اسکول سے باہر والوں کی بجائے اسکولوں کی فکر کیجئے
وزیراعظم عمران خان نے اگلے روز ریاست کی نااہلی،غفلت اور عدم توجہی پر تأسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے آج بھی پاکستان میں دو کروڑ بچوں کا اسکول نہ جانا بڑا المیہ ہے!،انہیں یاد ہوگا کہ یہی جملہ اسلام آباد کے 126روزہ دھرنے کے حاضرین سے ان کے شبینہ خطاب کا اہم حصہ تھا۔حیران کن بات یہ ہے کہ اپنے تین سالہ اقتدار کے بعد بھی یہی جملہ ان کی زبان پر موجود ہے۔ وہ آج بھی کنٹینر والی تقریر دہراتے ہوئے قوم سے کہہ رہے ہیں:
”ماضی کی حکومتوں نے تعلیم کے فروغ کے لئے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی“۔
حالانکہ اپنی تین سالہ کارکردگی بیان کرنے کے دوران اسلام آباد کی تقریب کے شرکاء کو آگاہ کرتے کہ ان دو کروڑ بچوں میں سے ایک کروڑ 20لاکھ بچے اسکولوں میں داخلہ لے چکے ہیں اوران میں اکثریت بچیوں کی ہے۔اقتدار کے تین سال مکمل ہونے کے بعد قوم سے کہنا کہ ”دو کروڑ بچے اسکول نہیں جا رہے“، اعتراف جرم ہے۔ذمہ داری پوری نہ کرنے والی حکومتوں میں پی ٹی آئی کے تین سال بھی شامل ہیں۔تاریخ میں شیر شاہ سوری کی بیمثال کارکردگی پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اسے تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے۔اس کا نام فرید شاہ تھا،اس کے دادا ابراہیم ملازمت کی تلاش میں بہلول لودھی کے عہد حکومت میں برصغیرآئے، انہیں پنجاب میں ملازمت مل گئی۔درمیانے طبقہ سے تعلق رکھنے والے شیرشاہ سوری نے ظہیرالدین بابر کے بیٹے ہمایوں کو قنوج کی لڑائی میں شکست دے کر 1540میں اقتدار سنبھالا۔اور 1545میں جنگ کے دوران زخمی ہوا،اس نے قلعہ تو فتح کرلیا مگر جان کی بازی ہار گیا۔ 5 سالہ حکومت کے دوران دیگر کارناموں کے ساتھ کلکتہ سے پشاور تک ”گرانڈ ٹر نک روڈ“ تعمیر کی (جو آج بھی جی ٹی روڈ کے نام سے مشہور ہے)، سڑک کے کنارے سایہ داردرخت لگوائے، تھوڑے تھوڑے فاصلے پر سرائے تعمیر کیں، ہر سرائے میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے لئے الگ انتظام ہوتا تھا۔ہر سرائے کے قریب ایک مسجد اور کنواں ہوتاتھا۔اس کی وجہ سے صنعت و حرفت کوفروغ حاصل ہوا۔امن امان کی صورت حال مؤرخ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔۔۔۔”شیر شاہ کے عہد میں ایک لاغر بڑھیا بھی سونے کے زیورات ایک ٹوکری میں رکھ کربے خوف و خطر سفر کر سکتی تھی“۔۔۔۔ وزیر اعظم کبھی اپنی حکومتی مصروفیات سے وقت نکال کر برصغیر کی تاریخ کا مطالعہ کریں،کم ازکم شیر شاہ سوری کے پانچ سالہ دور حکومت سے رہنمائی حاصل کریں۔یہ جاننے کی کوشش کریں کہ خرابی کہاں ہے کہ مینار پاکستان بھی محفوظ نہیں؟سابق سفیر کی بیٹی بہیمانہ انداز میں قتل کر دی جاتی ہے اور قاتل کو سزا دینے کی بجائے امریکی سفیر سے رابطہ کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔شیر شاہ سوری کی کارکردگی سے آگہی نوجوانوں کے دلوں میں بھی پرانے فرسودہ نظام سے لڑنے کا حوصلہ پیدا کرے گی۔اس مثال سے حکمرانوں کی ایک بڑی غلط فہمی بھی دور ہو جائے گی،وہ جان سکیں گے کہ افغانستان سے صرف محمود غزنوی اور شہاب الدین غوری ہی نہیں آئے تھے، شیر شاہ سوری کا خاندان بھی آیا تھا جس نے اپنی خداداد صلاحیتوں سے کام لیا اور اس وقت کے پسماندہ دور میں ترقی یافتہ ریاست کی بنیاد رکھی تھی۔ضرورت ہے کہ حکمران خود بھی اپنی معلومات میں اضافہ کریں اور تعلیمی نصاب سے بھی ناکام حکمرانوں کی خوش آمدپر مبنی قصے ہٹائے جائیں۔قوم کو بتایا جائے بنگلہ دیش میں آبادی پر کیسے قابو پایا گیا؟بچیوں کی تعلیم اور ان کے سماجی شعور میں بہتری کیسے آئی؟وہاں مختصرعرصے میں کم عمری کی شادی سے جان چھوٹنے کے اسباب کیا ہیں؟ریاست نے ماضی میں ایسی کون سی غلطی کی تھی کہ پاکستان کے صنعت کار بنگلہ دیش منتقل ہوگئے۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ گرامین بینک اور پاکستانی بینکوں کے طریقہئ کار میں کوئی ایسا بنیادی فرق موجود ہے جو بنگلہ دیش جیسی تبدیلی کے راستے میں حائل ہے؟اس حوالے ایک شکایت عوام کے ذریعے معاشرے میں گردش کر رہی ہے کہ فلاح کے نام پر کام کرنے والے بینک ایک سال میں قرضے کی واپسی کے ساتھ ہی 20فی صد سود بھی وصول کرتے ہیں۔لیکن یہ بھی واضح رہے کہ اس خامی کے باوجود دیہی بینک چھوٹے پیمانے پردیہی اور کچی آبادیوں رہائش پذیرخواتین کو معاشی مشکلات سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔اگر اضافی رقم وصول نہ کریں تو عملے کی تنخواہ اور دیگر اخراجات کی ادائیگی نہیں کی جاسکتی۔ حکومت نے 5لاکھ تک قرضہ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے مگر مالی سال کے دو ماہ گزرنے کے باوجود زمین پر کہیں ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ابھی تک طریقہئ کار کی نوک پلک سنواری جا رہی ہے۔ ورنہ چہل پہل دیکھنے کو ملتی، ہوٹلوں اور گلی کوچوں میں اس بارے تذکرہ شروع ہو جاتا۔ وزیر خزانہ نے ابھی تک یہ نہیں کہا کہ اسکیم پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے، وہ صرف اس کی خوبیاں بیان کرتے ہیں اور پریس کانفرنس کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔انہیں وقت کی اہمیت کا شاید اس قدر احساس نہیں جتنا کہ ایسی ہنگامی صورت حال میں ہونا چاہیئے۔ضرورت ہے کہ طریقہئ کار سہل بنایا جائے، گرامین بینک کی طرح چار پانچ افراد کے گروپ کو قرضہ دیا جائے جو ایک دوسرے کے ضامن ہوں۔اگر اس گروپ کا ایک ممبر کسی جائز وجہ سے قرض کی ادائیگی بروقت نہ کر سکے تو دیگر ممبرز اس کی مدد کر سکیں۔حکومت کو چاہیئے کہ تعلیمی شعبہ کی حالت میں مثبت تبدیلی نہ ہونے پر صرف نوحہ خوانی نہ کرے، عملی اقدامات کئے جائیں۔اس مقصد کے لئے سرسید احمد خان اور ان کے رفقاء کا جذبہ درکار ہے۔حکومت آبادی کے قریب دو کنال زمین (1200 مربع گز) بلامعاوضہ فراہم کرے، انتہائی کم فیس پر اساتذہ اپنی کارکردگی کے بل پر طلباء اور طالبات کی بڑی تعداد کوزیور تعلیم سے آراستہ کرتے نظر آئیں گے۔دوسری صورت یہ ہے کہ جن سرکاری اسکولوں میں اساتذہ موجود نہیں، وہاں قریبی آبادی میں تعلیم سے دلچسپی رکھنے والے سینئر ز کودعوت دی جائے، انہیں بچوں کو بٹھانے کے لئے سایہ دار جگہ فراہم کر دی جائے تعلیم ہر گھر تک پہنچ سکتی ہے۔یاد رہے یہ لوگ مخیر حضرات کے رحم و کرم پر غیر یقینی صورت حال میں اپنی نیک نامی کھونے کی ہمت نہیں رکھتے۔انہیں عزت نفس اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے۔وفاقی یاصوبائی حکومت اس افرادی قوت سے کام لینا چاہے تو تعلیم کے فروغ کے لئے بہت کچھ کرنے اور کئے جانے کی گنجائش موجود ہے۔ابتداء میں استاد کو 20x30sq.ftکے کم ازکم 6کمرے اور دوواش روم درکار ہوں گے۔باقی ضرورتیں یہ خود پوری کر لیں گے۔ بڑی مجبوری اسکول بلڈنگ ہے،یہ مجبوری دور کر دی جائے، نتائج آنا شروع ہو جائیں گے۔سرکاری اساتذہ یہ کام نہیں کر سکتے۔انہیں گھوسٹ رہنے کا عادی بنا دیا گیا ہے۔انسان بننے میں کافی وقت لگے گا۔


