پاکستان فلسطینیوں کی اینٹی ٹینک اور اینٹی ائر کرافٹ میزائیلوں سے مدد کرے، مرزا اسلم بیگ
اسلام آباد (صباح نیوز) فلسطین کی آزادی کے لیے پاکستانی حکمرانوں کو محترمہ بے نظیر بھٹو جیسی جرات کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ یہ وقت ہے کہ پاکستان فلسطینی مجاہدوں کی اینٹی ٹینک اور اینٹی ائر کرافٹ میزائیلوں سے مدد کرے تاکہ وہ اسرائیلی حملوں کا منہ توڑ جواب دے سکیں۔ان خیالات کا اظہار سابق آرمی چیف جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ نے اپنے ایک میڈیا انٹرویو میں کیا۔ اس سوال کے جواب میں کہ پاکستان فلسطینی مسلمانوں کی بقا کے لیے کیا کرسکتا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ جس طرح 90 کی دھائی میں اس وقت وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے بوسنیا پر سربوں کے حملوں کو ناکام بنانے کے لیے بوسنیا کے مسلمانوں کو اینٹی ٹینک مارٹر گولے فراہم کیے تھے۔اس مدد کا ہی نتیجہ تھا کہ صرف 6 ٹینکوں کی تباہی کے بعد سرب فوج پسپا ہوگئی تھی۔ اسلم بیگ نے کہا کہ بات حوصلے اور جرات کی ہوتی ہے ، صرف زبانی کلامی بیان دینے سے دشمن خوفزدہ نہیں ہوتا ، دشمن کا ہاتھ روکنے کے لیے کوئی ایکشن کرنا ہوتا ہے،لیکن ہمارے یہاں مصلحت سے کام لیا جاتا ہے۔ لیکن ایسے مواقع پرمصلحت اور خاموشی بزدلی کا ہی دوسرا نام ہے ، انہوں نے کہا کہ نہ صرف بے نظیر بھٹو نے بوسنیائی اور بلقان کے دیگر مسلمانوں کی مدد کی بلکہ اس وقت کی ترک وزیر اعظم تانسو چلر کے ساتھ بوسنیائی دارالحکومت سرائیووبھی گئی تھیں اوراس تباہ حال دارالحکومت میں 5 گھنٹے تک رہی تھیں۔اس موقع پر انہوں نے بوسنیائی مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ترک خاتون وزیر اعظم کے ساتھ توپ خانے سے گولہ باری بھی کی تھی کہ وہ دامے درمے سخنے اور قدمے ہر لحاظ سے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ ہیں ، جنرل بیگ نے بتایا کہ مغربی اخبارات اس واقعے کے گواہ ہیں۔اس موقع پر بے نظیر بھٹونے کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ” دنیا بوسنیا کے لوگوں کو بھول گئی ہے اور بوسنیا کی مسلم حکومت کو اقوام متحدہ نے اپنا دفاع کرنے سے روک دیا ہے۔” سابق آرمی چیف نے کہا کہ آج بھی ایسی ہی صورت حال ہے فلسطین کے لوگوں کو اپنا دفاع کرنے سے روکا جارہا ہے ، لیکن آج کوئی بے نظیر بھٹو نہیں ہے جوخو دوہاں جائے اورہتھیاروں سے بھی ان کی مدد کرے۔ اسلم بیگ نے کہا کہ پاکستان کے اینٹی ٹینک میزائیل اور مارٹر گولوں کے ساتھ ساتھ اینٹی ائر کرافٹ میزائیل کا توڑ اسرائیل کے پاس نہیں ہے ،لہذا پاکستانی حکمرانوں کوبے نظیر بھٹو جیسی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف غزہ کا دورہ کرنا چاہیے بلکہ اسے حماس اور دیگر مجاہدین کو اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیے اینٹی ٹینک اوراینٹی ائر کرافٹ میزائیل فراہم کرنا چاہیے۔ اسلم بیگ نے کہا کہ اگر ان کے بس میں ہوتا تو وہ ایسا ضرور کرتے۔انہوں نے کہا کہ یہ بے نظیر بھٹو ہی تھیں جنہوں نے پاکستان ایٹمی پروگرام کو نہ صرف آگے بڑھایا بلکہ میزائیل ٹیکنالوجی کے حصول میں بھی پاکستانی سائنس دانوں کی مدد کی تھی۔جنرل اسلم بیگ نے کہا کہ مسلمانوں اور خاص طور پر پاکستان کو غزہ کی اس جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کرنا ہوگا۔


