امریکی صدر کی ایک بار پھر چین کو دھمکی

اداریہ
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر چین کو دھمکی دی ہے اگر ثابت ہوگیاکہ چین نے جان بوجھ کر کورونا وائرس پھیلایا ہے تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے البتہ غلطی نظر انداز کی جا سکتی ہے۔غلطی جان بوجھ کر نہیں کی جاتی، کنٹرول سے باہر ہوتی ہے لیکن امریکی صدر کی ناراضگی کاسبب امریکا میں ان کی کورونا وائرس کے سامنے افسوسناک بے بسی ہے۔ان کے سائنسدان اپنی شہرت، اہلیت اور وسائل کی فروانی کے باوجوداتنے دن گزر جانے کے بعد بھی ایک دن میں 1329اموات اور مجموعی ہلاکتیں 40ہزار 419ہو جاناامریکی صدر کو طیش دلانے کے کافی سمجھا جانا چاہیئے(واضح رہے کہ یہ تعداد اٹلی میں کورونا سے مرنے والوں سے دو گنا ہیں)۔امریکی صدر کا یہ کہنا بھی اپنی جگہ درست ہے کہ 1917کے بعد ایسی حالت کسی نے نہیں دیکھی۔ چین نے امریکی صدر کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس طرح کے وائرس پر تحقیق ضرور کرتے ہیں مگر کرونا ہم نے تیار نہیں کیا۔امریکی غم و غصہ کی ایک اور وجہ بھی ہے وہ یہ کہ چین نے کورونا وائرس کو شکست دے دی ہے ووہان شہر کو بھی کورونا فری سٹی قرار دے دیا گیا ہے اور وہاں کے شہریوں نے باقاعدہ جشن منایا تھا۔ووہان میں مارکیٹیں کھل چکی ہیں جبکہ امریکا اس بارے ابھی مرحلہ وار منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔ امریکا کے لئے دوسری بڑی حیرانی کھلے سمندر میں کھڑے ایک طیارہ بردار بحری جہاز روز ویلٹ نامی بیڑے پر کورونا وائرس کا پہنچنا ہے۔ ابھی حیرانگی کی شروعات ہیں جیسے جیسے وقت گزرے گاامریکی حیرانگی بڑھتی چلی جائے گی۔اس کی کئی وجوہات ہیں اول یہ کہ کرونا وائرس ایک بیماری ہے یا اللہ کی طرف سے لاکھوں انسانوں کو بیگناہ قتل کرنے کی سزاہے؟ایران عراق کی آٹھ سالہ جنگ ہو یاویت نام میں دو دہائیوں تک پھیلی ہوئی پرانی جنگ،یا افغانستان کی چار دہائیوں پر مشتمل حالیہ جنگ ہو جس سے نکلنے کی امریکا کوشش کر رہا ہے شام کے لاکھوں شہریوں کا قتل بھی امریکا کے سر آتا ہے۔یہ فہرست طویل ہے۔ کورونا سے دنیا کی جان چھوٹے تو مذکورہ سوالات سراٹھائیں گے ہر پریس کانفرنس میں پوچھے جائیں گے،القاعدہ، طالبان، حوثی اور داعش کی کس نے پرورش کی؟ تربیت کی؟ فنڈز فراہم کئے؟اورڈھیروں جنگی جرائم کے لئے انہیں پالا پوسا؟ ان کی سرپرستی کی جیسے تیز اورچبھتے ہوئے سوالات تاریخ کے صفحات پر موجود ہیں امریکااور اس کے اتحادیوں کو ان کا جواب دینا ہوگا۔ امریکی صدر ابھی کورنا وائرس کے حملوں کی زد میں ہیں، وہ اس سے آگے نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی سوچ سکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بار بار چین کو سخت نتائج کی دھمکی دیتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ شمالی کوریا ہی ان کے لئے کافی ہے۔نہ جانے کب بٹن دبا دے اور تاریخ کے ساتھ امریکی جغرافیہ بھی تبدیل ہوجائے۔دوسروں کو صفحہئ ہستی سے مٹانے والی سوچ امریکا کو تباہی کے دہانے تک لے آئی ہے۔رواں صدی کے عظیم سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ نے اپنی طویل تحقیق کے بعد بجا طور پر درست کہا ہے کہ فلسفی ”کیوں“ کا جواب تلاش کرتے کرتے محض بے کارلفاظی میں گم ہوگئے ان کا نام بھی کوئی نہیں لیتا جبکہ سائنسدان”کیا“کا جواب تلاش کرتے ہوئے ان سے کہیں آگے نکل گئے۔لیکن کورونا وائرس نے ثابت کر دیا ہے کہ صرف ”کیا“ کی تلاش ناکافی ہے، اس میں ”کیوں“ کو بھی شامل کرنا ہوگا۔ سب جانتے ہیں امریکی تھنک ٹینک ”کیا“کر رہے ہیں؟دن رات مہلک اسلحے کے انبار لگا رہے ہیں، مگر ان سے کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ وہ ایسا ”کیوں“ کر رہے ہیں؟انہیں یہ اختیار کس نے دیاہے کہ وہ امریکا سے باہر کی ساری دنیا کو اپنا محکوم اور غلام سمجھیں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرانے کے بارے میں بھی پوچھا جائے کہ جاپانیوں نے امریکی ریاست کا کیا بگاڑا تھا؟انہوں نے اپنے دفاع میں برطانوی بحری بیڑے کوغرق کیا تھا یہ حق ہر آزاد ریاست کی طرح جاپان کو بھی حاصل تھا۔امریکی ریاست کو اس جرم کی سزا ملنی چاہیے تھی عالمی بے حسی اور خود غرضی کے باعث نہیں دی گئی۔کورونا وائرس یقیناًان لاکھوں بے گناہ جاپانیوں کو اذیت ناک موت سے دوچار کرنے والے امریکی تھنک ٹینکس سے اس قتل عام کا جواب مانگنے امریکی دارالحکومت نیویارک کے گلی کوچوں میں گھوم رہاہے، اور امریکی حکمران جواب دینے کی بجائے چین کے خلاف الزام تراشی میں مصروف ہیں۔امریکی اتحادی بھی لاشیں اٹھا رہے ہیں۔سب کو اپنے گناہوں کا جواب دینا ہے۔نیٹو فورسز برابر کی شریک ہیں۔عراق، لیبیاء، افغانستان اور پاکستان کے معصوم اور بے گناہ مقتولین بھی سائلین کی صف میں کھڑے ہیں۔کورونا کی سزا سے بچ جانے کے بعد دنیا بھر کے انسانوں کے سامنے امریکا کو اعتراف کرنا ہوگا کہ اس کی حیثیت دیگر ملکوں کی طرح ایک رکن جیسی ہے۔اسے دنیا پر حکمرانی کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔پانچ ملکوں کو ویٹو پاور سے دست بردار ہونا پڑے گا۔1917میں ایک اور تاریخی سچائی بھی زار شاہی روس کی جگہ ابھر کر سامنے آئی تھی جو سامراجی سازشوں کے باوجود قائم ہے۔شایدکوروناوائرس سامراجی ذہنیت کو تابوت میں بند کرنے آیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں