ریاست مدینہ‘ ایک خوبصورت معاشرتی استعارہ
پاکستان جیسے ملک کو معاشرتی پستی سے نکالنے کے لئے ایک ایسے معاشرتی استعارے کی ضرور ت تھی جوعوام کے مزاج کے قریب ہونے کے ساتھ بہتری کے احساس کاامتزاج بھی رکھتا ہو۔پی ٹی آئی نوزائیدہ سیاسی جماعت تھی،اس کے تھنک ٹینک نے اس معاشرت اصطلاح کو بروقت اپنا سلوگن بنایا،تواتر سے عوام تک پہنچایااور دھیرے دھیرے درمیانے طبقہ کی حمایت حاصل کرلی۔ دیگر جماعتیں اس دوران اقتدار میں تھیں،اقتدار کی اپنی نفسیات ہوتی ہے، طول پکڑ لے تو حکمرانوں کے ذہن میں یہ تصور جڑ پکڑ لیتا ہے کہ ہم سادوسرا معاشرے میں موجود ہی نہیں۔ہمیں اَللہ نے حکمرانی کے لئے پیدا کیا ہے، باقی سب ہمارے مطیع و فرماں بردار رعایا ہیں۔چاپلوسوں کا ایک ٹولہ ہمہ وقت صاحبان اقتدار کے نورتن بن کر عوام کے بارے میں حادثاتی حکمرانوں کو دائمی برسراقتداررہنے کا یقین دلانے میں مصروف ہوجاتاہے کہ نورتن کی کرسی کا واحد کام حاکم وقت کوہنسانا سمجھاجاتا ہے۔اگر جلال الدین اکبر جیسا حاکم وقت ہو تو اپنے گرد معیاری افراد بٹھاتاہے،عوام کی نبض کے اتار چڑھاؤ سے باخبر ہونے سبب درست حکمتِ عملی وضع کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور اکبرِ اعظم کہلاتا ہے،ایک مضبوط اور وسیع سلطنت اپنے جانشیں کے لئے بطوروراثت چھوڑتاہے۔ جانشینوں کو بنی بنائی سلطنت وراثت میں ملتی ہے،رموزِ مملکت سے عدم واقفیت انہیں بتدریج زوال کی طرف لے جاتی ہے۔پاکستان کی تاریخ کااجمالی خاکہ یہی ہے۔درباری چاپلوسوں نے وقتاًفوقتاً حکمرانوں کو صلاح الدین ایوبی ہونے کا یقین دلایا۔اس کے ساتھ ہی یہ کوشش بھی کرتے رہے کہ عوامی مسائل کے قدموں کی دھمک حکمرانوں کے کانوں تک نہ پہنچے۔چنانچہ حاکم بے خبر سوتے رہ گئے اور چھت ان کے سروں پر آن گری۔اس بے خبری کا اعتراف انہوں نے پارلیمنٹ کے معزز فلور پر بھی کیا، مگر اب دیر ہو چکی تھی۔دربار کا منظر بدل چکا تھا۔گلی کوچوں میں نئے معاشرتی استعارے گونج رہے تھے۔ وہ بھول گئے تھے، وقت کبھی بھی ایک جگہ نہیں ٹھہرتا، اپنا سفر ہمیشہ جاری رکھتا ہے۔ انگریزوں کے بزرگ سمجھدار تھے، انہوں نے اپنا مستقبل کبھی کسی ایک بادشاہ کونہیں سمجھا، ایک بادشاہ کے مرتے ہی نئے بادشاہ کی تاج پوشی کرتے اور سب مل کر اعلان کرتے:”دی کنگ از ڈیڈ؛۔۔۔۔۔ لانگ لیودی کنگ!“۔ پاکستانی ابھی فہم کی اس منزل تک نہیں پہنچے، انہیں علم نہیں کہ پرانا بادشاہ مر جائے تو اس کی لاش سے لپٹ کر ماتم کرنا درست نہیں، اب نئے بادشاہ کی درازیٗ عمر کی دعائیں مانگنی ہیں۔ انگریزوں نے یہ راز صنعتی انقلاب کے دوران پا لیا تھا۔پاکستان میں مختصر عرصے کے لئے صنعتی دور آیا،مگر جاگیرداروں نے بڑی ہوشیاری سے اسے تھپکی دے کر سلا دیااور اپنی نالائقی کے باعث ملک کی زرعی شناخت بھی ملیامیٹ کردی۔گندم، چینی، دالیں اور گھی بھی غیر ملکوں سے منگوانا شروع کر دیا۔جس ملک کے حکمران خود ہی ڈیم بنانا ترک کر دیں،اس کا انجام یہی ہونا تھا۔بعض مبصرین سمجھتے ہیں کہ چڑیاں پوراکھیت چگ کر جا چکی ہیں، اب رونے دھونے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔لیکن یہ رائے بھی دیرینہ مایوسی کی عکاس ہے۔ چار دہائیاں زندگی کا بڑا حصہ ہیں،ضائع ہو جائیں تو دکھ ہوتاہے، غصہ آتا ہے۔رد عمل میں عام اور خاص کی تخصیص نہیں رہتی، ہرآدمی ایسی ہی جلی کٹی سناتا ہے۔اس کے باوجود تاریخ یہی درس دیتی ہے، حوصل اور ہمت سے کام لے کر منزل کی طرف بڑھاجائے۔اَللہ کا بھی یہی فرمان ہے:”اَللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں“، قدرتی وسائل تمام تر غفلت اور لاپروائی کے باوجود ختم نہیں ہوئے۔ آج یہ فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ غیر ملکی، غیر قانونی فشنگ ٹرالر بلوچستان کے سمندر میں داخل نہیں ہو سکیں گے، تو یقین کیا جائے کہ آج کے بعد ہمارا سمندر ماضی میں کی جانے والی لوٹ مار سے محفوظ ہوگیاہے۔اگر کسی اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز نے اپنے فرائض سے آنکھیں بند کرکے مجرموں کا ساتھ دینے کی کوشش کی تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی، نہ ہوئی تو وعدہ خلافی پر دھرنا ہوگا اور اگر اس کی نوبت آئیتو نتائج بھیانک ہوں گے۔دستخط کرنے والے جانتے ہیں کہ وعدہ خلافی بہت مہنگی پڑے گی۔وزیر اعلیٰ نے دو نادار خواتین کی اپنی جیب سے مدد کی تب بھی انہیں صفائی پیش کرنا پڑی، ”یہ مدد دھرنے والوں کی مدد نہیں تھی“۔جدید ٹیکنالوجی ہرلمحہ محفوظ کر لیتی ہے۔ثبوت مٹانا دور کی بات ہے،آئندہ چھپانا بھی ممکن نہیں رہے گا۔درختوں کی غیر قانونی کٹائی کا راستہ گوگل سے کی جانے والی نگرانی روکے گی۔قدرت کے عطا کردہ وسائل عوام کی ملکیت ہیں، عوام حفاظت کے اٹھ کھڑے ہوں تو کوئی غاصب عوام کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا۔حالیہ تاریخ میں امریکہ کی چوہدراہٹ کا خاتمہ اسی جانب اشارا کرتا ہے۔جدید ٹیکنالوجی صرف مصنوعات کے پیداواری عمل کو تیز نہیں کرتی،ورکرز کے شعور میں بھی بیش بہااضافہ کرتی ہے۔ پاکستان کے ورکرز کے شعور میں اضافہ کوئی نہیں روک سکتا۔شعور کھرے کھوٹے کی تمیز کے ساتھ کھوٹا مال بیچنے والے کی گردن پر ہاتھ ڈالنے کا حوصلہ بھی دیتا ہے۔تبدیل شدہ ماحول میں پارلیمنٹ کو بھی مجبوراً اپنا کھویاہوا وقار بحال کرنا ہوگا۔ 57اسلامی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں کئے جانے والے فیصلوں سے اعراض برتا گیا تو بہت جلد اس غلطی کے نتائج دنیا دیکھ لے گی۔اسلام آباد اجلاس کے بعد روس نے ٹرائیکا پلس ممالک (روس، چین، امریکہ اور پاکستان) کا اجلاس بھی بلا رکھا ہے۔یہ بلاوجہ نہیں بلایا گیا۔افغان عوام کے ساتھ ماضی کے برعکس رویہ اختیار کرنا ایک عالمی ذمہ داری ہے۔وزرائے خارجہ کی اسلام آباد اجلاس میں شرکت ایک رسمی کارروائی نہیں ہوگی، اسے نتیجہ خیز بنائے جانے کے
امکانات سے انکار ممکن نہیں۔ امید ہے دولاکھ90ہزارپریشان حال افغانیوں کی پاکستان آمدکو درست تناظر میں دیکھا جائے گا۔یہ حد درجہ حساس مسئلہ ہے۔کروڑوں افغانیوں کو امریکی انا پر قربان کرنا آج پاگل پن سمجھا جائے گا۔ ابھی دوحہ معاہدے کی سیاہی نہیں سکھی، امریکہ کو اس کا ایک ایک لفظ یاد ہوگا۔یہ بھی یادہوگا کہ31اگست کا دن کابل سے روانگی کا آخری دن تھا۔افغان عوام کے اثاثے واپس کر دیئے جائیں، افغان عوم کی فوری ضروریات پوری اور مشکلات کافی حد تک دور ہو جائیں گی۔جفاکش لوگ ہیں،روکھی سوکھی کھا کر جینا جانتے ہیں، جی لیں گے۔امریکہ ہوش سے کام لے، دنیاکو مشکلات کی طرف نہ دھکیلے۔یہ نہ بھولے کہ غلط فیصلوں کا انجام امریکی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ اسلام آباد اجلاس کا یہی پیغام ہے، افغانستان میں بھی ریاست مدینہ تشکیل دینے والے ہی رہتے ہیں۔


