حفیظ بلوچ سمیت دیگر لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے،آغا حسن بلوچ
اسلام آباد/کوئٹہ :بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ایم این اے آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ مرکزی کمیٹی کے ممبر ایم این اے حاجی ہاشم نوتیزئی نے حفیظ بلوچ کی عدم بازیابی اسلام آباد کی دانش گاہوں میں بلوچ طلباکو ذہنی کوفت سے دوچار کرنے ہراساں کرنے سے متعلق لگائے گئے احتجاجی کیمپ جا کر اظہار یکجہتی کی کیمپ میں بیٹھے بلوچ طلباسے ملاقات کی اور پارٹی کی جانب سے حفیظ بلوچ سمیت لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے طلباپر امن طور پر احتجاج کر رہے ہیں ان کو تشدد کا نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حفیظ بلوچ سمیت دیگر لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر دانش گاہوں میں بلوچ طلباکیلئے دروازے بند کرنے اور ذہنی کوفت سے دوچار کرنے کا سلسلہ فوری طور پر ترک کیا جائے موجودہ حالات سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ وہ اب بلوچ طلباو طالبات کو علم کے زیور سے آراستہ ہونے سے روکنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں حالانکہ طلباو طالبات معاشی طور پر پسماندہ ہیں والدین نے طلباو طالبات کو تعلیم حاصل کرنے کیلئے اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر یونیورسٹیوں میں پڑھنے کیلئے بھیجا ہے مگر ناروا سلوک روا رکھتے ہوئے کوشش کی جا رہی ہے کہ بلوچ طلباکو مزید تعلیم جاری رکھنے سے روکا جائے انہوں نے کہا کہ ہمارے آنے کا مقصد آپ کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا ہے بی این پی کے قائد سردار اختر جان مینگل نے سپریم کورٹ پارلیمنٹ سمیت ہر فورم پر لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے آواز بلند کی تاکہ لاپتہ افراد فوری طور پر بازیاب ہو سکیں موجودہ حکومت کا ساتھ بھی اسی لئے چھوڑا کہ وہ بھی لاپتہ افراد کی بازیابی سمیت دیگر نکات پر ٹل مٹول سے کام لے رہے تھے بارہا کوشش کی جا رہی ہے کہ ایسا بل پارلیمنٹ سے منظور کروائیں کہ وہ غیر آئینی گرفتاریوں لوگوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ بند ہو سکے ملک میں عدالتیں موجود ہیں اگر کوئی شخص کسی بھی جرم میں ملوث ہے انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے اور آئینی تقاضے پورے کئے جائیں یہ نہیں ہونا چاہئے کہ لوگوں کو لاپتہ کر کے ان کے گھر والوں کو ذہنی کوفت سے دوچار کیا جائے انہوں نے پارٹی کی جانب سے یقین دہانی کروائی کہ پارٹی ہر فورم پر حفیظ بلوچ سمیت دیگر لوگوں کی بازیابی اور طلباکے مسائل کے حل کیلئے آواز بلند کرنے کو ترجیح دے گی پارٹی نے پہلے بھی قومی جمہوری انداز میں لاپتہ افراد کا بازیابی کو اہمیت دی اور آگے بھی یہی کوشش ہے کہ حفیظ بلوچ سمیت تمام افراد کو بازیابی کرایا جائے بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے بلوچستان کے بحرانی حالات میں تب ہی بہتری آ سکتی ہے جب بلوچ مسئلے کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی جائے ۔


