جب تک آئی ایم ایف کی سامراجیت پر مبنی ملازم دشمن پالیسوں کا خاتمہ نہیں ہوگا تحریک جاری رہے گی، بلوچستان ایمپلائز الائنس
کوئٹہ:بلوچستان ایمپلائز اینڈ ورکرز گرینڈ الائنس نے بلوچستان حکومت کی جانب 25فیصد الاؤنس کا اعلان نہ کرنے پر 18جون کو صوبے بھر کے ملازمین کے کوئٹہ میں اجتماع کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ ہماری تحریک اسوقت تک جاری رہے گی جب تک تنخواہوں میں اضافے سمیت دیگر مطالبات حل اور آئی ایم ایف کی سامراجیت پر مبنی ملازم دشمن پالیسیوں کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ یہ بات بلوچستان ایمپلائز اینڈ ورکرز گرینڈ الائنس کے رہنماوں عبدالمالک کاکڑ،حبیب الرحمن مردان زئی، داد محمدبلوچ، عبدالسلام زہری، عبدالخالق بلوچ،قاسم خان، پروفیسر حمید،علی بخش جمالی اور دیگر نے بدھ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایمپلائز اینڈورکرز گرینڈ الائنس کے پلٹ فارم سے بلوچستان بھر کے ملازمین نے 29 مارچ سے دس اپریل تک اپنے جائز اور تسلیم شدہ مطالبات کے حل کے لئے ایک تاریخی پرامن اور جمہوری تحریک چلائی، کوئٹہ بار کی بے جا مداخلت سے تحریک کو اس وقت عدالت عالیہ میں ایک درخواست کے ذریعے لے جایا گیاجب گرینڈ الائنس اپنے مطالبات کے حل کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا عدالتی احکامات کی روشنی میں گرینڈ الائنس کا دھرنا ختم ہوا حکومت نے 25فیصدڈسپیریٹی ریڈکیشن الاؤنس سمیت دیگر متفق شدہ مطالبات ایک مہینے کے اندر حل کرنے کے منٹس اور دستاویزات عدالت میں جمع کروائے ساتھ میں حکومت نے یہ عہد کیا کہ ہر پندرہ دن کی پیشرفت کی رپورٹ بھی معزز عدالت میں جمع کروائے گی ایک ماہ گزرنے کے باوجود حکومت کسی ایک نکتے پر بھی آگے نہیں بڑھ پائی فوری حل طلب ایشوز سے منہ پھیر کر ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی کی انتہا کی جارہی ہے مختلف اقدامات سے توہین عدالت کے مرتکب ہوتے ہوئے عدالت کی طرف سے میسر وقت سے حکومت اور بیوروکریسی کی بے حسی کے ہنی مون پیریڈ کی طرح محظوظ ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی اور دیگر صوبوں پنجاب سندھ اور خیبر پختونخواکے ملازمین نے25فیصد ڈسپیریٹی ریڈیکشن الاؤنس کے ساتھ تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ اس بجٹ میں وصول کیا جبکہ بلوچستان حکومت ریاستی مشینری اور سماج کو چلانے والے ملازمین اور محنت کشوں کو یہ اضافہ دینے سے نا صرف انکاری ہے بلکہ آئی ایم ایف کے ایجنڈے پر چلتے ہوئے مختلف ہتھکنڈوں سے ملازمین کے حقوق پر حملہ آور ہے درجہ چہارم سے لے کر بیس گریڈ تک کے ملازمین کی ترقیوں میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں حکمرانوں کی خوشنودی حاصل کرنے والے خوش آمدی بیوروکریٹ کمزور پیشوں سے وابستہ ملازمین کے حقوق غصب کر رہے ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔ انہوں نے کہا کہ فروری میں بلوچستان کے ملازمین نے ہر اول دستے کے طور پر دیگر صوبوں کے محنت کشوں کے ساتھ مل کر دارلحکومت میں گرفتاریوں لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے شیلز کے سائے میں اپنی جدوجہد کے دم پر وفاقی ملازمین کے لیئے تنخواہوں میں اضافہ حاصل کیا وفاق کے بعد وفاقی وزراء پرویز خٹک، علی محمد خان اور شیخ رشید کی ضمانت پر پنجاب اور پختونخواہ کو اضافہ دلایا گیا مگر بلوچستان کے محنت کش ملازمین اپنے لاوارث صوبے کی طرح وفاق اور دیگر صوبوں کے موافق کسی بھی حق سے محروم رکھے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ توقع یہ کی جارہی تھی کہ روایتی طور پر ہر تین سال بعد اس سال بھی پے سکیل روائز کرکے تمام ایڈھاک الاونسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرکے اس پر اضافہ دیا جاتا لیکن ایسا نا کرکے پاکستان بھر کے ملازمین میں پہلے سے موجود مایوسی اور بے چینی میں سخت اضافہ کیا گیا جبکہ بلوچستان کے ملازمین کو وفاق اور دیگر صوبوں کے ملازمین کے مقابلے میں سوتیلے رشتے کا احساس دلا کر مغائرت کی کھائی میں دھکیل دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان گرینڈ الائنس اپنے صوبے کے ملازمین کو کسی بھی صورت تنہا نہیں چھوڑے گا صوبے کے حکمرانوں اور بیوروکریسی نے خط کھینچ کر صف بندی کرلی ہے گرینڈ الائنس اپنے تحریک کے اس نئے اور بلند تر مرحلے پر ملازمین کے حقوق کے حصول اور دفاع میں ہر جمہوری راستہ اپنائے گی، انہوں نے کہا کہ گرینڈ الائنس بلوچستان بھر کے ملازمین کو 18جون یعنی بجٹ کے دن کوئٹہ پہنچنے کی ہدایات جاری کرتی ہے تاکہ 25 فیصد ڈسپیریٹی رڈیکشن الاؤنس، تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ اور دیگر مطالبات کو جدوجہد سے حاصل کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ گرینڈ الائنس کی تحریک کے اس نئے مرحلے کا آغاز بجٹ والے دن بہت بڑی سرگرمی سے کیا جائے گا اور اس نئے مرحلے کی سرگرمی کا مومینٹم ہر آئے دن سخت سے سخت تر ہوگا ماضی قریب سے سیکھتے ہوئے یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی کہ جب تک تنخواہوں میں اضافے سمیت دیگر مطالبات حل نہیں ہوتے اور آئی ایم ایف کی سامراجیت پر مبنی ملازم دشمن پالیسیوں کا خاتمہ نہیں ہوتا ان اھداف کے حصول کے لیئے گرینڈ الائنس کی قیادت اور ممبر ہر قسم کی قربانی مشکلات اور اذیت کا سامنا کرنے کے لیئے ہمہ وقت تیار ہے۔


