احساس برتری

تحریر: صابر محمد حسنی
انسان اس روئے زمین پر قدم رکھنے کے بعد عزت، شہرت اور نام کمانے کے لے دوڑنا شروع کر دیتا ہے اور کچھ لوگ تو محنت کر کیاپنی منزل تک پہنچ جاتے ہیں اور کچھ لوگ غرور اور اکڑ میں آکر مختلف نفسیاتی اور ذہنی مرض کا شکار ہوتے ہیں احساس برتری عموما ان لوگوں میں پای چاتی ہیں۔
اگر ہم بات کریں احساس برتری کی تو یہ وہ لوگ ہیں جو دوسروں کو تکلیف دے کر یا تکلیف میں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور یہ بڑے سخت مزاج لوگ ہوتے ہیں ہر ایک سے بالاتر ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسروں کو حقیر سجھتے ہیں ہر وقت اپنا لوہا منواتے ہیں اپنی غلطیوں کو تسلیم نہیں کرتے اور دوسروں کی غلطیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں.ہر وقت تنقید کرتے ہیں دوسروں کی اچھایوں اور خوبیوں میں بھی نقص تلاش کرتے ہیں اپنی برایوں کو چھپاتے ہیں ہر وقت اپنی من مانی کرتے ہیں چڑچڑا پن اور غصے میں رہتے ہیں ایسے لوگوں کو معاشرے میں بری نگاہ سے دیکھا جاتا ہے رشتہ داروں،عزیزواقارب اور دوستوں کی نظر میں گرجاتے ہیں لوگ ان سے دور بھاگتے ہیں یہ لوگ آگے جا کر سب کچھ کھو دیتے ہیں.
احساس برتری کے شکار لوگ جو کام کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اگر وہی کام کوی دوسرا کرے تو اس پر ہزار باتیں بناتے ہیں کہ یہ کام ناجائز اور غلط ہے.
یہ ایک ایسی وبا ہے جو نسلوں اور قوموں کو برباد کر دیتی ہے اور اس طرح کے لوگ ہمارے معاشرے میں اکثر پائے جاتے ہیں.
اشفاق احمد، جو نامور ادیبوں میں شامل ہیں بقول اشفاق احمد صاحب،یاد رکھنا اگر اللہ کے بندوں کو حسد، گمان، تکبر, غیبت اور احساس برتری کی ٹھونگیں ماروگے تو اللہ تمھارا رزق مشکل کر دیگا۔
انسان اگر دوسروں کی خامیان ڈونڈھنے کے بجائے اپنی حلاحیتوں پر کام کرے تو وہ معاشرے میں ایک اچھا مقام حاصل کرسکتا ہے.
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اس طرح کے مختلف نفسیاتی بیماریوں کا باقاعدگی سے علاج کیا جاتا ہے تاکہ اس معاشرتی وبا سے چھٹکار حاصل کیا جاسکے.
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں کسی کی کامیابی کو داد دینا تو بڑی بات ہے بلکہ ان کی کامیابی ہم سے برداشت نہیں ہوتی۔ انسان فطرتا تو احساس برتری کا شکار نہیں ہوتا،
حالات اور ماحول ایسے بنا دیتے ہیں.
انسان یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ جتنی محنت کری گا اللہ تعالی اس سے بڑھ کر اسے اپنی نعمتوں سے نوازے گا چاہے وہ عزت، دولت اور شہرت کیوں نہ ہو اسی لیے انسان بغض، تکبراور احساس برتری جیسے غلیظ وبا سے اپنی سوچ کو پاک رکھے اور معاشرے میں ایک ایسا کردار ادا کرے کہ لوگ ان کی غیر موجودگی میں ان کی مثالیں دیں اور دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی انہیں اچھے لفظوں میں یاد رکھیں کیونکہ دنیا سے تو سب ہی رخصت ہوتے ہیں مگر یاد ان کو کیا جاتا ہے جنہوں نے سماج کی بہتری کے لیے قربانیاں دیں.


