مسجد نبوی سمیت تمام عبادت گاہیں محترم ہیں

سعودی عرب کے تین روزہ دورے پر آئے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف اوران کے ہمراہ وفد کے اراکین جب مدینہ میں حاضری کے لئے مسجد نبوی پہنچے تو انہیں بعض پاکستانیوں کے مخالفانہ نعروں کا سامنا کرنا پڑا۔یہ واقعہ غیر متوقع اور اچانک تھا، اس کے علاوہ مسجد کا تقدس بھی فوری کارروائی کی راہ ایک وجہ بنا ہوگا کہ فوری طور پر کوئی اقدام دیکھنے میں نہیں آیا۔ البتہ بعد میں نعرے لگانے والکوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ان پر سعودی قوانین کے تحت مقدمات کی سماعت ہوگی اور جلد ہی سزا سنا دی جائے گی۔پاکستان کی طرح یہ معاملہ برسوں زیر سماعت رہنے کی امید نہیں۔اس دوران پاکستان میں حکمراں جماعت نے اس رویئے پر کڑی تنقید کی ہے اور اسے غلط اور نقصان دہ رجحان قرار دیا ہے۔احتجاج کرنے والوں کو بھی سوچنا چاہیئے کہ عبادت گاہوں میں نعرے بازی کو لے جانا ایک بہت بڑے خطرے کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔پاکستان میں ایک سے زائد بار سیاست مذہبی نعروں کے دباؤ میں آچکی ہے،اور اسے سمیٹناہر بار مشکل رہا ہے۔یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ پاکستان کو سنجیدہ معاشی مسائل کا سامنا ہے۔22ویں بار آئی ایم ایف کے پاس قرض کے لئے حاضر ہونے کی بناء پرآئی ایم ایف کے تیور ماضی سے مختلف ہیں،کڑی شرائط عائد کی ہیں اور ان میں کسی قسم کی نرمی کے لئے بھی آمادہ نہیں۔وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے بیانات سے محسوس ہوتا ہے کہ اس مرتبہ بوجوہ نون لیگ کو پہلے والی مراعات بشمول ڈالر کی قیمت ایک حد سے آگے نہ بڑھنے والی رعایت دینے کے موڈ میں نہیں ورنہ مسلم لیگ نون کے رہنما شاہد خاقان عباسی اور دیگروزراء بیک وقت عوام کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں،عالمی نرخوں میں فرق اور دی جانے والی سبسڈی کی تفصیلات نہ سمجھا رہے ہوتے۔ سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف حکام کا رویہ جارحانہ لگتا ہے، ورنہ وہ مئی کے وسط میں پاکستان آکر مذاکرات کی بات نہ کرتے۔مئی کے وسط میں وہ دیکھنا چاہیں گے کہ ان کی شرائط پر پاکستان کی وزارت خزانہ نے کتنا عمل کرلیا ہے۔یعنی حکومت کو پہلے شرائط پوری کرنا ہوں گی اس کے بعد ہی آئی ایم ایف قرض کی قسط جاری کرے گا۔دوسری جانب ملک میں ڈیزل غائب ہوگیا ہے، کسان سخت پریشان ہیں کہ فصل سمیٹنے کاکام کیسے مکمل کریں؟ادھر محکمہ موسمیات عید کے دنوں میں بارش کے امکانات بھی ظاہر کر رہا ہے۔بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی نون لیگی حکومت کے لئے ایک چیلنج کا درجہ اختیار کر گئی ہے۔ رمضان اور گرمی کے دنوں میں عوام کی پریشانی دوچند ہو گئی ہے۔ مسلم لیگ نون کی حکومت سابق حکومت کی ناقص حکمت عملی قرار دیتی ہے لیکن عوام جس عذاب سے دوچار ہیں انہیں دلائل کی بجائے بجلی کی فراہمی درکار ہے۔اس سال کوئی نئی وجہ دیکھنے میں نہیں آئی، ڈیمز میں پانی کی کمی معمول کا حصہ ہے۔ بجلی کی قلت ہونے سے پہلے ہی مناسب اقدامات کر لئے جاتے تو اس تکلیف سے عوام کو بچایا جا سکتا تھا۔جانے والی حکومت کو دوش دینا درست نہیں۔جن دنوں اسے لوڈ شیڈنگ کے لئے مناسب اقدامات کرنے تھے عین اسی دوران اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد جمع کراکے حکومت کے لئے کوچ کا بگل بجا دیا۔قبل از وقت روانگی کسی بھی حکومت کے لئے ایک مصیبت سے کم نہیں ہوتی۔اسی طرح اچانک حکومت کی ذمہ داری سنبھالنا بھی آسان کام نہیں، کابینہ کی تشکیل میں ہی دس پندرہ روز سے زائد وقت لگ جاتا ہیکس محکمے کی کیا ضروریات ہیں؟ انہیں کیسے حل کرنا ہے، معلومات جمع کرنے اور حل تک پہنچنے میں جو دن گزرتے ہیں،عوام کیپریشانی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔سب سے بڑا مسئلہ قومی خزانے کا خالی ہونا ہے۔بھاری رقم کے بغیر عوام کو ریلیف دینا ممکن نہیں۔یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف سعودی عرب کے تین روزہ دورے پر گئے ہوئے ہیں۔ جاتے وقت حکومت نے بعض توقعات کا اظہار کیا تھا،لیکن اصل حقائق کا علم واپسی پر ہوگا۔ اس لئے کہ کورونا نے دنیا بھر کی معیشت کو متأثر کیا ہے۔اس کے جاتے ہی روس اور یوکرین کی جنگ نے نئے مسائل پیدا کردیئے ہیں۔ورلڈ بینک نے اقوام متحدہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس جنگ نے طول پکڑا، جلد ختم نہ ہوۂی تو دنیا کو شدید غذائی قلت کا سامنا کرنا ہوگا، اسلئے کہ روس اور یوکرین گندم اور سن فلاور سمیت دیگر غذائی اجناس کے اہم برآمد کندگان ہیں۔جنگ جاری رہنے کی صورت میں دونوں ملکوں کے لئے اہداف حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔روس کے خلاف عائد کردہ امریکی پابندیاں بھی اثر انداز ہوں گی۔ پاکستان روس سے 30فیصد کم قیمت پر 20لاکھ ٹن گندم کی خریداری نہیں کر سکے گا، اس کے علاوہ پیڑولیم مصنوعات بھی دیگر ممالک سے مہنگی خریدنے پر مجبور ہوگا۔آئی ایم ایف کی شرائط میں سبسڈی ختم کرنے کی شرط بھی موجود ہے۔گویا قرض مل بھی گیا تو عوام کو مہنگائی کے چنگل سے نجات دلانا ممکن نہیں ہوگا۔ عوام کس کے خلاف کس سے دہائی دیں گے؟ اس کا علم آنے والے مہینوں میں ہوگا۔ موجودہ حکومت نے دو ٹوک الفاظ میں عوام کو سمجھا دیا ہے کہ بھکاری اپنی پسند کی بھیک کی توقع نہیں کر سکتے۔پاکستان عالمی برادری میں ایک بھکاری کی حیثیت رکھتا ہے، جو بھیک مل جائے اسی پر گزر بسر کرنی ہے۔عوام اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کی تگ و دو میں اس قدر مصروف ہیں کہ وہ اپنے وزیر خزانہ سے یہ بھی نہیں پوچھ سکتے کہ قدرت نے پاکستان کے عوام کو جو قدرتی وسائل وافر مقدار میں فراہم کر رکھے ہیں وہ کس دن کام آئیں گے؟مون سون کے مہینے میں جو پانی قدرت عطا کرتی ہے،سیلاب کی شکل میں تباہی مچاتا ہوا ہر سال سمندرمیں جا گرتاہے اس کا ذخیرہ کرنے کے لئے بروقت مناسب اقدامات کیوں نہیں کئے جاتے؟کیا یہ کفران نعمت نہیں؟75برسوں سے عوام ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں کہ ہمارے لئے سکھ کادن کب آئے گا؟اقتدار میں آنے والی ہر حکومت کب تک سابق حکومت کو کوستی رہے گی؟ یہ روایت کب تک جاری رہے گی؟ وہ دن کب آئے گا کہ عوام کو کوئی خوشخبری سننے کو ملے گی؟واضح رہے ملک کی قسمت سنوارنے کے لئے 75سال کافی ہونے چاہیے تھے۔اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازسنجیدگی سے سوچیں ملک خود کفالت کی منزل تک کیوں نہیں پہنچ سکا؟ 23 کروڑ عوام کی زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔پالیسی ساز ایک سرکاری ملازم کی روایتی فکر سے آگے بڑھیں، ملکی مفاد ات کو ہر شے پر ترجیح دیں۔آج کل جو کچھ پاکستان میں دیکھا جارہا ہے، عوام یہ مناظر دیکھ کر غمزدہ ہیں، اہلِ خرد کے لئے مبصرین کی زبان پر یہ جملہ کافی ہے:
”ہٹائے جانے والوں سے زیادہ حیرت لائے جانے والوں پر ہے!“

اپنا تبصرہ بھیجیں