کراچی میں بلوچ خواتین پر تشدد اور گرفتاریوں کیخلاف جامعہ بلوچستان میں طلبہ اور سیاسی تنظیموں کی ریلی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) جامعہ بلوچستان میں بی ایس او پجار،بی ایس او اور پی ایس ایف کے تحت گزشتہ روز کراچی میں بلوچ خواتین اور طلباء پر تشدد کیخلاف مشترکہ احتجاجی ریلی کا انعقا۔ ریلی میں تینوں طلبہ تنظیموں کی قیادت سمیت بی این پی، نیشنل پارٹی اور اے این پی کے پارلیمانی لیڈرز اور مرکزی قیادت نے شرکت کی۔ اس حوالے سے طلباء تنظیموں کی ریلی کا اہتمام ایک مشترکہ سرکل سے ہوا۔ مشترکہ سرکل سے بی این پی ہیومن رائٹس سیکرٹری احمد نواز بلوچ، مرکزی لیبر سیکرٹری موسیٰ بلوچ، نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر رحمت صالح بلوچ، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، چیئرمین بی ایس او جہانگیر بلوچ، مرکزی چیئرمین بی ایس او پجار زبیر بلوچ، پی ایس ایف کے صوبائی صدر بالاچ قادر بلوچ ودیگر نے کراچی میں بلوچ خواتین پر تشدد اور گرفتاریوں کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مظلوم اقوام کے ساتھ ہمیشہ جابرانہ روایہ اختیار کیا جاتا ہے اور تاریخ گواہ کے محکومی کی آواز کو کچلنے کے لیے ہمیشہ طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جامعہ بلوچستان طلباء کی شعوری سرکلوں پر غیر اعلانیہ پابندی عائد ہے اور تعلیمی اداروں کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کیا گیا ہے۔ بندوق کے زور پر تعلیمی نشوونما ایک غیر ممکن چیز ہے، تعلیمی اداروں کو بندوق سے پاک کرکے یہاں پرامن علمی ماحول کو پرورشِ ہونے دیا جائے۔ رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کے چند روز قبل جامعہ بلوچستان میں جو واقعہ پیش آیا اس کا مقصد بلوچ پشتون میں آپس میں دست و گریبان کرنا تھا لیکن قیادت کی دور اندیشی سے اس سازش جو ناکام بنا دیا گیا ہے۔ بلوچ پشتون دو اقوام ہیں جنہوں نے ہمیشہ اپنے حقوق کے لیے مشترکہ کی ہے، اپنے اکابرین کے راستے پر چل کر ہم نے مشترکہ طور پر اپنے حقوق کا دفاع کرنا ہے۔ مشترکہ سرکل سے خطاب کرتے ہوئے قائدین نے ایک رجعت پسند جماعت کے رہنما کی طرف سے بلوچ طلباء کیخلاف نازیبا بیان پر سخت رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی قابل مذمت ہے۔ مولانا ہدایت الرحمن اپنے بیان پر بلوچ طلباء سے معافی مانگیں۔


