الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر الیکشن کمیشن نے خود اعتراضات اٹھائے ہیں، مولانا فضل الرحمن
اسلام آباد:جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ای وی ایم پر الیکشن کمیشن نے خود اعتراضات اٹھائے ہیں،ہم چاہتے ہیں اداروں پر عوام کا اعتماد ہو، ادارے اگر ایسی حکومت کی پشت پناہی کرینگے تو پھر وہ خود ذمہ دار ہونگے،پینڈورا پیپر پر بحث ہورہی ہے لیکن پاناما میں جن کے نام آئے تھے انکا کیا بنا؟۔جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت ناجائز ہے،انکو عوام نے منتخب نہیں کیا، طاقتور ادارے اسی ناجائز حکومت کیلئے سہارا بنے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں اداروں پر عوام کا اعتماد ہو، ادارے اگر ایسی حکومت کی پشت پناہی کرینگے تو پھر وہ خود ذمہ دار ہونگے، جو آدمی چور ہو تو کیا کوئی اسے گھر کی رکھوالی کیلئے رکھ سکتا ہے، ہم چور اور دھاندلی والوں سے اصلاحات قبول نہیں کرینگے۔جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ دوبارہ حکومت میں آنے کیلئے مشین کے ذریعے دھاندلی کرینگے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی آپ پر بھروسہ نہیں، یہ حکومت دھاندلی سے اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ اپنے حق میں ڈالنے کا سوچ رہی ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کے نام پر جھانسہ دیا جارہا ہے، معیشت تباہ اور برباد کردی گئی ہے، ہمارا پیسہ ڈوب چکا ہے،ڈالر 173 تک پہنچ چکا ہے، دنیا ہمارے ساتھ کاروبار اور مدد کیلئے تیار نہیں۔انہوں نے کہا کہ اتحاد میں ہونے کے باوجود ن لیگ سے بھی فاٹا انضمام پر اختلاف کیا تھا، فاٹا کیساتھ کیے گئے وعدے تاحال پورے نہیں کیے جاسکے، ہر سال 100 ارب کا وعدہ کیا گیا لیکن تین سال میں 50 سے 60 ارب روپے جاری ہوئے۔جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ پینڈورا پیپر پر بحث ہورہی ہے لیکن پاناما میں جن کے نام آئے تھے انکا کیا بنا، جس نے سب سے زیادہ چور چور کا شور مچایا آج وہی پینڈورا میں ہیں۔


