سوچنا ہوگاخرابی کی جڑ کہاں ہے؟

اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتاکہ پاکستان کو بیک وقت ایک سے زائد مسائل درپیش ہیں۔ لیکن دنیا میں ایسا کونسا ملک ہے جسے مسائل کا سامنا نہیں؟امریکہ کے بارے میں کل تک بیشتر پاکستانیوں کی زبان پر قصیدے موجود تھے، لیکن آج ان کی تعداد بڑھنے کی بجائے کم ہو گئی ہے۔ امریکی معاشرے میں غیر ملکیوں کو جذب کرنے کی صلاحیت میں بتدریج کمی آئی ہے۔غیر مقامی لیبر سستی سمجھی جاتی ہے،مالکان کمترین معاوضہ پر انہیں ملازمت دینا مقامی کے مقابلے میں زیادہ پسند کرتے ہیں۔لیکن پھر بھی لوگ بیرون ملک جانے کوترجیح دیتے ہیں۔بیرون ملک جانے والے پاکستان کے گھر والے کی تنخواہ پاکستانی کرنسی میں بتاتے ہیں اور یہ با آسانی لاکھوں رپے بن جاتی ہے لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ ان کا بھائی یا بیٹا ناشتے میں جو بریڈ استعمال کرتا ہے اس کی قیمت ڈیڑھ ڈالر(پاکستانی ڈھائی سو روپے کے لگ بھگ)ہے۔وہ ہر چیز ڈالر میں خریدتا ہے۔اپنی فیملی کو مدتوں مس کرتا ہے، نہ بلا سکتاہے اور نہ ہی خود ملنے آسکتا ہے۔پردیس میں بھی ترقی اور خوشحالی کی منازل طے کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔اتنی تعداد تو پاکستان میں خوشحال مل جائے گی۔پاکستان میں غیر ہنر مند ورکر کی کم سے کم تنخواہ20ہزار ہے اوروہ اسے 60،65روپے میں ناشتہ معہ چائے کر لیتا ہے۔لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ ایم اے (اور ایم بی اے)پاس لوگوں کو بھی کنٹریکٹ سسٹم کے تحت 20،25ہزار روپے سے زیادہ نہیں دیتے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔محکمہ محنت کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے۔دیگر محکموں کی حالت بھی قابل رشک نہیں۔لیکن آدمی اپنے خاندان سے بچھڑنے کے صدمات سے محفوظ ہے۔واضح رہے پاکستان میں ابھی تک خاندان ایک معاشرتی اکائی کے طور پر قائم ہے، یورپ کی طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہوا۔سماجی اقدارمیں دراڑ نہیں پڑی۔اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اگر غربت کی بنیادی وجہ سمجھ میں آجائے تواس خرابی کی اصلاح ممکن ہے۔مانا کہ ہر شخص بڑے محلات میں رہائش پذیر نہیں ہوگا،لیکن فٹ پاتھ پر سونے والوں کو ان کی ضرورت کے مطابق چھت تو فراہم کی جا سکتی ہے۔گلی کوچوں میں گھومنے والے بچوں کو تعلیم دینا اور انہیں بہتر شہری بنانا کس کی ذمہ داری ہے؟اس سوال کا جواب ہے:”ریاست کی ذمہ داری ہے!“،اور مزید کریدا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ریاست کا سارا انتظام حکومت چلاتی ہے۔حکومت سازی کا جمہوری طریقہ یہ ہے کہ چار پانچ سال بعد ملک بھر میں مرکزی اور صوبائی حکومت سازی کا اختیار اس سیاسی جماعت کے سپرد کر دیا جائے جسے عوام زیادہ ووٹ دیں۔یہاں تک بات بڑی سادا تھی، مگر اب اہم اور پیچیدہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے یہ کیسے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ عوام نے کس پارٹی کو زیادہ ووٹ دیئے؟اس لئے کہ ووٹر زکی مختصر تعداد پولنگ اسٹیشنز کا رخ کرتی ہے۔نتائج میں ووٹوں کی زیادہ تعداد دکھائی جاتی ہے۔اس خرابی کی بنیادووٹر زکی جانب سے کیا جانے والا یہ مطالبہ ہے ہیں کہ امیدوارگاڑی بھیجے، گھر سے پولنگ اسٹیشن لے جائے اور واپس پہنچائے۔جبکہ ساری زندگی باقی تقریبات میں شرکت کے لئے یہ مطالبہ نہیں کیاتاکہ جس نے تقریب منعقد کی ہے وہی ہمیں گھر سے لے کر جائے اور واپس پہنچائے۔ ان تقاریب میں شادی بیاہ، بیمار کی مزاج پرسی اور فوتگی کی صورت میں اس کے جنازے میں شرکت شامل ہے۔ مزارات پر عرس اور دیگر تہواروں میں شرکت بھی ہر شخص یا خاندان اپنی جیب سے پوری کرتاہے۔سمجھ لیں کہ ساری خرابی اسی مطالبے میں موجود ہے۔جس دن پاکستان کے عوام امیدوار کی گاڑی میں بیٹھ کر پولنگ اسٹیشن جانے اور واپس لانے کا مطالبہ ترک کردیں گے، اسی روز صاف، شفاف، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ممکن ہو جائے گا۔ساری خرابی یہیں سے جنم لیتی ہے۔ووٹ خفیہ نہیں رہتا۔ امیدوار یہ اخراجات جہاں سے پورے کرتا ہے وہ ان کے کہنے پر چلتا ہے۔اس حوالے سے ایک مقدمہ کئی دہائیوں سے عدالت میں ”اصغر خان کیس“ کے نام سے زیر سماعت ہے،تاحال سماعت مکمل نہیں ہوئی۔فیصلہ جلد آجاتاتو عام آدمی مقدمے کافیصلہ پڑھ کر جان لے گا کہ امیدوار الیکشن میں حصہ لینے سے پہلے کسی اور کے ہاتھ بک چکا ہوتا ہے۔جو شخص عوام کی رائے سے پہلے ہی کسی کی غلامی میں چلاجائے اسے آزاد سمجھنا ایسا دھوکہ ہے جو ووٹر کسی اور کو نہیں خود اپنی ذات اور اپنے خاندان کو جان بوجھ کر دیتا ہے۔یہ معمولی سی غلطی اس کا اور اس کے خاندان کی ترقی اور خوشحالی کھاجاتی ہے۔امیدوار اگلے انتخابات سے پہلے اپنے حلقے کا رخ نہیں کرتا۔اسی بناء پر عام آدمی کی زندگی میں آسانیاں کم اور مشکلات زیادہ ہیں۔ مال دار 2فیصد اور باقی98فیصد پریشاں حال ہیں۔لیکن دنیا بھر میں بھی امیر غریب کے درمیان یہی تناسب ہے۔اکثر ایسے اعدادو شمار پیش کئے جاتے ہیں جن میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ صرف اتنے افراد کی ملکیت تقریباً سارے وسائل ہیں۔ ٹاپ ٹین کی فہرست گوگل پر دستیاب ہے۔ اس اطلاع کو حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھا جائے۔ سوچا جائے کہ دولت صرف مافیازکے ہاتھوں میں کیو ں جمع ہوئی؟مجرم اور قانون شکن عناصر ہی دولت جمع کرنے میں کیوں کامیاب ہوتے ہیں؟قومی دولت کی کھلی چوری کو کیسے روکا جائے؟اس کا حل صرف اور صرف یہ ہے کہ روایتی قانون سازی نہ کی جائے،اسے آئین کا حصہ بنایاجائے، امیدوار کی جانب سے ووٹرز کو پولنگ اسٹیشن لانا لے جانا جرم قرار دیاجائے۔ ثبوت ملتے ہی اس حلقے کا نتیجہ منسوخ کر دیاجائے۔ اسے آئندہ پندرہ سال تک انتخابات میں حصہ لینے سے ممانعت اور کم ازکم چار سال قید کی سزا دی جائے۔یقین کیجئے مجرموں کی پیدائش اور سرپرستی کاپورا نیٹ ورک منتشر ہو جائے گا۔دھاندلی کا خاتمہ درکار ہے تو اسے جڑ سے اکھاڑا جائے۔کسی ای وی ایم کی ضرورت نہیں رہے گی۔بیرون ملک پاکستانیوں کو انتخابی عمل کا حصہ بنانے کے دیگر طریقے استعمال کئے جا سکتے ہیں۔پہلے بلدیاتی انتخابات میں ایوی ایم کو آزما لیا جائے۔اس کی دوسری آزمائش ضمنی انتخابات میں کی جائے۔اگرالیکٹرانک ووٹنگ مشین میں نقائص ہوں گے، سامنے آجائیں گے۔ مفروضوں پر بات نہ کی جائے۔ عام آدمی دھاندلی کا خاتمہ چاہتاہے۔چاہے یہ مقصد قانون سازی کے ذریعے کیا جائے یا جدید ٹیکنالوجی سے مدد لی جائے۔ماضی قریب میں مشینی تجربہ ناکام رہا۔اس کے نقوش ذہنوں میں موجود ہیں۔متنازعہ قانون سازی اپنے سنگ نئے شکوک لائے گی۔مشین سو فی صد درست ہونے کے باوجود پروپیگنڈے کے انبار تلے دب جائے گی۔ووٹر ز کو رضاکارانہ پولنگ اسٹیشن پہنچنے کا آئینی طور پر پابند کیا جائے۔نہ امیدوار فنڈز لینے کے لئے اپنے ضمیر کا سودا کرے گا نہ ہی قومی وسائل کی لوٹ مار پر مجبور ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں