ڈیرہ بگٹی میں کوئی نظریاتی فراری نہیں، سب کو پیسے دے کر پہاڑوں پر بھیجا گیا، سرفراز بگٹی

سوئی:چاکرانی بگٹی قبائل اور مزاری قبائل کے درمیان دیرینا خوناریزی کا صلح ہوگیا ہے سینیٹر میرسرفراز بگٹی کی سربراہی میں قبائلی عمائدین وڈیرہ محمد بخش موندرانی بگٹی بلوچستان عوامی پارٹی کے ضلعی صدر میرجمال کلپر وڈیرہ شاہ مراد بگٹی میر شاہ نواز بگٹی وڈیرہ درانی بگٹی وڈیرہ نور علی بگٹی دیگر میڑ ھ لے کر مزاری گوٹھ وڈیرہ غلام حیسن مزاری کے گھر پہنچ مزاری قبائل نے بلوچی روایات کے مطابق چھٹی میرسرفراز بگٹی کو بخش دیا میرسرفراز بگٹی نے بلوچی چھتر کے عوض چھ لاکھ روپے دئیے میڑ ھ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر میر سرفراز بگٹی نے کہا ماضی میں مزاری قبائل اور بگٹی قبائل کے درمیان ہر ماہ جنگ ہوتی رہتی تھی جس کے نتیجے میں درجنوں بے گناہ اب تک شہید ہوئے ہیں وہ ہمارے سرداروں کے زاتی انا کی وجہ تھی کہ قوم ترقی نا کرسکے ہر وقت جنگی حالت میں رہے لیکن جب سے ہم اقتدار میں آِئے ہیں ہم نے اب تک مزاری بگٹی قبائل کے کافی صلح کروائے ہیں اوربگٹی قبائل کے دیگر نزدیکی قبائل ان کے ساتھ جتنے بھی قبائلی لڑائیاں تھی وہ ختم کیے ہیں ہمارا مقصد صرف اور صرف امن ہے ڈیرہ بگٹی میں اس وقت سیاسی۔شعور آچکا ہے لوگ آمن پسند ہیں وہ کسی قبائل کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے ہیں ڈیرہ بگٹی میں اس وقت کوئی ایسا ایک فراری بھی نہیں ہے جو نظریاتی طور پر پہاڑوں پر گیا ہو اس وقت جتنے بھی فراری ہیں ان کو پیسہ دیا گیا اور ان ظالموں نے ان کو غلام بنایا اور بگٹی قبائل کے اندر آپس میں لڑیا گیا یا دوسرے قبائل سے لڑیا گیا تاکہ وہ واپس نا آسکے نسل درنسل ان کے غلام بن کر اسی طرح ان کے کہنے پر لوگوں سے لڑتے رہے ہیں لیکن الحمداللہ جب سے میرے والد مرحوم میرغلام قادر بگٹی نے ڈیرہ بگٹی میں نظام سنبھالا تو درجنوں فراری سرنڈر کروائے ہیں اور ڈیرہ بگٹی میں امن پیدا کرنے کے لیے سیکورٹی فورسزز کو مکمل سپورٹ کیا ہے آج اسی محنت کا نتیجہ ہے بگٹی قبائل کی اکثریت خود ساختہ نوابزدوں کو چھوڑ کر ہمارے ساتھ سیاسی سوچ امن کو سپورٹ کرکے ہر صلح ہمارے ہاتھ میں دے رہے ہیں آپ سب کو پتہ ہے اس وقت وبائی صورتحال میں لاک ڈوان میں باہر نہیں نکلا جاسکتا ہے لیکن رات کو مجھے میرجمال خان نے کال کیا کہ مزاری قبائل نے میڑھ کو ٹائم دیا تو میں رات سے سفر کرتا ہوا آج یہاں پہنچا ہوں تاکہ ہم اپنے امن کے مشن کو کامیابی سے مزید کامیاب بنائے

اپنا تبصرہ بھیجیں