مشکل فیصلے درکارہیں

صرف پاکستان نہیں،ساری دنیا مشکل میں ہے،پریشان ہے،مدد دینے والے ممالک کی آمدنی پہلے کورونا جیسی عالمی وبا کی زد میں آئی اور لوگوں کی بڑی تعداد بڑی تیزی سے لقمہئ اجل بننے لگی، اٹلی کا منظر لوگوں کو یاد ہوگا۔لوگ اپنے قریبی خونی رشتوں کو بیماری کی حالت میں بے یارو مددگار چھوڑ کر گھروں سے بھاگ گئے۔اپنی زندگی بچانے کے لئے مردوں کی تدفین سے بھی راہِ فرار اختیار کر لی گئی۔سرحدیں بند کردی گئیں، شہر اور محلے لاک ڈاؤن کئے گئے۔پاکستان بھی اس مشکل تجربے سے گزرا۔لیکن جانی نقصان ہمسایہ ممالک کی نسبت کم ہوا۔حکومت نے اسے اَللہ کا کرم اور اپنی درست حکمت عملی قرار دیاجبکہ اپوزیشن کا خیال تھا کہ یہاں کے موسمی حالات کارگر ثابت ہوئے۔عوام اگرچہ حفاظتی تدابیر سے دور رہے،مگر کورونا نسبتاً کم نقصان کے ساتھ رخصت ہو گیا۔البتہ اس دوران بین الاقوامی پروازیں بند رہیں،سعودی عرب میں حج جیسی عبادت بھی لاکھوں سے چندہزار مقامی نفوس تک سکڑ گئی۔علاوہ ازیں تجارتی سرگرمیاں متأثرہوئیں۔عالمی معیشت کوکورونا سے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔نئے سماجی آداب وجود میں آئے ہاتھ ملانا ترک کر دیا گیا،ہاتھ کی بجائے کہنیاں ملائی جانے لگیں۔6فٹ فاصلے کی پابندی پر جہاں تک ممکن ہوسکا عمل کیا گیا۔ابھی معیشت کچھ بہتر ہوئی تھی کہ روس اور یوکرین کے درمیان نیٹو میں یوکرین کی شمولیت کے معاملے پر جنگ چھڑ گئی۔امریکہ نے افغانستان کی طرح براہ راست اپنی اور نیٹو افواج اتارنے سے گریز کیامگر روس پر معاشی پابندیوں کا پرانا حربہ آزمانے میں پھرتی دکھائی۔مگر اس بار اسے روس کو تنہا کرنے میں ماضی جیسی کامیابی نہیں ملی۔بعض یورپی ممالک اور بھارت نے اپنے معاشی مفادات کو اہمیت دی اور بدستور روس سے پیٹرول اور دیگر اجناس خرید رہے ہیں۔روس نے خریدار ملکوں سے مقامی کرنسی (روبل اور یورو،بھارتی روپیہ)میں ادائیگی کا مطالبہ کیا جسے امریکہ اپنی معیشت کے لئے مہلک سمجھتا ہے۔دو یورپی ممالک نے روبل میں ادائیگی سے انکار کیا تو روس نے سپلائی روک دی۔ گویا باقی ممالک نے مقامی کرنسی والا اصول تسلیم کر لیا ہے۔اس فیصلے کے نتیجے میں عالمی منڈی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور پاکستان کی معشیت جو پہلے ہی بقول مریم نواز وینٹی لیٹر پر آخری سانس لے رہی تھی مزید خراب ہو گئی۔مسلم لیگ نون کی اعلیٰ قیادت کا اجلاس لندن میں منعقد ہوا، وزیر اعظم شہباز شریف نے لندن میں مزید دو روز قیام کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ ان کی کابینہ کے دیگر ارکان وطن پہنچ گئے ہیں۔لندن اجلاس میں کئے گئے اہم فیصلوں کے حوالے سے باضابطہ طور پر ابھی کچھ نہیں کہا گہا،اس لئے قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ایسے مشکل اور نازک حالات میں مخلوط حکومت کی خاموشی معنی خیز ہے۔لیگی وزراء صحاریوں کے چبھتے ہوئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ایک جانب تسلیم کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت کو جس انداز میں عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے ہٹایا گیا اس کا فائدہ پی ٹی آئی کو پہنچا اور اس کی گرتی ہوئی مقبولیت اس اقدام کے نتیجے میں حیرت انگیز طور پر بڑھ گئی لیکن اگلی سانس میں وہ عدم قاعتماد کی تحریک کے جائز ہونے کی دلیل دیتے ہیں کہ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا۔عوام کی بڑی تعداد لیگی رہنماؤں کی دلیل سے متفق نہیں۔اس لئے کہ عوام اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ایک ماہ کے دوران ڈالر کی قیمت میں حیران کن اضافہ ہوا ہے۔بجلی کی قیمت بڑھائی گئی ہے،اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل گراوٹ آرہی ہے۔زر مبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی بعض ان دیکھی مشکلات کی نشان دہی کر رہی ہے۔قرضوں کی فوری ادائیگی نہ کی گئی تو ملک نادسہندہ ہو سکتا ہے۔متنازعہ سفارتی مراسلے کے بارے میں وزیر اعظم شہباز شریف کے قومی اسمبلی میں دیئے گئے بیان کے بعد پی پی پی کے مؤقف میں وزن نہیں رہا۔کوئی ذی ہوش پاکستانی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ وزیر خارجہ کی معلومات ملک کے وزیر اعظم سے زیادہ معتبر ہیں۔زمینی حقائق کو جھٹلانا جدید ٹیکلنالوجی کے دور میں ممکن نہیں رہا۔امریکی وزارت خارجہ کا لب و لہجہ پاکستان کے وزیر خارجہ کے مؤقف کی تائید نہیں کرتا۔ اس دورنگی کوامریکی صدر جو بائیڈن کی سابق پاکستانی صدر سے ذاتی دوستی کے علاوہ کوئی نام نہیں دیا جاسکتا۔سوال یہ کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد جو بائیڈن کا کوئی فون کال سابق صدر آصف علی زداری یا وزیر اعظم شہباز شریف کو آئی؟ اگر جواب ہاں میں ہو تو بتایا جائے اسے میڈیاسے چھپانے کی ضرورت کیا تھی؟جواب نفی میں ہونے کی صورت میں دوستی کے دعوے میں کوئی وزن نہیں رہتا۔نہ جانے کیوں ہمارے ذمہ دار سیاست دان ایسی غیر ذمہ دارانہ کرتے ہیں؟جن کا دفاع کرنے کی سکت 24 گھنٹے میں ہی کھو بیٹھتے ہیں۔وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری یاد رکھیں جس منصب کا انہوں نے حادثاتی طور پر حلف اٹھایا ہے جب یہ عہدہ ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو کو ملا تو انہوں دنیا میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا اورصلے میں لازوال عزت اور شہرت پائی۔اپنی گفتگو میں بے احتیاطی نہ برتیں، سوچ سمجھ کر مناسب الفاظ میں اپنامدعا بیان کریں۔انہیں قومی اسمبلی کا رکن بنتے ہی معلوم ہوجانا چاہیئے تھا کہ پی پی پی کا چیئرمین اورپاکستان کا وزیر خارجہ ہونے میں بڑا فرق ہے۔انہیں چاہیے کہ اپنے زیرک نانا اور اپنی عظیم والدہ کی سیاسی زندگی کا بغور مطالعہ کریں۔صرف خونی رشتہ کام نہیں آیا کرتا۔ انہیں چاہیے عالمی سطح کے شہرت یافتہ وزرائے خارجہ کے انداز گفتگو اورلب و لہجے سے رہنمائی حاصل کریں۔ پاکستان کی حالیہ تاریخ(2008سے آج تک15سال)کے دوران ایسا بلند پایہ وزیر خارجہ نظر نہیں آتاجس سے رہنمائی لی جا سکے۔ پاکستان کی سیاست آنے والے دنوں میں کیا
رخ اختیار کرے گی اس بارے موجودہ مخلوط حکومت کے وزراء کو کوئی علم نہیں۔مختلف ذرائع سے چھن کر ان تک جو اطلاعات پہنچتی ہیں،اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں جانتے۔بلکہ وہ تواکثر و بیشتر میڈیا کے روبرو یہ کہتے ہوئے بھی سنے جاتے ہیں:”ہم سے زیادہ انفارمیشن آپ کے پاس ہے“۔وزیر دفاع خواجہ آصف قومی اسمبلی کے فلور پر کہہ چکے ہیں:”ہمارے سروں پر نظر آنے والی چھت کب گر جائے، کچھ نہیں کہا جا سکتا“۔ معاشی مشکلات سے نکلنے کے لئے حکومت کو مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔لیکن سچ یہ ہے کہ مخلوط حکومت مشکل فیصلے نہیں کر سکتی۔سابق حکومت کا حشر مخلوط حکومت کے کمزورہونے کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف کا لندن میں قیام بلا سبب نہیں، وطن واپسی کا انتظار کیا جائے سیاست فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے،قیاس آرائیوں سے حقائق تک پہنچنا ممکن نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں