سیاست کو تشدد سے بچایا جائے
سیاست میں تشدد کا عنصر شامل ہونا ایک سنگین غلطی ہے،اس سے دور رہنے کی ضرورت ہے۔بد قسمتی سے پاکستان گزشتہ چار پانچ دہائیوں سے اس سماجی برائی کا شکار ہے۔اگر جمہوری سیاست پر یقین رکھنے والی سیاسی جماعتیں بھی تشدد کا کلچر اپنا لیں تو اس سے نہ صرف جمہوریت کو نقصان پہنچے گا بلکہ ملکی معیشت بھی تباہ و برباد ہو جائے گی جو پہلے ہی ایم آئی ایف کے آکسیجن ٹینٹ میں ہے۔مسلم لیگ نون کو ملکی معیشت سدھارنے کا ٹاسک ملا ہے۔امن امان کی صورت حال بگڑ گئی تو یہ ٹاسک پورا کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے چناؤ میں جو کچھ ہوا،سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والا ہر شہری اس کی حمایت کرنے میں ہچکچائے گا۔ صوبائی اسمبلی ایک قانون ساز ادارہ ہے۔قانون ساز ادارے کے اراکین اگر قانون ہاتھ میں لیں، اخلاقیات کی تمام حدود پار کر جائیں اور چھوٹے بڑے کی تمیز کھو بیٹھیں تو سیانے اسے ایک خطرناک اور مہلک سماجی سمجھتے ہیں۔تاریخ یہی بتاتی ہے کہ تشدد اسمبلی سے باہر نکل کر پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ لاقانونیت کا عفریت گلی کوچوں تک اپنے قدم جما لیتا ہے۔عام آدمی کی زندگی مہنگائی کے ہاتھوں پہلے ہی اجیرن ہے،وہسختیاں برداشت کرنے کا عادی ہے، لاقانونیت کا وار سہہ لیتا ہے،لیکن خواص آسانی پسند ہیں، وہ اپنا کاروبار سمیٹ کر پر امن ممالک کی طرف ہجرت کر جاتے ہیں۔پاکستانی صنعت کاروں کی بنگلہ دیش منتقلی ایسے ہی پریشان کن حالات کا نتیجہ تھی۔ماضی میں تشدد کو خطے میں جاری امریکی تسلط کی کوشش بالخصوص افغانستان میں نیٹو افواج سمیت آنا اوراس کے خلاف افغان عوام کی مزاحمت کے اثرات قرار دیا جاتا تھا۔یاد رہے کہ 90کی دہائی یعنی ربع صدی پہلے سے جاری سماجی رجحان ہے، ماضی کاقصہ نہیں۔حال تک اکے نشانات ملتے ہیں۔حالانکہ 90کی دہائی میں پاکستانی معاشرے میں کمپیوٹر نے اپنے قدم جمانا شروع کئے تھے،ان دنوں پرنٹ میڈیاکاتبوں کی ہنرمندی کامحتاج تھا۔دفاتر میں بھی کلرک سارا ریکارڈ جمع کرتے تھے، اسے پٹواریوں کا راج بھی کہہ سکتے ہیں۔ مگرآج یہ منظر خاصا تبدیل ہو گیا ہے، محکمہ بندوبست اراضی کا سارا کام کمپیوٹر نے سنبھال لیا ہے۔انگلی کے ایک اشارے پر مطلوب تفصیل سیکنڈوں میں سامنے آجاتی ہے۔تمام شعبہ ہائے زندگی کمپیوٹر کی راجدھانی میں شامل ہو چکے ہیں۔اس معاشرتی تبدیلی کے اثرات اور اثر پذیری کو یکسر نظر اندازنہیں کیا جا سکتا۔یاد رہے کمپیوٹر نے صرف کام کرنے کا انداز نہیں بدلا، انسانی فکر پر اس کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ماردھاڑ اور قتل غارت گری پر مبنی (مولا جٹ ٹائپ) فلمیں دیکھنا بچوں نے بھی ترک کر دی ہیں۔اگلے روز پنجاب اسمبلی میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے انتخاب سے چند لمحے قبل پیش آنے والے واقعات اب تاریخ کا حصہ ہیں۔مستقبل قریب میں خود نون لیگ کوعلم ہوجائے گا 16اپریل 2022کو انہوں نے کیا کھویا اور کیا پایا؟اس لئے کہ آج ذرائع مواصلات ماضی کے مقابلے میں کئی گنا تیز ہو گئے ہیں۔پاکستان جیسے کمزور معیشت والے ملک میں موبائل کروڑوں افراد کے ہاتھوں میں موجود ہے، معلومات شیئر کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ بیٹھے بٹھائے تازہ ترین ویڈیوز لاکھوں افراد دیکھ رہے ہوتے ہیں۔حیرت ہے مختلف انواع کی مشکلات میں پھنسی نون لیگ کی اعلیٰ قیادت(شریف برادران) نے گزشتہ چھ برسوں میں (2016 میں وزرات عظمیٰ سے ہٹائے جانے سے آج تک)معزولی کے اسباب پر مناسب سوچ بچار نہیں کی یا انہیں بار باراقتدار میں آنے کا اس قدر یقین ہے کہ انہیں سوائے مقتدرہ سے معافی تلافی کے اور کچھ سوچنے کی ضرورت ہی نہیں۔ ورنہ مسلم لیگ نون ماردھاڑ والی حکمت عملی سے اپنے مخالفین کوزیر کرنے کا راستہ اختیار نہ کرتی۔مبصرین کے لئے بھی اس رویئے کے اسباب تلاش کرنا آسان نہیں۔یہی کہا جا سکتا ہے کہ ان کے پاس دلائل کا ذخیرہ ختم ہو گیا تھا۔اسواقعے میں قاف لیگ کیجانب سے تاخیری حربوں کا سمل دخل بھی دکھائی دیتا ہے۔لیکن عمومی تأثر یہی ہے کہ شریف فیملی ابھی تک 90کی دہائی والی سوچ سے باہر نہیں نکلی۔مگر پنجاب اسمبلی کے فوراً بعد کلمہ چوک کے قریب ایک سادا لباس میں میجر کواپنی کار لیگی رہنماؤں کی گاڑی سے آگے بڑھانے پرتشدد کا نشانہ بنانا ایک چونکا دینے والا عنصر ہے۔گویالیگی اراکین اسمبلی گھر جاتے ہوئے بھی اس قدر طیش میں تھے کہ معمولی بات پرعام شہریوں کو مارنے پیٹنے پر اتر آئے۔ ممکن ہے ابھی انہیں احساس نہ ہو،مگر جلد ہی انہیں علم ہو جائے گا کہ یہ واقعہ نون لیگ کی مشکلات میں نقصان دہ اضافہ ہے، نہیں ہونا چاہیئے تھا۔وزارت عظمیٰ کا چارج سنبھالتے ہی شہباز شریف جان گئے ہیں کہ انہیں بعض نئے اور بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ان چیلنجز میں مختلف الخیال جماعتوں پر مشتمل کابینہ کی تشکیل بھی شامل ہے۔ابھی تک کابینہ نہیں بن سکی، وجوہات وزیر اعظم سے پوشیدہ نہیں۔دو تہائی کی اکثریت والی حکومت کی شان اور قوت چکا چوند ہوتی ہے،جبکہ سادا اکثریت سے محروم اورقدم قدم پر دوسروں کی محتاج حکومت ان کے لئے پہلا تجربہ ہے۔دونوں حکومتوں کی ہیئت اور خاصیت میں بڑا فرق ہے۔ہر وقت دھڑکا لگا رہے نہ جانے کب کہیں سے کوئی فون آ جائے اور سارا کھیل آن واحد میں ریت کے گھروندے کی طرح زمین بوس ہوجائے!توکرب کی اذیت اور شدت وہی جانتا ہے جو کانٹوں کی سیج پر لیٹا ہو۔تماشائی اس سے بے خبر ہوتے ہیں۔وزیر اعظم نے میڈیا اطلاعات کے مطابق پی پی پی نے وفاقی کابینہ میں شامل نہ ہونے کا عندیہ دیا ہے،سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پہلے دوسرے دوستوں کو موقع دینا چاہتے ہیں۔دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ کے سابق صدر و سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین نے پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات پر کہا ہے:”پنجاب اسمبلی جیسے ایک جمہوری ایوان میں آئین اور قانون کا جس طرح مذاق اڑایا گیا پاکستان کی پارلیمانی وسیاسی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، آج کے سیاہ دن کے تاریک واقعات کبھی فراموش نہیں ہوں گے۔یوں لگتا ہے کہ سیاست ذاتی دشمنی اور مارپیٹ تک چلی گئی ہے، میں تو وزیر اعظم شہباز شریف کے لئے ایسے مناظراور قاف لیگ کے قائداور سابق وزیراعظم کے ریمارکس توجہ طلب ہیں،علاوہ ازیں اصلاح کے لئے اس بار شہباز شریف کے پاس بہت مختصر وقت ہے۔


