امریکی نائب وزیرخارجہ دوروزہ دورے پر کل اسلام آباد پہنچیں گی
اسلام آباد:امریکا کی نائب وزیرخارجہ وینڈی روتھ شرمین دوروزہ دورے پر کل پاکستان پہنچیں گی ان کا یہ دورہ افغانستان میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھا جارہا ہے امریکی دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ان کا دورہ پاکستان واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان بڑھتے ہوئے شگاف کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی غرض سے ہے رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ وینڈی شرمین دوطرفہ ملاقاتوں، سول سوسائٹی کی تقریبات اوربھارت آئیڈیاز سمٹ میں شرکت کے لیے 6 اکتوبر کو نئی دہلی پہنچیں گی وہ 7 اکتوبر کاروباری شخصیات اور سول سوسائٹی کے اراکین سے ملاقاتوں کے لیے ممبئی کا دورہ کریں گی محکمہ خارجہ کے ترجمان کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ڈپٹی سیکرٹری وینڈی شرمین، سینئر حکام سے ملاقاتوں کے لیے 7 سے 8 اکتوبر تک اسلام آباد کا سفر کرنے کے بعد اپنا دورہ مکمل کریں گی واشنگٹن میں موجود دیگر سفارتی ذرائع نے کہا کہ یہ ایک اہم اور بائیڈن انتظامیہ کے آنے کے بعد کسی بھی اعلی امریکی عہدیدار کا پہلا دورہ ہوگا وینڈی شرمین امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن کے بعد محکمہ خارجہ کی سب سے سینئر عہدیدار ہیں. اسلام آباد کی جانب سے اس دورے کو اہم سمجھے جانے کے سوال پر سینئر سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دورہ افغانستان اور پورے خطے میں پیشرفت دونوں کے تناظر میں بہت نازک وقت میں ہو رہا ہے انہوں نے نشاندہی کی کہ بائیڈن انتظامیہ ایک ساتھ بھارت اور پاکستان کے دوروں میں تذبذب کا شکار نہیں نظر آتی، جیسا کہ ماضی میں ہوتا تھا پاکستان میں امریکی سفیر اسد مجید خان نے مقامی جریدے کو بتایا کہ یہ ایک اہم دورہ ہے اور ہم وینڈی شرمین سے ملاقاتوں کی طرف دیکھ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم مل کر باہمی دلچسپی اور تشویش کے شعبوں میں اپنے دوطرفہ تعاون کو مضبوط اور وسعت دینے کے طریقے تلاش کریں گے. ذرائع نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ، پاکستان سے بات چیت میں چار اہم نکات پر توجہ مرکوز کر رہی ہے جن میں افغانستان میں طالبان حکومت کو تسلیم کیا جانا، افغانستان پر بین الاقوامی پابندیاں، افغانستان تک رسائی اور انسداد دہشت گردی تعاون شامل ہے انہوں نے کہا کہ امریکا چاہتا ہے کہ عالمی برادری کی جانب سے قبل پاکستان، طالبان کی حکومت کو تسلیم نہ کرے، اس کے بجائے وہ چاہتا ہے کہ پاکستان، شمولیتی حکومت، انسانی حقوق، بچیوں کی تعلیم اور خواتین کو کام کی اجازت دینے سمیت متنازع معاملات پر طالبان کے موقف میں نرمی لانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے. امریکیوں کا خیال ہے کہ ان معاملات پر موقف میں تبدیلی سے طالبان کی ساکھ پر مثبت اثر پڑے گا اور اقوام متحدہ میں انہیں تسلیم کیے جانے کی راہ ہموار ہوگی انہوں نے کہا کہ اس وقت تک پاکستان اور دیگر ممالک کو طالبان کو تسلیم کرنے میں تاخیر کرنی چاہیے۔


