ملک کا اصل مسئلہ
یوں تو ہرشخص مسائل کی گٹھڑی اٹھائے پھرتا ہے،عام آدمی کے لئے روز انہ کی بنیادوں پر بڑھتی ہوئی بے قابو مہنگائی ہے۔اپوزیشن حکومت کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کہتی ہے اورعوام کو ساڑھے تین سال سے یہی نکتہ سمجھا رہی ہے کہ جب تک پی ٹی آئی کی مسلط کردہ حکومت اقتدار میں ہے اس وقت تک پاکستان میں مہنگائی میں اضافہ ہوتا رہے گا۔حکومت مہینے میں دو بار پیٹرول اور بجلی کے ریٹ بڑھا کر اپوزیشن کے دعوے کو ثبوت فراہم کر دیتی ہے۔دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان تسلسل اور تواترسے تین ماہ بعد مہنگائی میں خاتمہ کی نویدسناتے ہیں۔ان کی کوشش ہے تین تین ماہ کا آسرا دے کر اپنی پانچ سال کی مدت پوری کر لیں۔شاید انہیں روقع ہے کہ آخری ڈیڑھ سال میں کچھ ایسے نتائج حاصل کر لیں گے جو عوام کی ناراضگی دور کرنے میں مددگارثابت ہوں گے۔اس ضمن میں وہ خیبر پختونخوا میں کئے گئے تجربے کا حوالہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہاں بھی معاملات ٹھیک کرنے میں انہیں تین ساڑھے تین سال لگے تھے، اس دوران لوگ پوچھتے تھے:”کہاں ہے نیا پاکستان؟“، اور جب مدت پوری ہوئی توہماری کارکردگی کوعوام میں پذیرائی ملی اور خیبرپختونخوا کے عوام نے اپنی دیرینہ روایت کے برعکس پی ٹی آئی کودوسری مرتبہ بھی اقتدار میں لانے کا فیصلہ کیا۔علاوہ ازیں پی ٹی آئی کو اسمبلی میں دو تہائی اکثریت بھی دلائی۔ خیبر پختونخواکا تجربہ ان کے ذہن پر نقش ہے، انہیں یقین کی حد تک امید ہے کہ آخری ڈیڑھ سال میں وہ عوام تک مطلوبہ نتائج پہنچانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔اپوزیشن اور حکومت کے درمیان یہ صرف سوچ کا فرق نہیں بلکہ عملی اعتبار سے بھی رویوں میں فرق ہے۔پی ٹی آئی کی حکومت افراد(بیوروکریسی) کی اصلاح پر توجہ نہیں دیتی، بلکہ اداروں کی اصلاح میں مصروف ہو جاتی ہے۔ اس مرتبہ پی ٹی آئی کو وفاق کے ساتھ تین صوبوں میں بھی اقتدار ملا ہے۔صرف صوبہ سندھ میں پی پی پی کی حکومت ہے۔مسلم لیگ نون اراکین اسمبلی کی تعداد کے لحاظ سے بڑی پارٹی ہے مگر اس کے پاس اس بار کوئی (بالخصوص پنجاب کی)حکومت نہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ 80کی دہائی کے بعد نون لیگ کو پنجاب کی حکومت بھی نہیں مل سکی۔مبصرین کے علاوہ عوام کو بھی یاد ہوگا ساڑھے تین سال پہلے میڈیا پر کہاجا رہا تھا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین نے پنجاب کے بغیر وفاق میں اقتدار سنبھالنے سے انکار کر دیا تھا۔وہ پاکستان کے ماضی سے باخبر تھے، جانتے تھے، ملک کی اصل حاکم وہی پارٹی ہوتی ہے جس کے پاس پنجاب کی حکومت ہو۔ وفاق میں پی پی پی کی حکومت کے لئے مسلم لیگ نون بہت بڑا مسئلہ رہی۔وزیر اعظم کی حیثیت سے محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے پنجاب میں پرائمری اسکول کا سنگ بنیاد رکھنا بھی مشکل ہو گیا تھا۔عدم اعتماد کی تحریک کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔یہ بھی ایک بڑی سچائی ہے کہ پنجاب کی حمایت کے بغیر پاکستان میں کوئی وفاقی حکومت نہیں بن سکتی۔قومی اسمبلی کی سب سے زیادہ سیٹیں پنجاب میں ہیں اس لئے کہ پنجاب کی آبادی باقی تینوں صوبوں سے زیادہ ہے۔اور اس پیچیدگی کو دور کرنے کے لئے سینیٹ (اپر ہاؤس) میں چاروں صوبوں کو مساوی نمائندگی دی گئی۔شروع میں تو صوبے خوش ہو گئے لیکن جیسے جیسے وقت گزرا یہ راز کھلتا گیا کہ سینیٹ مالیاتی معاملات میں بے اختیار ہے۔ اس سے رائے پوچھی جاتی ہے مگر مشترکہ اجلاس میں سینیٹ کی رائے بلڈوز ہو جاتی ہے۔ جیت اسی پارٹی کی ہوتی ہے جس کے پاس سینیٹ میں اکثریت ہو۔یہ بھی دیکھا گیا ہے قومی اسمبلی کے اپوزیشن ارکان بوجوہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے حکومتی ارکان سے زیادہ غیر حاضر ہو جاتے ہیں۔ پارلیمانی جمہوریت کا یہی حسن ہے جس کا جلوہ پاکستان کے عوام ہر اہم موقع پر دیکھتے ہیں۔، اور آہستہ آہستہ اس پارلیمانی ادا کے عادی ہو گئے ہیں۔اس رویہ کے منفی اثرات پر بحث کرنے کی مبصرین کے پاس فرصت نہیں۔ صرف جذباتی نعرے بازی تک گفتگو کرتے ہیں اور اسی طرح پارلیمان اپنی مدت پوری کر لیتی ہے۔ قانون سازی میں اراکین پارلیمنٹ دلچسپی لیتے تو پاکستان کو 22ویں بارکشکول اٹھائے آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑتا۔اپوزیشن کو صرف اپنی اقتدار سے بے دخلی کا دکھ ہے۔اسچسوال پر ایک دن بھی سنجیدہ بحث نہیں کی جا سکی کہ پاکستان مالیاتی طور پر دیوالیہ ہونے کے قریب کیوں پہنچا۔مسلم لیگ نون کے جاتے پاکستان کو دوست ممالک سے اربوں ڈالر قرض کیوں لینا پڑا؟(جس کا ذکر وزیر اعظم پاکستان اکثرو بیشتر تقریبات میں کرتے ہیں)اور اس کے صلے میں دوست ملک نے عالمی برادری میں پاکستان کی کس حد تک بے عزتی کی؟وزیر اعظم پاکستان، وزیر خارجہ،اور نمائندے کو آئی ایم ایف نے ملائیشیا جانے سے کبھی نہیں روکا۔(اس تکلیف دہ سلوک کا ذکر وزیراعظم پاکستان کبھی زبان پر نہیں لاتے)ایف اے ٹی ایف نے مسلم لیگ نون کے دورِ حکومت میں گرے لسٹ میں ڈالا تھا۔عوام سے حقائق نہ چھپائے جائیں۔ریکو ڈک کے قیمتی معدنی ذخائر کی مالیت1000ارب ڈالر میڈیا کے ذریعے بتائی جاتی ہے۔سابق وزرائے اعلیٰ بلوچستان نے آج تک اس بارے 2فیصد سے زائد صوبائی حصے کی بات نہیں کی۔اب موجودہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے بلوچ عوام کو امید دلائی ہے کہ صوبے کو ماضی کے مقابلے میں زیادہ حصہ ملے
گا۔ اور معاملات اطمینان بخش طریقے سے معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ پارلیمنٹ میں عوامی مسائل پر بحث نہ کی جائے تو یاد رہے عوامی مسائل کا حل پارلیمنٹ نہیں دے سکتی۔ عوام سے 74سال مسلسل جھوٹ بولا گیا، تفصیلات دہرانے کی ضرورت نہیں، عوام جانتے ہیں۔ماضی میں لیا گیاقرض آج عوام کو ادا کرنا پڑ رہا طہے، آج لیا جانے والا قرض ہماری آئندہ نسلیں ادا کریں گی۔قرض دینے والا آئی ایم ایف ہو یا ہمارا دیرینہ دوست ہو،قرض دونوں مانگ لیتے ہیں۔آئی ایم ایف اچانک واپسی کا تقاضہ نہیں کرتا، طے شدہ شیڈول کے مطابق تقاضہ کرتا ہے، جبکہ دیرینہ دوست بیچ چوراہے گریبان پکڑ لیتاہے۔دوستی مقروض سے نہیں کی جاتی، کہا جاتا ہے ”گھوڑا گھاس سے یاری رکھے گا تو کھائے کیا؟“،تجربے نے سکھایا ہے سود خور دوست سے سودخور بینک بہتر ہے۔جس اپوزیشن کی نظریں چوبیس گھنڑے گیٹ نمبر چار پر مرکوز ہوں، جس کے ارکان فون کال پر عمل کرتے ہوں اور آج بھی امریکہ کو عالمی طاقت مانتے ہوں اس سے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ پی ٹی آئی کی حکومت کو قبل از وقت گھر بھیجے گی۔جو مبصرین زمینی حقائق سے آنکھیں بند کرکے”خواہشات“ کو سب کچھ سمجھتے ہیں،وہ تیل دیکھیں، تیل کی دھار دیکھیں۔


