48گھنٹوں میں تحریک عدم اعتمادلانے کا اعلان
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لئے اپوزیشن نے ریکوزیشن تیار کر لی ہے،100 سے زائداراکین نے دستخط کادیئے ہیں،اگلے 48گھنٹوں میں تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی۔انہوں نے کہا ہے نمبرزپورے ہیں،کامیابی کا سو فیصدیقین ہے۔اپوزیشن کا حکومت کو گرانے پر اتفاق ہے۔حکومت گرانے کے بعد نئی حکومت کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی،جب وہ مرحلہ آئے گا تب اس پر بھی فیصلہ کر لیا جائے گا۔ہمارا فوکس ہے کہ خزاں جائے، بہار آئے یا نہ آئے۔ہم عدم اعتماد سے پہلے کسی داخلی تنازع میں نہیں پڑنا چاہتے۔ نئی حکومت کے قیام سے متعلق ابھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ اپوزیشن جماعتیں حکومت کے اتحادیوں پر انحصار نہیں کر رہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ایسٹبلشمنٹ سے رابطہ نہیں، ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ پی پی پی اور نون لیگ میں سے کسی کا رابطہ ہے تو اس کا جواب وہ جماعتیں خود دے سکتی ہیں۔البتہ وہ(مولانا) سمجھتے ہیں کہ ایمپائر بظاہر نیوٹرل نظر آرہے ہیں۔اس سے ملتے جلتے خیالات کا اظہار پی پی پی کی قیادت بھی کر رہی ہے۔انہیں لگتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے۔بعض عید سے پہلے عید منانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔جبکہ حکومت بھی ماضی کی نسبت زیادہ سرگرم ہو گئی ہے۔ وزیر اعظم اپنی اتحادی جماعت مسلم لیگ قاف کی قیادت سے ملنے ان کی رہائشگاہ جا چکے ہیں۔دوسری اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے مرکزی دفتر جانے کا شیڈل طے ہے۔حکومتی بھاگ دوڑ سے بھی یہی اشارہ ملتا ہے کہ اس بار انہیں خطرہ محسوس ہو گیا ہے۔علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے پیٹرول، ڈیزل،اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کی ٹائمنگ بھی معنی خیز ہے۔حکومت نہیں چاہے گی کہ مسلم ممالک کے وزراء خارجہ کی کانفرس سے قبل دنیا کو پاکستان میں حکومت کی پوزیشن غیر مستحکم دکھائی دے۔اس لئے حکومت نے بھی اپنی حکمت عملی بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔وزیر خزانہ بھی متحرک ہیں،ٹی وی چینلز پر آئی ایم ایف کے حوالے سے گفتگو کر تے نظر آتے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے اعلان سے پہلے آئی ایم ایف سے بات کر لی گئی ہے، یہ پیکج کوئی قرضہ لے کر نہیں دیا جارہا،اس کی منصوبہ بندی دوماہ سے کی جارہی تھی۔وزیر اعظم نے اپنے ریلیف پیکج کا اعلان کرتے ہوئے قیمتوں میں کمی کا سبب ٹیکس وصولی میں اضافہ قرار دیا ہے۔عام آدمی کو اس سے غرض نہیں کہ وجہ کیا تھی،اسے مہنگائی نہیں ریلیف چاہیئے۔ساڑھے تین سال سے مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہوتارہا ہے،اور لگاتار اضافے نے عام آدمی کی پریشانی کو ازحد ناقابل برداشت بنادیا ہے۔ابھی عام آدمی کے دکھوں میں کمی نہیں ہوئی،صرف اضافہ رکنے کا اشارہ ملا ہے۔ آج کل پی ٹی آئی اور پی پی پی دونوں سڑکوں احتجاجی ریلیاں نکال رہی ہیں۔دونوں اس کوشش میں ہیں کہ عوام کو قائل کرسکیں کہ وہی عوام کی مشکلات کا مداوا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے،مخالف فریق اس صلاحیت سے بے بہرا اور محروم ہے۔ چونکہ48گھنٹے انتہائی مختصر وقت ہے،پلک جھپکتے گزر جائے گا۔اپوزیشن کے حکومت کو گرانے کے دعووں میں کتنی صداقت ہے؟ سامنے آجائے گی۔ان ہاؤس تبدیلی میں عوام کا سڑکوں پر ہونا ضروری نہیں۔قومی اسمبلی کے فلور پرجیسے ہی 172ارکان قومی اسمبلی وزیر اعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں،حکومت کاخاتمہ ہو جاتا ہے۔لیکن نیا وزیر اعظم کون ہوگا؟ یہ طے کرنا بھی ایک لازمی شرط ہے۔واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہاہے:”انہیں صرف خزاں کی جانے سے غرض ہے، اس کے بعد بہار آئے یا نہ آئے! اس سے انہیں کوئی غرض نہیں“۔مولانا کے اس سوال میں ایک سے زائد جواب طلب نکات پوشیدہ ہیں۔شاید انہیں بھی اس جملے میں پائیجانے والی گہرائی اور حساسیت کا احساس نہ ہو، مگر سنجیدہ مبصرین سمجھتے ہیں کہ انہوں نے:”انہیں صرف خزاں کی جانے سے غرض ہے، اس کے بعد بہار آئے یا نہ آئے! اس سے انہیں کوئی غرض نہیں“ کہہ کر سوالات کا ایک پینڈورا بکس کھول دیا ہے۔ماضی قریب میں خلیجی ریاستوں میں ”بہار“ کے نام پر جو تحریک چلی تھی اس کا انجام عرب عوام کے مہلک ثابت ہوا۔اچھے خاصے ہنستے بستے آبادملک اجڑ گئے، راکھ کا ڈھیر بن گئے۔وہاں امریکی ذہن کارفرما تھا،اس کا علم بہت بعد میں ہوا۔پاکستان میں بھی ایک سے زائد بار ملک عدم استحکام سے دوچار ہو چکا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا خاتمہ”نظام مصطفےٰ“ لانے کا پرکشش نعرہ لگا کر کیا گیا تھا،مگر نتیجہ ایک مارشل لاء کی شکل میں نکلا۔موجودہ حالات میں عوام کے مذہبی جذبات سے کھیلنے والا نعرہ ”ریاست مدینہ“ کے خوبصورت استعارے کے طور پر حکومت کے پاس ہے۔اپوزیشن ”بہار“ اور ”خزاں“جیسی لطیف تشبیہات سے کام چلانے پر مجبور ہے۔عام آدمی معاشی مسائل کا شکار ہے، مہنگائی نے اس کی حس لطافت چھین لی ہے،بہار کی تمنا عوام اس وقت کریں گے جب موجودہ حکومت کو وہ خزاں سمجھیں گے۔80لاکھ خاندانوں کو 14000روپے گھر بیٹھے مل رہے ہوں تو وہ اس عمل کو ”خزاں“کیسے اور کیوں کہیں گے؟دیگر حکومتی ترغیبات سے استفادہ کرنے والے بھی مولانا کی رائے سے اتفاق نہیں کریں گے،جبکہ مولانا انہیں خزاں کے جانے کے بعد بہار آنے کا یقین بھی نہیں دلا رہے۔ لگتا ہے مولانا خود بھی بہار کی امید نہیں رکھتے،ونہ میڈیا کے روبروصرف خزاں کے جانے سے غرض اور بہار سے لاتعلقی کا اظہار نہ کرتے۔الغرض حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جو آنکھ مچولی جاری ہے عوام گھروں بیٹھے ٹی وی یاواٹس ایپ دیکھنے میں مصروف ہیں۔ اپوزیشن اور عوام ابھی تک ایک پیج پر نہیں نظر آتے۔بلکہ بیشتر معاملات میں خود اپوزیشن بھی ایک پیج پر نہیں آسکی۔مسلم لیگ نون اور پی پی پی ”لانگ مارچ“ جیسے اہم احتجاج کے موقع پر بھی ایک نہیں۔علاوہ ازیں نون لیگ میں قیادت کا جھگڑا تاحال طے نہیں کیا جا سکا۔دو دھڑے الگ الگ کام کر رہے ہیں، جبکہ تیسرا ”ناراض“ گروپ بھی کبھی کبھار خبروں کی زینت بن کر اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔مبصرین کوئی دو ٹوک رائے دینے سے گریزاں ہیں۔گومگوکی کیفیت میں ہیں۔ 48گھنٹے گزرتے ہی وہ اس کیفیت سے باہر آجائیں گے۔اتنی مختصر مدت عموماً سیاست دان دیا نہیں کرتے، مولانا فضل الرحمٰن ایک جہاں دیدہ اور سرد و گرم چشیدہ شخصیت ہیں،نووارد نہیں،اگر انہوں نے تحریک عدم اعتماد 48گھنٹوں میں جمع کرانے کا اعلان کیا ہے تو سوچ سمجھ کر کیا ہوگا۔


