امریکہ کو اڈے دینے کی صورت میں طالبان ہمارے خلاف ہو جائیں گے،مشاہد حسین سید
لاہور :پاکستان کی حکومت‘ حزب اختلاف اور اسٹیبلشمنٹ میں اس امر پر مکمل اتفاق پایا جاتا ہے کہ ہم افغانستان کے حوالے سے کسی نئی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ امریکہ افغان جنگ میں شکست کھا چکا ہے مگر اپنی خفت مٹانے کے لیے اس کا ملبہ کسی دوسرے ملک پر ڈالنا چاہتا ہے۔ امریکہ کو اڈے دینے کی صورت میں طالبان ہمارے خلاف ہو جائیں گے۔ چین کی ابھرتی ہوئی اقتصادی اور عسکری طاقت سے خائف امریکہ نے اس خطے میں اپنے حواری نریندرا مودی کو چین کے خلاف استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ان خیالات کا اظہار معروف سیاسی رہنما‘ بین الاقوامی امور کے ماہر اور سینیٹ آف پاکستان کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین سینیٹرمشاہد حسین سیّد نے ایوان قائداعظمؒ فورم میں ”خطے کی موجودہ صورت حال اور ہماری حکمتِ عملی“ کے موضوع پر منعقدہ نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نظریہئ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام یہ نشست ایوان قائداعظمؒ، جوہر ٹاؤن لاہور میں چیف جسٹس (ر) اعجاز نثار کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ اس موقع پر نظریہئ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین میاں فاروق الطاف‘ بیگم مہناز رفیع و دیگر موجود تھے۔ نشست کی نظامت کے فرائض نظریہئ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے انجام دیے۔ سینیٹرمشاہد حسین سیّد نے اپنے خطاب میں کہا کہ در حقیقت امریکہ پاکستان میں سی آئی اے کا ایک اسٹیشن قائم کرنے کا خواہشمند ہے جہاں سے وہ افغانستان کے حالات پر نظر رکھ سکے۔ امریکہ اگرچہ افغانستان سے اپنی فوجیں نکال رہا ہے مگر اس خطے کی اہمیت کے پیش نظر یہاں اپنا مستقل عمل دخل چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 29 فروری 2020ء کو امریکہ اور طالبان کے درمیان جو معاہدہ ہوا‘ وہ اس لحاظ سے انتہائی منفرد ہے کہ یہ معاہدہ ایک ریاست اور ایک نان سٹیٹ ایکٹر کے درمیان طے پایا۔ اس تناظر میں آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ افغانستان میں طالبان کس قدر اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نہ صرف افغانستان بلکہ اس کے ہمسایہ ممالک کی بھی نگرانی کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر جوبائیڈن اور روسی صدر پیوٹن کی حالیہ ملاقات میں بھی افغانستان کا معاملہ زیر بحث آیا تھا۔ روس نے امریکی عزائم بھانپتے ہوئے وسطی ایشیاء کی ریاستوں کو خبردار کر دیا کہ وہ امریکہ کو اڈہ دینے کی غلطی نہ کریں۔ حکومت پاکستان کی طرف سے صاف انکار کے بعد اب امریکہ نے مشرقی وسطیٰ میں کسی جگہ اڈہ حاصل کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان ملاقات میرے نزدیک نشستن‘ گفتن‘ برخاستن سے زیادہ کچھ نہ تھی۔ امریکہ نے افغان حکومت پر واضح کر دیا ہے کہ افغانستان کے اندرونی معاملات اب وہ خود سنبھالیں‘ البتہ ہم آپ کی امداد جاری رکھیں گے۔ سینیٹرمشاہد حسین سیّدنے کہا کہ اگر امریکی صدر پاکستانی وزیراعظم کو فون نہیں کرتا تو کوئی بات نہیں۔ امریکہ کو خود پاکستان کی ضرورت ہے۔ جہاں تک جوبائیڈن کا تعلق ہے‘ وہ پاکستان کی اہمیت کو بخوبی سمجھتا ہے۔ دسمبر 2008ء میں اس نے کابل میں حامد کرزئی سے ملاقات کی۔ جب حامد کرزئی نے پاکستان کے متعلق اپنے منفی خیالات کا ظہار کیا تو جوبائیڈن نے اسے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا کہ امریکہ کے لیے افغانستان کی نسبت پاکستان سو گنا زیادہ اہم ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین سیّد نے کہا کہ 9/11 کے بعد امریکہ نے عراق‘ افغانستان اور لیبیا کی جنگوں میں 6.5 ٹریلین ڈالر ضائع کئے ہیں جس کے امریکی معیشت پر بُرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اب وہ دیگر معاملات سے اپنی توجہ ہٹا کر ہمارے عظیم دوست چین پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ایک برطانوی تھنک ٹینک نے عالمی حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ پیشین گوئی کر دی ہے کہ اگر چین اسی رفتار سے ترقی کرتا رہا تو 2028ء میں دنیا کی سب سے بڑی معاشی قوت بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اب طاقت کا توازن مغرب سے مشرق کی جانب منتقل ہو رہا ہے جس کے نتیجہ میں مستقبل قریب میں ایشیائی ممالک کی عالمی امور میں اہمیت بہت بڑھ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 26 نومبر 2011ء کو پاک افغان بارڈر پر قائم ہماری سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی حملے کے نتیجہ میں 24 پاکستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد ہم نے افغانستان میں موجود نیٹو کی افواج کے لیے سامان کی ترسیل روک دی تھی۔ علاوہ ازیں کئی دیگر معاملات میں بھی امریکہ سے تعاون ختم کر دیا تھا۔ دراصل اس واقعہ نے پاک امریکہ تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کئے تھے۔ بعد ازاں ہم نے امریکہ سے اپنے تعلقات کی نئی حکمت عملی طے کی تھی۔ سینیٹر مشاہد حسین سیّد نے کہا کہ بھارت اور چین کے درمیان دو مرتبہ تصادم ہو چکا ہے اور مودی سرکار کو سمجھ آ گئی ہے کہ یہ سودا کتنا مہنگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے صدارتی انتخابات میں ڈاکٹر ابراہیم رئیسی کی کامیابی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے امریکی صدر سے ملاقات کے امکان کویہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ وہ وعدہ خلافی کا مرتکب ہوا ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین سیّد نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان نے بھارت کے بطور ریاست دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد پر مبنی جو ڈوزئیر تیار کیا ہے‘ اس میں واضح طور پر درج ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی تربیت دینے والے 87 تربیتی کیمپ آپریٹ کر رہی ہے جن میں سے 66 افغان سرزمین پر جبکہ 21 خود بھارت کے اندر قائم ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یہ رپورٹ پیش کی گئی ہے کہ افغانستان میں مختلف تنظیموں کے تقریباً ساڑھے چھ ہزار پاکستان مخالف دہشت گرد موجود ہیں۔ میں نے پاکستان کی وزارت خارجہ سے کہا کہ اتنے ٹھوس ثبوتوں کی موجودگی میں تو ہم عالمی برادری کے سامنے بھارت کے خلاف ڈٹ کر بات کر سکتے ہیں مگر مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے فارن آفس میں اس حوالے سے کچھ کنفیوژن موجود ہے وگرنہ بھارت کے ریاستی دہشت گردی میں کردار کی تشہیر زیادہ مؤثر انداز میں کی جا سکتی ہے۔ قبل ازیں بھارت ریاستی دہشت گردی کا یہ ہتھیار سری لنکا اور نیپال وغیرہ کے خلاف بھی استعمال کر چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت لامحدود مدت کے لیے کشمیریوں کو اپنا غلام بنا کر نہیں رکھ سکتی۔ وہ بھارت نوازکشمیری قیادت سے مذاکرات پر مجبور ہوا ہے اور وہ دن دور نہیں جب اسے حریت کانفرنس کی قیادت سے بھی بات کرنا پڑے گی۔ اس ضمن میں پاکستان کا موقف اصولوں پر مبنی ہے کہ اقوام متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو ان کا حق خود ارادیت دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین اور دیگر دوست ممالک سے بہترین تعلقات کے طفیل پاکستان کو ایک طرح کی تزویری کشادگی حاصل ہوئی ہے اور میرے خیال میں یہ مستقبل قریب میں برقرار رہے گی۔ پاکستان کو اپنی یہ پوزیشن مسئلہ کشمیر حل کروانے کے لیے استعمال کرنی چاہیے۔ چیف جسٹس (ر) اعجاز نثار نے صدارتی کلمات میں کہا کہ پاکستان جغرافیائی لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل ہے اور ہمارے پالیسی سازوں کو چاہیے کہ اردگرد کے حالات پر گہری نظر رکھتے ہوئے پاکستان کے بنیادی اور طویل المعیاد مفادات کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ میاں فاروق الطاف نے سینیٹر مشاہد حسین کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خطے کی صورتحال بالخصوص افغان ایشو پر بصیرت افروز خطاب کیا ہے۔ ان کی گفتگو سے سوچ بچار کے لیے کئی راہیں سامنے آئی ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اس وقت جنوب مشرقی ایشیاء عالمی طاقتوں کی دلچسپی اور توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ ان حالات میں دانش مندی کا تقاضا ہے کہ ہم خارجہ پالیسی میں توازن اور اعتدال کی راہ اختیار کریں اور وہ غلطیاں دہرانے سے اجتناب کریں جن کے باعث پاکستان کو دہشت گردی کے پے در پے واقعات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بیگم مہناز رفیع نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی وحدت اور سلامتی کو کسی بھی دوسری چیز پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے اور وطن عزیز کے مفادات کے تحفظ کے لیے حکومت اور حزب اختلاف کو مشترکہ حکمت عملی طے کر کے اس پر خلوص دل سے عمل پیرا ہو جانا چاہیے۔ #/s#


