچ ای سی کا بل لا رہی ہے اور نہ ہی آرڈیننس پیش کی جارہی ہے،یہ آرڈیننس کب بڑے ہو کربل بنے گا،فضا میں خوف کی فضا ہے،حکومت ایک اور آرڈیننس لانے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے پاکستان میڈیا ڈیلپمنٹ اتھارٹی کاآرڈیننس لانے جا رہی ہے،اس میں خوفناک سزائیں ڈالی ہیں،ہم میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے خلاف نہیں،میڈیا پر آج قدغن لگائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ضیاء الحق اورمشرف کے مشترکہ مارشل لاء پرمشتمل آڑڈینس لایا جا رہا ہے،اس سے زیادہ ریاستی سنسرشپ کا ٹول نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہاکہ یہ ضیا الحق اورمشرف کی قوانین پر مشتمل”منی مارشل لا“ ہے۔ انہوں نے کہاکہ کیا سب کے سلب سل جائے؟کیا حکومت کی پالیسیوں پر کوئی تنقید نہ کرے؟حکومت ایک طرف جرنلسٹ پروٹیکشن بل لانے کا ڈھونگ رچا رہی ہے دوسری جانب میڈیا کے لب سی رہی ہے،جو بھی تنقید کرتا ہے اس کو غدارقراردیا جاتا ہے،خدارا آرڈیننس فیکٹری کو بندکیا جائے،اگر میڈیا بند ہے تو ہم بندہیں،اس آرڈینس کو پارلیمنٹ میں لایاجائے۔قائد ایوان سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہاکہ کیا آرڈیننس لانا غیرآئینی ہے؟اگر غیر آئینی ہے تو ہم حاضر ہیں،پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے دور میں ہر سال تقریباً 26آرڈیننسز آتے تھے،حکومت نے ملکی معاملات چلانے کیلئے آرڈینسز لائے۔ انہوں نے کہاکہ اسلام آباد صحافیوں کیلئے خطرناک شہر بن گیا ہے تو سندھ میں قتل ہونے والے صحافی انسان نہیں تھے، میڈیا میں کام کرنے والے صحافیوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسد طور پر تشددکی بھر پور مذمت کرتا ہوں،حکومت ملزمان کے قریب پہنچ چکی ہے،ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ بھی کیے جا چکے ہیں،کسی بھی واقعے کے بعد بغیر ثبوت ملکی سکیورٹی پر تنقید افسوس ناک ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملکی سلامتی اداروں کو ہدف تنقید بنانا ففتھ جنریشن وار کاحصہ ہے،جب تک ثبوتوں اور عدالتوں سے نہیں گزریں گے حقیقت کا علم نہیں ہوتا۔ سینیٹر مولانا عبد الغفور حیدری نے کہاکہ اگر دونوں ایوانوں کا اجلاس ہورہا ہو تو آرڈیننس کے بارے میں قانون کیا کہتا ہے،ہمیں کہا جاتا ہے کہ ایوان صدر کو آرڈینس فیکٹری نہ کہا جائے،کہنے کو تو جمہوریت اور جمہوری حکومت ہے مگر اصل میں فسطائیت ہے۔ انہوں نے کہاکہ نامور صحافیوں پر حملے کرنے والے ملزمان اب تک کہاں ہیں؟،کہنے کو تو میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے مگراس کیساتھ جو سلوک ہو رہا اس پر ہم سب کو افسوس ہے،انصاف کو سب کوملنا چاہئے،تحریک انصاف میں سب کچھ ہے مگر انصاف نہیں ہے۔سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ آزادی رائے اور آزادی اظہار معاشرے کو مستحکم رکھنے کیلئے اہم ہے،ادھر ایوان کا اجلاس پروروگڈ ہوتا یے ادھر آڑڈینس آتے ہیں،لوگوں کو سوشل میڈیا کے استمال سے روکنے کی بجائے اس کے استعمال کے بارے میں آگاہی دی جائے،ہمیشہ تنقید کرنے والے صحافیوں پر حملے ہی کیوں ہوتے ہیں،حکومت کے حق میں بولنے والے صحافیوں کو آج تک کسی نے ہاتھ تک نہیں لگایا۔


