سیاسی سفر سست روی کا شکار

سیاست کے بارے میں انقلابی رہنما کامریڈ لینن کہہ چکے ہیں کہ یہ ایک حددرجہ پیچیدہ اوردشوار سفر ہے جسے انتہائی برد باری، صبرو تحمل اور دانشمندی سے طے کرنا ہوتا ہے۔یہ کوئی وسیع و عریض سڑک کا سفر نہیں کہ آپ بگٹٹ بھاگتے چلے جائیں۔سیاست ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیوں پر چلنے کاکام ہے جس کے دونوں جانب خاردار جھاڑیاں اگی ہوں۔ آپ نے ان کانٹوں سے الجھنا نہیں،بلکہ اپنا دامن بچاتے ہوئے تیزی سے منزل کی طرف قدم بڑھانا ہے۔آج پاکستان کی سیاست بھی ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیوں سے گزر رہی ہے۔یہ سفر وسیع و عریض سڑک کے سفر سے مختلف ہوتا ہے۔دونوں جانب اگی خاردار جھاڑیوں سے اپنادامن بچاناہے اورمنزل کی جانب بڑھنا ہے۔واضح رہے یہ سفر سست رفتار ہوتا ہے،تیزی سے آگے بڑھنا ممکن نہیں۔امریکی تحکمانہ رویئے سے پاکستان نے ماضی بعید میں ہی بھانپ لیا تھاکہ امریکہ اپنے مفادات کو ترجیح دیتا ہے،اپنی شرائط بتدریج سخت کرتا چلا جاتا ہے اور انجام کار پسماندہ ملک سیاسی اعتبار سے غیر مستحکم اور معاشی لحاظ سے ناقابل اصلاح اور ناقابل برداشت مشکلات میں پھنس جاتا ہے۔عراق، شام، افغانستان،اور افریقی ممالک کا حشر تاریخ کا حصہ ہے۔دنیا باخبر ہے۔آج کل یوکرین امریکی وعدوں پر اعتماد کرنے کی سزا بھگت رہا ہے۔ امریکہ نے اسے تنہا چھوڑ دیا ہے۔پاکستان کو 70کی دہائی میں ایسے ہی حالات کا سامنا تھا۔ امریکی بحری بیڑہ بھیجنے کا کہا اور جلد پہنچنے کاآسرا دیتارہا،نتیجہ سب کے سامنے ہے۔پاکستان کا امریکہ سے تعلق اسی وقت کمزور ہوگیاتھا،مگر مناسب عسکری اور معاشی قوت بنے بغیرامریکہ کو ”ایبسولیوٹلی ناٹ“ کہنا ممکن نہیں تھا۔چنانچہ پاکستان نے چین کے ساتھ اپنے سیاسی اورمعاشی تعلقات قائم کرنے پر توجہ دی۔امریکہ جن دنوں افغانستان کوپتھرکے زمانے میں پہنچانے کی کوششوں میں مصروف تھاپاکستان اور چین خاموشی سے سی پیک منصوبے پر کام کررہے تھے۔ پاکستان اور چین کے درمیان باہمی کرنسی میں تجارت کرنے کے لئے2011میں دونوں ملکوں کے اسٹیٹ بینکوں میں اقدامات پر اتفاق ہوگیا تھا۔ 31 اگست 2021کو امریکہ نے 16مہینے قبل (فروری 2020 میں) کئے گئے دوہا معاہدے کے تحت کابل بھی خالی کردیا،اور اسے خطے میں ایک نئے فوجی اڈے کی ضرورت پیش آئی تو پاکستان کی جانب سے اسے غیر متوقع جواب سننے کو ملا۔یہی جواب بھارت سے بھی ملا۔ جاپان اور آسٹریلیا بھی امریکہ کے مفادات کی جنگ لڑنے سے کنارا کش ہوگئے۔بھارت شنگھائی تعاون کانفرنس کا رکن ہے،اس خطے کے جغرافیائی اور معاشی تقاضوں ادراک رکھتا ہے، اورجانتا ہے کہ سیاست معیشت کے تابع ہے۔بھارت امریکہ کا تزویراتی پارٹنر ہونے کے باوجود روس کے خلاف قراداد پر بحث کے دوران سلامتی کونسل کے اجلاس سے غیر رہا۔رویوں کی یہ تبدیلی اس امر کی غماز ہے کہ دنیا نئے ورلڈ آرڈر کی طرف گامزن ہے۔امریکہ اوراس کے اتحادی نیٹوممالک نے روس کے تیور دیکھ کر یوکرین کی مدد سے ہاتھ اٹھا لیا۔یورپی ممالک کے لئے یہ فیصلہ آسان نہیں تھا،مگر دنیا کو بڑی تباہی سے بچانے کے لئے درست اور ناگزیرتھا۔روس اپنی سلامتی اور بقاء کے لئے ہر اقدام اٹھانے کا عندیہ دے چکا ہے، بلکہ اس نے ایٹمی اسلحہ استعمال کرنے والے مخصوص دستوں کو چوکس رہنے کی ہدایت بھی جاری کر دی۔یوکرین کے معاملے میں وہ کوئی نرمی برتنے یا رعایت دینے کو تیار نہیں۔روس نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ اپنی سرحدوں پر امریکہ اور نیٹو ممالک کو مزائل نصب کرنے کی اسی طرح اجازت نہیں دے گا جیسے امریکہ اپنی سرحدوں کے قریب روس کو میزائل نصب کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ دنیا سمجھ گئی ہے کہ آج کا روس 90کی دہائی والاپسپا ہوتا ہوا روس نہیں، نئے اور تازہ دم مسلز کے ساتھ2022 کا ابھرتا ہوا روس ہے۔یوکرین کے صدر زیلنسکی امریکہ اور یورپ کو خبردار کر رہے ہیں کہ اگر روس کو یوکرین میں نہ روکا گیا تو روس ایک ایک کرکے سوویت یونین سے علیحدہ ہونے والی تمام ریاستوں پر قبضہ کر لے گا اور سوویت یونین دوبارہ قائم ہو جائے گی۔لیکن یوکرینی صدر کی آواز پر کوئی کان دھرنے کو تیار نہیں، سب کو اپنی پڑی ہے۔کہاوت ہے؛اپنی جان سب کو پیاری ہے۔امریکہ کی ہر جگہ یہ حکمتِ عملی رہی ہے کہ دوستی کے معاہدے کرو مگر ڈرون حملے جاری رکھو۔اس کے ساتھ ہیDo moreکا کا تقاضہ بھی کرتے رہو۔پاکستان نے اپنے مستقبل کو عراق شام اور لیبیاء جیسا ہونے سے بچانے کا راستہ اپنایا۔اور افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد امریکہ کو”ایبسولیوٹلی ناٹ“ کہہ دیا۔بدقسمتی سے اپوزیشن اور حکومت امریکہ سے تعلقات کے حوالے سے ایک پیج پر نہیں ہیں۔اپوزیشن آج بھی روس کو 80اور 90کی دھائی والا روس سمجھ رہی ہے، اور امریکہ ان کے خیال میں آج بھی روس کو پسپائی پر مجبور کرنے والی طاقت ہے۔حالانکہ 6ماہ پہلے امریکہ خوفزدہ حالت میں کابل سے اپنے فوجیوں کو بحفاظت نکالنے کی کوشش کر رہا تھا۔اس کے حمایتی اڑتے ہوئے جہازوں سے زخمی پرندوں کی طرح نیچے گر رہے تھے۔امریکہ نواز افغان صدراشرف غنی نوٹوں کے بریف کیس اٹھائے کسی نامعلوم منزل کی جانب جاچکے ہیں۔امریکی حمایت سے افغان طالبان کے خلاف مزاحمت کے دعویدار پیرس میں آباد ہیں۔ امریکہ اپنی ندامت چھپانے کے لئے دکھاوے کی چند شرائط پر عمل درآمد کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اسے علم ہے کہ جو کام وہ اپنے نیٹو حمایتیوں کے ساتھ 20برس میں مقامی تربیت یافتہ فوج سے نہ کراسکا اب پیرس میں بیٹھے مزاحمت کاروں
سے کیسے کرائے گا؟ لیکن اپنے عوام کے غیض و غضب سے بچنے کے لئے اسے ایک نام نہاد جنگ جاری رکھنی ہے۔اس کی بد قسمتی یہ ہے کہ اب عراق، شام، لیبیاء اور 2001والاافغانستان موجود نہیں۔آج2022میں اس کے مدمقابل جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ چین ہے، روس ہے۔چین نے اپنی مسلح افواج سے ایک گولی چلوائے بغیر بھارت سے لداخ واپس لے لیا ہے۔بھارت کو سلامتی کونسل میں امریکہ کے حق میں ووٹ دینے کی ہمت نہیں ہوئی۔ اب کوئی چیانگ کائی شیک موجود نہیں جسے امریکہ یواین او میں چین کو حاصل ویٹو پاورجیسے پروٹوکول کے ساتھ بٹھا سکے۔روس کے تازہ دم مسلز دنیا دیکھ رہی ہے۔آج کے تناظر میں پاکستان کی اپوزیشن بھی جلد یا بدیر زمینی حقائق تسلیم کر لے گی۔ 8مارچ کو جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد بھی دو چار روز میں آر یاپار جائے گی۔میڈیا اطلاعات کے مطابق17یا18مارچ تک کٹا/ کٹی سامنے آجائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں