ہمیں تربیت دینا ہوگی کوئی جرنیل آئین توڑے تو لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل کر انہیں گھر بھیجیں، محمود خان اچکزئی
اسلام آباد (انتخاب نیوز) پاکستان کے ساتھ پچھلے 75 سال میں ہم سب (ججوں، جرنیلوں، سیاسی قیادت) نے جو کچھ کیا اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج یہ ملک ڈوب رہا ہے۔ یہ ملک ہماری بد عملیوں، بد کاریوں اور غلط رویوں کی وجہ سے ڈوب رہا ہے۔ آج توبہ کرنے کا وقت ہے، آج پاکستان میں توبہ کرنے کا وقت ہے۔ جج، جرنیل، جرنلسٹ اور تمام سیاسی پارٹیاں توبہ کریں اور نئے سرے سے ان مقاصد کیلئے کام کریں جن کیلئے PDM بنائی گئی تھی۔ یہ PDM مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں ہم نے پاکستان کی تشکیل نو کیلئے بنائی تھی۔ جن ججز نے اپنے بچوں کے پیٹ پر لات ماری اور مارشلاوں کے خلاف کھڑے ہوئے ہم نے انہیں بھلا دیا حالانکہ وہ اس ملک کے قومی ہیروز ہیں۔ جب بھی عوام کی طاقت سے حکومت بنے اسے ان ججز کو قومی ہیروز ڈکلیئر کر کے ان کی تنخواہیں ان کے بچوں کو دینی ہوں گی۔ جن سیاسی کارکنوں نے مختلف مارشلاوں میں جمہوریت کے خاطر جان کی قربانی دی ہم نے انہیں بھلا دیا۔ جب بھی جمہور کی حکمرانی قائم ہو ان سب کو قومی ہیروز قرار دیا جائے۔ جن جرنیلوں نے اس ملک کے آئین کو توڑ کر مارشل لا لگایا ان کے خلاف اس پارلیمنٹ کو کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا۔ میری تجویز ہے کہ جب انتخابات ہوں اور یہاں جمہور کی حکمرانی قائم ہو تو ان سب ججز کو نوکریوں سے فارغ کردینا چاہیے جنہوں نے PCO کے تحت حلف لیا۔ اگر پاکستان کو چلانا ہے تو اس کیلئے لازمی ہے کہ ججز، جرنیل اور سیاست دان سب یہ حلف لیں کہ آئین کی پابندی کرنی ہوگی۔ ہم نے اپنے کارکنان کو یہ ٹریننگ دینی ہوگی کہ اگر کوئی جرنیل آئین توڑتا ہے تو عوام کے پاس یہ حق ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں ترکی کے طرز پر سڑکوں پر نکلیں اور ان جرنیلوں کو گھر بھیجیں۔ اگر کوئی جج اپنے آئینی حدود سے باہر نکلتا ہے تو عوام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس جج کے خلاف نکل کر اسے گھر بھیجیں۔


