ہوا کو آلودگی سے بچاؤتاکہ سانس لے سکو
اداریہ
ہمارے مشرقی ہمسائے کے دارالحکومت کی فضاء اس قدر آلودہ ہے کہ وہاں کے دانشور اس سال2019سے زیادہ ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔یاد رہے دو سال قبل17ہزار5سولوگوں کی موت ہوئی تھی۔فضائی آلودگی کی درجہ بندی اس طرح کی جاتی ہے:50۔۔۔ ”اچھا“، 100 تک۔۔۔”اطنینان بخش“، 300تک۔۔۔ ”خطرناک“، 400تک۔۔۔ ”زیادہ خطرناک“، اور 500تک۔۔۔”بہت زیادہ خطرناک“ مانا جاتاہے۔اس بار دہلی کے اندر کچھ علاقوں میں فضائی آلودگی1100….کو بھی پار کر گئی ہے۔عالمی میڈیا آلودگی کی شدت کو بیان کرنے کے لئے یہ کہنے پر مجبور ہے: دہلی میں فضائی آلودگی کا قاندازہ یوں لگایاجا سکتا ہے جیسے ایک شخص ایک سانس میں 20سگریٹ کا دھواں اپنے پھیپھڑوں میں اتار لے۔پنجاب(پاکستان) کا دارالحکومت لاہور بھی فضائی آلودگی کے لحاظ سے پاکستان کا آلودہ ترین ترین شہر ہے۔اس کا شمار بھی دنیاکے آلودہ ترین شہروں میں ہوتا ہے۔دونوں ملکوں میں آلودگی کے اسباب یکساں نوعیت کے ہیں۔ان میں دھول اڑنا،فصل کٹنے کے بعد کھیتوں کو آگ لگا کر نئی بوائی کے لئے تیار کرنا، پرانے ٹرکوں، کاروں اور ریل انجنوں سے بڑی مقدار میں کثیف دھوئیں کا اخراج،کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر(اینٹوں کے بھٹے)اور ایئر کنڈیشننگ میں اضافہ ہیں۔جب تک مذکورہ اسباب دور کرنے میں حکومت سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھاتی، فضائی آلودگی میں کمی نہیں آئے گی، ہزاروں انسان اسی طرح ایک سانس میں بیسیوں سگریٹ اپنے پھیپھڑوں میں اتارتے اور کھانستے ہو ئے تکلیف دہ انداز میں مرتے رہیں گے۔فضائی آلودگی عوام کا واحد مسئلہ نہیں۔مہنگائی میں ہوش ربا اضافہ بھی اتناہی جاں لیوا ہے، غریب کم خوراک ملنے کے سبب متعدد امراض کا شکار ہیں،امراض کے خلاف قوت مدافعت صحت مند غذا پیدا کرتی ہے۔کم خوراکی مرض کوبڑھاتی ہے۔پھل، انڈہ،اورگوشت وغیرہ عام آدمی کی دسترس سے باہر ہیں۔آج چٹنی روٹی بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہے۔لوگوں کوپینے کاصاف پانی گزشتہ کئی دہائیوں سے دستیاب نہیں۔ نصف صدی تک حکمرانوں نے ڈیم تعمیر نہیں کئے۔ڈیم تعمیر کر نے کی کوششوں پر حکومتوں کو سیاسی جماعتوں کی جانب سے دھمکی دی جاتی رہی:۔۔۔”ڈیم کو بم سے اڑا دیں گے“۔۔۔چند ہفتے قبل بلوچستان کی نمائندگی کرنے والے ایک سینیٹر نے بلوچستان میں ڈیم کی تعمیر کو عوام دشمن اقدام قرار دیتے ہوئے پارلیمنٹ سے اپیل کی تھی کہ ڈیم کی تعمیر رکوائی جائے۔واضح رہے انہیں بائیسویں صدی میں بھی ڈیم کی افادیت کاعلم نہیں، جبکہ مصر کے باشندوں نے ہزاروں سال قبل ڈیم تعمیر کرکے اپنے عوام کو بھوک، پیاس اور سیلاب کی تباہ کاریوں پیاس سے بچانے کا ہنر سیکھ لیا تھا۔ ڈیم صرف انسانوں کو پینی کا پانی فراہم نہیں کرتے،لاکھوں ایکڑ اراضی کو سیراب بھی کرتے ہیں،ایک ایکڑ پر دو کسان مصروف ہوں تب بھی 30،40لاکھ کسان باروز گار ہوسکتے ہیں۔ سستی بجلی سے ان کے گھر روشن ہوتے ہیں۔صنعتیں قائم کی جاتی ہیں۔ بیکار پڑی ہوئی زمین سونا اگلنے لگتی ہے۔ڈیم کی تعمیر رکوانے والے بلوچستان کو پتھر کے زمانے میں لے جانا چاہتے ہیں۔ انہیں یاد نہیں امریکہ یہی نعرہ لگاتا ہوا اپنے حمایتیوں کے ساتھ افغانستان پر حملہ آور ہوا تھا، 20سال بعد ناکام و نامراد واپس جانا پڑا۔بلوچ عوام کا حق ہے وہ اپنے وسائل سے اپنی زندگی بہتر بنائیں۔قدرت نے بیش بہا وسائل عوام کو ترقی اور خوشحالی کے عطا کئے ہیں۔ان سے استفادہ کیا جائے۔صوبے سے بیروزگاری، بھوک، پیاس، بیماری اور جہالت کاخاتمہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ترقی اورخوشحالی کاراستہ نہ روکا جائے۔یہکوئی راز نہیں پرائمری اسکول کے بچے بھی جانتے ہیں،بلوچستان ڈیم کے بغیر سرسبز و شاداب نہیں ہوسکتا۔اس میں دورائے نہیں ہو سکتیں،بلوچ عوام بھوک اور پیاس کا خاتمہ چاہتے ہیں۔توقع کی جانی چاہیئے؛وزیر اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو بلوچستان کو دوسرے صوبوں کا ہم پلہ بنانے کے لئے اپنے قتدار کا ایک ایک لمحہ وقف کر دیں گے۔ ان کے پاس کام کرنے کے لئے پونے دوسال ہیں۔انہوں نے یہ چیلنج خود قبول کیا ہے۔انہوں نے اپنے پیشرو کی خوبیوں اور خامیوں کا بغور جائزہ لیا ہوگا۔ان خامیوں سے بچنے اور خوبیوں سے رہنمائی حاصل کرنے کی پلاننگ کی ہوگی۔وزارت اعلیٰ کی کرسی ملنے سے پہلے بڑی جاذبیت رکھتی ہے مگر سچ یہ ہے کہ ملنے کے بعد اس کے چہرے کا سارا میک اپ اتر جاتا ہے جواس کی بدصورتی کو چھپائے ہوتا ہے۔وسائل کی کمی اور مسائل کے انباراس کرسی کی جاذبیت کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔دور سے یہ پھولوں کی سیج دکھائی دیتی ہے مگر بیٹھتے ہی اس کے نظر نہ آنے والے نوکیلے کانٹے چبھنا شروع کردیتے ہیں۔بہت پہلے کی بات ہے،شیر شاہ سوری نامی ایک حاکم نے اپنے مختصر دور میں حیران کن منتظم بن کراپنی کارکردگی سے تاریخ میں اپنی جگہ بنائی جو اس کی وفات کے سینکڑوں سال بعد بھی کوئی نہیں لے سکا۔جدید مشینری اور ٹیکنالوجی کے بغیر اس نے کلکتہ سے پشاور تک سڑک تعمیر کی،اس کے دونوں طرف سایہ داردرخت لگائے۔تھوڑے تھوڑے فاصلے پر مسافروں کے آرام کے لئے سرائے تعمیر کیں، مسلمانوں اور ہندووں کے لئے الگ الگ کنویں کھدوائے۔امن و امان کی صورت حال مثالی حدتک بہتر بنائی۔اس نے اپنی کارکردگی سے ثابت کیا اگر عزم مصمم ہو توکوئی بہانہ رکاوٹ نہیں بنتا۔عدل کا یہ عالم کہ اپنے سگے بیٹے کو ایک عام آدمی شکایت پرسزا سناتے ہوئے اس کی زبان نہیں لڑکھڑائی۔ حکم دیا:”ساس کی بیوی بھی اسی طرح اپنے گھر کے آنگن میں نہائے، جیسے شکست کنندہ کی بیوی نہا رہی تھی اور شکایت کندہاسے دیوار کے اوپر سے اسی طرح دیکھے
جیسے میرے بیٹے نے اس کی بیوی کو دیکھا تھا۔مگر ایسا حکم دینے والے کے سینے میں شیر شاہ سوری جیسا دل ہونا ضروری ہے۔ کئی صدیاں گزر گئیں ایسا انصاف پسند دل کسی حاکم کے سینے میں نہیں دھڑکا۔جو آیا اپنے پیچھے خود غرضی کی داستانیں چھوڑ گیا۔خواص پسندی میں مبتلاء رہا اور تاریخ میں اپنا نام درج نہیں کراسکا۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ تاریخ میں دوسرے ملکوں میں اور بھی شیر شاہ سوری جیسے سپوت پیدا ہوئے، اس فانی دنیا میں بہادری سے جئے،اور مرے تو اپنے پیچھے لافانی داستانیں چھوڑ گئے۔یہ تاریخ آج بھی رقم کی جا سکتی ہے،بشرطیکہ عزم مصمم کر لیا جائے اور اپنے کہے پر قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے عمل کرایاجائے۔ٹی20کے کوچ نے درست کہا ہے:”کوچ صرف تیکنیک سکھا سکتا ہے، کھلاڑی کے بازو میں زوردار ہٹ لگانے کے لئے قوت نہیں داخل کر سکتا“۔


