1945کاغرور2021میں ٹوٹا
جاپان کے دوشہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرانے کے بعد امریکہ کے سر میں عالمی طاقت ہونے کاجو نشہ سرایت کر گیاتھا اور اس نشے کے کی بناء پروہ اس دوران تکبر اور غرور کا مظاہرہ کرتا رہا، اس کا عبرت ناک انجام 76سال بعد دنیا نے دیکھ لیا۔اب امریکی عوام امریکی مقتدرہ کا محاسبہ کر رہے ہیں واشنگٹن پوسٹ نے 2ہزار صفحات پر مشتمل رپورٹ شائع کی ہے جس میں گزشتہ20سال میں کئے گئے اخراجات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال پوچھاہے:2ہزار248 امریکی فوجی ہلاک، 90ہزار زخمی کرانے اور اتنی خطیر رقم(3ہزارارب ڈالرکے لگ بھگ خرچ کرنے کے بعد کیا پایا؟ جبکہ نیٹو افواج کے بھی 1148فوجی مارے گئے۔ سابق صدرڈونلڈ ٹرمپ اس شکست کا سارا ملبہ اپنے جانشین جو بائیڈن پر ڈالتے ہوئے کہہ رہے:”یہ امریکہ کی سیاسی، عسکری اور نفسیاتی شکست ہے“۔جبکہ صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ:”طویل جنگ اگر مزید جاری رکھی جاتی تب بھی اس کا یہی انجام ہونا تھا“۔لیکن وہ بھی قوم سے پورا سچ بولنے کی ہمت نہیں کر سکے۔ یہ افسوسناک جنگ 20 سال پہلے اس وقت کے امریکی صدر جاج ڈبلیو بش (بش جونیئر)نے شروع کی تھی جب افغان حکومت نے امریکہ کو مطلوب القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کردیاتھا۔آج امریکی مقتدرہ اس شکست پر اس قدر نادم اس لئے دکھائی دیتی ہے کہ اسے انہی افغان طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالنا پڑے ہیں جنہیں وہ پتھر کے زمانے میں پہنچانے کا دعویٰ کرتے ہوئے پورے فو جی جاہ و جلال کے ساتھ حملہ آور ہوئے تھے۔یاد رہے یہ افغان طالبان20سال پہلے امیرالمومنین ملا عمر کی کابینہ میں شامل تھے۔امریکہ نے دوحہ میں جس افغان شخصیت ملا عبدالغنی برادرکے ساتھ مذاکرات اور افغانستان سے امریکی افواج کے(11ستمبرتک مکمل) انخلاء کا معاہدہ کیا ہے،وہ امیرالمومنین ملاعمر کے نائب کی حیثیت سے کابینہ کاحصہ تھے۔اس میں دو رائے نہیں کہ اس شکست کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے۔اب اس خطے کے تین ہمسایہ ممالک ایران، پاکستان اور افغانستان آزاد اور خود مختار حیثیت میں اپنی معیشت کو مشکلات سے نکالنے کا فیصلہ کرنے کے قابل ہوں گے۔ماضی میں جھانکا جائے تو پاکستان اور ایران کے درمیان قدرتی گیس کی خریداری کا معاہدہ پی پی پی کی حکومت نے اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں کیاتھالیکن مسلم لیگ نون اور پی ٹی آئی کی حکومت 8 برسوں میں اس پر عمل نہ کر سکی۔اس کی وجہ صرف امریکہ کاحکم تھا۔عدم تعمیل کی پاکستان میں ہمت نہیں تھی۔2001 میں ایک امریکی فون کال پر پاکستان کی جا نب”دوست“ ہونے والاجواب بھی اسی مجبوری کا تسلسل تھا۔ اب تینوں ہمسایہ ملک تجارت اور سیاحت سمیت ہر شعبے میں اپنی مرضی سے معاہدے اور ان پر عمل کرسکیں گے۔ایران نے عوام کی مدد سے امریکہ کے مسلط کردہ چوکیدار شہنشاہ ایران کو ملک سے بھگا کرچار دہائی پہلے امریکی تسلط سے نجات حاصل کی تھی۔ جبکہ پاکستان اور افغانستان حالیہ امریکی پسپائی کے بعد آزاد ہوگئے ہیں۔زمینی حقائق اسی سمت اشارا کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ بھارت بھی جلد ہی امریکی مفادات کی کی جنگ سے علیحدگی اختیار کر لے گا۔یہ بھی سچ ہے کہ پاکستان میں بعض حلقے اس شکست و ریخت سے خوفزدہ ہیں، وہ سمجھتے ہیں پاکستان مستقبل قریب میں ایک بار پھر اسی قسم کی یا اس سے بھی بری اقتصادی غلامی کا سامنا کر رہا ہوگا لیکن وہ صرف خوف کا اظہار کرتے ہیں، کوئی متبادل راستہ تجویز نہیں کرتے۔وہ عظیم انقلابی سیاسی رہنماؤں کا یہ قول فراموش کر دیتے ہیں کہ”سیاست معیشت کے تابع ہوتی ہے“۔ملکی معیشت ابتر ہونے کا لازمی نتیجہ یہی نکلتا ہے کشکول ہاتھوں میں اٹھائے ہردروازے پر صدا لگانی پڑتی ہے۔ قرضہ دینے والے ملکوں اور بینکوں کی غلامی قبول کرنا پڑتی ہے۔قدرت نے دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح پاکستان کو وافر مقدار میں وسائل فراہم کئے ہیں۔ ان وسائل سے استفادہ نہ کرنے کا حشر لیبیا جیسا ہوتا ہے۔چند خواتین کو ”محافظ“ کی یونیفارم پہنا کر اپنے محل میں کھڑاکرنا لالچی حملہ آوروں سے تحفظ فراہم نہیں کرسکتا۔تاریخ یہی کہتی ہے کہ ہر شعبے میں دشمن کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کاحصول ناگزیر ہے۔ وسائل سے بروقت استفادہ نہ کرنا آئندہ نسلوں کی مشکلات میں اضافہ کرنے کے مترادف ہے۔ صوبہ بلوچستان پانی کی قلت کا الزام سندھ پر عائد کرتا ہے کہ اس کے حصہ کا پانی سندھ چوری کر رہا ہے۔ مان لیتے ہیں اس الزام میں صداقت ہے،لیکن اپنے صوبے میں ڈیم تعمیر کئے جانے کی مخالفت کو کیاکہیں گے؟وندر ڈیم کا سنگ بنیاد 60کی دہائی میں رکھاگیا تھا، آج تک تعمیر نہ ہونے میں آئندہ نسلوں کا کونسا مفاد پوشیدہ تھا؟کیا یہ ڈیم اس علاقے میں آباد بلوچ عوام کی ترقی اور خوشحالی میں اضافہ نہ کرتا؟ قحط سالی کے دنوں میں یہاں ویرانی کے سائے منڈلانے لگتے ہیں۔لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔صوبے میں جہاں بھی قدرت نے پانی ذخیرہ کرنے کی سہولت فراہم کی اس سے استفادہ کیا جائے،ورنہ کفرانِ نعمت کی سزا ملتی ہے۔اسی طرح دیگر وسائل بھی عوامی مفاد میں استعمال نہ کرنا عوام دوستی نہیں کہلائے گا۔وسائل بروقت استعمال نہ ہونے کی صورت میں غربت، جہالت، بیماری اور بیروزگاری کوفروغ ملتا ہے۔بلوچستان کو اَللہ نے وسائل سے مالامال کیا ہے،محنتی اور جفا کش عوام،آدھے پاکستان جتنی اراضی، تانبا،سونا اور چاندی سمیت قیمتی معدنیات،700کلومیٹر طویل ساحل،اورساحل سے ملحقہ 500 ناٹیکل میل تک وسیع سمندربلوچستان کی حدود میں شامل ہے۔ سمندر اپنی جگہ خودایک دولت کا منبع ہے۔اسکینڈے نیوین ممالک(سویڈن، ناورے، ڈنمارک اور نیدر لینڈ)کے پاس جو دولت ہے اس کا بڑا حصہ وہ پیٹرول ہے جو ان کے سمندر سے انہیں ملاہے، اس کی مقدار سعودی عرب کے مساوی ہے۔ ”نیدر لینڈ“کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ اس کے پاس نہ ہونے کے برابر زمین ہے۔ بلوچستان اپنے وسائل سے استفادہ کرے،ترقی اور خوشحالی کے دروازے کھل جائیں گے۔18ویں ترمیم کے بعدصوبائی اختیارات میں جو اضافہ ہوا ہے، انہیں استعمال کیا جائے۔ ریکوڈک کاپر اینڈ گولڈ پروجیکٹ جیسے معاہدے نہ کئے جائیں،معاہدے کی شرائط پر سختی سے عمل کرایا جائے، صرف کاپر (تانبا)بیرون ملک لے جانے کی اجازت دی جائے۔سونا، چاندی اور دیگر قیمتی معدنیات پروجیکٹ کی حدود میں الگ کرکے بلوچستان کے حوالے کی جائیں،سونا چاندی معاہدے کی رو سے کمپنی باہر لے جانے کی مجاز نہیں۔یہ عمل بلوچعوام کی دولت غصب کرنا ہے۔اس لئے کہ آئین کی روسے معدنی وسائل صوبائی ملکیت ہیں۔ آئندہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ جعلی ڈومیسائل رکھنے والے کسی”افتخار چوہدری“ کا بیٹا معدنی وسائل کا ڈائریکٹر نہ بن سکے۔محض نعرے بازی کچھ نہیں دے سکتی۔


