درست اقدامات پر عمل کرنا ہوگا
سوچیں!معیشت تباہی کے دہانے تک پہنچ چکی ہے۔پرانے قرضوں کی ادائیگی کاوقت آچکا ہے۔ ایک سابق وزیرخزانہ ٹی وی ٹاک شوزمیں دعویٰ کرتے ہیں کہ موجودہ حکومت بھی قرضو ں کی ادائیگی نہیں کر رہی،محض فائلوں کا پیٹ بھرا جا رہا ہے،پرانے قرضے بینکاری طریقہئ کار کے مطابق نئے قرضوں کی شکل اختیار کر رہے ہیں،نہ موجودہ حکومت نے کچھ دیا، نہ متعلقہ بینک نے کچھ لیا اور کاغذات میں اندراج ہو گیا۔ موجودہ حکومت کے ترجمان مذکورہ دعوے کا جواب نہیں دیتے۔عام آدمی حکومتی ترجمانوں کی خاموشی سے یہ تأثر لیتاہے کہ انہوں نے اپوزیشن پارٹی کے سابق وزیر کا دعویٰ تسلیم کر لیا ہے،ان کے پاس تردید کرنے کے شواہد نہیں۔عام آدمی کی دوسری پریشانی یہ ہے کہ جس تیزی سے موجودہ حکومت قرضے لے رہی ہے جب رخصت ہوگی تو ملکی معیشت کہاں کھڑئی ہوگی؟ کیا وہی مناظر دیکھنے کو ملیں گے جو ماضی قریب میں حکومتوں کی تبدیلی کے وقت دیکھے جا چکے ہیں؟یہ خدشات بے بنیادنہیں۔ڈالر ملکی معیشت پر براہِ راست (منفی اور مثبت) اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس کے دام بڑھ جائیں تو کاروباری دنیا میں افراتفری مچ جاتی ہے،زلزلہ سا محسوس ہونے لگتا ہے، درآمد اور برآمد کرنے والے یکساں طور پر پریشان دکھائی دیتے ہیں۔اسٹاک ایکسچینج مارکیٹ بیٹھ جاتی ہے۔ شیئر ہولڈرز کے چہرے لٹک جاتے ہیں۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مستعار گورنر عوام کو تسلی دیتے ہیں:”ہمارے اوورسیزپاکستانیوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے“۔البتہ ڈالر کے دام کم ہوتے ہی منظر تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کا نام گرے لسٹ میں رکھاہوا ہے۔وہ منی لانڈرنگ کرنے والوں کو سزائیں دیئے بغیر مطمئن نہیں ہوگا۔عدالتیں تاریخ پر تاریخ دینے کی عادی ہیں۔ نئی قانون سازی میں اپوزیشن تعاون نہیں کرتی۔پرانے قوانین میں ملزموں کوضمانت کی سہولت حاصل ہے، جیل کی بجائے اسپتالوں میں ٹھاٹ سے قید کے دن گزارتے ہیں۔ مشکوک بوتلوں ”شہد“ کھاتے ہیں،یاپیتے ہیں؟مہنگائی اور بیروزگاری کاعذاب عوام بھگت رہے ہیں۔ کچن چلاناہر گزرتے دن مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ عام آدمی اپنے علماور تجربے کی بدولت سمجھ گیاہے ابھی معیشت آئی سی یو میں ہے۔اس کا چولھا سی این جی آئے تب بھی پورامہینہ نہیں جلے گا۔مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی بجھ جائے گا۔اب تو ادھار دینے والوں کی اپنی حالت پتلی ہے، آخری دن ناقابل بیان حد تک بھاری ہو جاتے ہیں۔ماہانہ تنخواہ دار ہوں یاروزانہ کے دیہاڑی دار، ان کے درمیان کوئی فرق نہیں رہا۔حکومت کا کہنا بھی اپنی جگہ وزن رکھتا ہے،غلط نہیں؛۔۔۔پانی کے بغیر زراعت نہیں چلتی،۔۔۔بجلی کے بغیر صنعت بند ہو جاتی ہے۔پچاس سال کی غفلت نے یہ دن دکھائے ہیں۔سنبھلنے میں وقت لگے گا۔امن وامان کی صورت حال ملکی اورعالمی سطح پر خراب ہے۔ پڑوسی ملکوں میں جب تک امن قائم نہیں ہوگا، معیشت بدحال رہے گی۔ امریکہ نے کابل انخلاء سے بھی سبق نہیں سیکھا۔پرانی حکمت عملی تبدیل نہیں کی۔ایٹمی آبدوزیں بیچنے پر مصر ہے۔داعش اور القاعدہ کے دوبارہ فعال ہونے کاخوف دلا رہاہے۔خلیجی ریاستوں کو تباہ کرنے کے بعد جنگ کا مرکزبحرالکاہل اور بحرِ ہند میں منتقل کردیا ہے۔ترکی نے سفراء کو نکالنے کی دھمکی دی،تو معافی مانگ کر صورت حال کو بگڑنے سے بچایا۔لیکن یہ رویہ ”جیواور جیودو“ کی فضاقائم ہونے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ افغانستان کے عوام شدیدمالی مشکلات سے دوچارہیں،غذائی قلت ہے،مگرعالمی انسانی حقوق کے نام نہادمحافظ امریکہ نے اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لئے ان کے 10ارب ڈالر منجمد کر رکھے ہیں۔ ایران کے ساتھ بھی اس کا یہی رویہ ہے۔زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ کابل سے انخلاء کے بعد بھی امریکی سوچ میں مثبت تبدیلی نہیں آئی۔ وہ آج بھی اس خطے میں ایئر بیس تلاش کر رہاہے تاکہ افغانستان اور دیگر ممالک پر نظر رکھ سکے۔ لگتا ہے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھا ہے۔زمینی حقائق سے جو عالمی نقشہ ابھرتا ہے، اس میں امریکہ اب کافی عرصے کے ئے عالمی سپر پاور نہیں رہا۔عالمی برادری کا 193ملکوں جیسا ایک ملک ہے۔ اپنا وجود برقراررکھنے کیلئے امریکہ کو ابھی نئے امتحان سے گزرناہوگا۔یہ تجربہ اس کے لئے کیسے نتائج لائے گا، پیشگوئی آسان نہیں۔ایک دفعہ کوئی ملک اپنی ساکھ کھو دے تو دوبارہ یہ مقام ملناممکن نہیں۔روس کی مثال ہمارے سامنے ہے۔تین دہائیاں گزرنے کے بعد بھی پرانی پوزیشن سے دور ہے۔ تاریخ کا سنجیدگی سے مطالعہ کیاجائے توانسان اسی نتیجے پر پہنچتا ہے کہ مناسب ترین حکمت عملی پر امن بقائے باہمی ہے۔سرمایہ دارانہ نظام کی خود غرضی اس کے فروغ کاراستہ نہ روکتی تو آج امریکہ اوراس کے اتحادی بھی سکون سے جی رہے ہوتے۔ اگلے روز کورونا وائرس سے 538امریکی موت کے منہ میں چلے گئے۔جبکہ پاکستان میں ہلاک ہونے والے مریضوں کی تعداد صرف 10تھی۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکی حکومت جنگ میں الجھ کر عوام کی مناسب دیکھ بھال نہیں کر سکی۔واضح رہے سیانے کہہ گئے ہیں: ”جنگ خود ایک مسئلہ ہے، یہ مسئلوں کا حل نہیں دیتی،اس کے دامن میں آگ اور لاشوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا“۔امریکی مقتدرہ دوسرے ملکوں پر نظر رکھنے کی بجائے اپنے عوام کے مسائل پر نظر رکھے، ڈرون حملوں میں بھی داعش کے کمانڈر نہیں مارے جاتے، نہتے سماجی کارکن اور بچے مرتے ہیں جو پانی کی تلاش میں گھر سے نکلتے ہیں۔ عمومی تأثر یہی ہے کہ امریکہ داعش کو ختم کرنے کے نام پر جو اقدامات کرتا ہے وہ داعش کے تحفظ کے لئے کئے جاتے ہیں۔یہ تأثر اس لئے ہے مضبوط ہوا کہ امریکہ چاہتا تو20سال کے دوران ساڑھے تین لاکھ افغان فوج کی مددسے اسے با آسانی کچل سکتاتھاحالانکہ ان دنوں اسے نیٹو افواج کی مدد بھی حاصل تھی۔ پاکستان سمیت دنیا کو تسلیم کر لینا چاہیئے کہ دنیاامن اور ترقی چاہتی ہے۔افغان حکومت اگر اپنے عزم اور ہمت سے امریکیوں سے2001میں چھینا گیااقتدار واپس لے سکتی ہے تو داعش کی امن دشمنی کا علاج بھی کر سکتی ہے۔افغان طالبان عالمی برادری سے کئے گئے چاروعدے پورے کردے تو دنیا بلاتاخیر اسے تسلیم کر لے گی۔افغان طالبان عوام کو اعتماد میں لے کت مذکورہ چار وعدے پورے کر سکتے ہیں۔اس میں عوام کا فائدہ ہے۔ترقی اور خوشحالی کاعمل شروع ہو جائے گا۔ماضی جیسارویہ اختیار کیا گیاتو یاد رہے کہ نتائج بھی ویسے ہی برآمد ہوں گے۔ درست فیصلے اور درست اقدامات میں تاخیر نہ کی جائے۔


