کشمیر کے سوداگر آج کلبوشن کا سودا کی فکر میں لگے ہیں،مولانا فضل الرحمن

کوئٹہ:جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر رکن قومی اسمبلی مولانا عبد الواسع نے کہا کہ کشمیر کے سوداگر آج ملک دشمن کلبوشن کا سودا کی فکر میں لگے ہیں جبکہ نہتے اور معصوم کشمیرویوں کی امیدیں دم توڑتی جارہی ہیں ناکام اور معزرت خواہانہ فارن ڈپلومیسی کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر ہم تنہا ہوچکے ہیں انہوں نے کہا کہ موجودہ ناجائز حکومت کے متعلق جمعیت علماء اسلام کا موقف پوری قوم کی امیدوں کا ترجمان ہے کاش اپوزیشن کی بڑی پارٹیاں کٹھ پتلیوں کے لیے نرم گوشہ اختیار نہ کرتیں تو آج پاکستان معاشی اور اقتصادی طور پر اس ڈگر پر نہ ہوتا انہوں نے کہا کہ تمام جماعتوں کو بے ملک وقوم کے مفاد کی خاطر مشترکہ موقف کی روشنی میں جدوجہد کرنی ہوگی تاکہ ملک نااہل حکمرانوں کی چنگل سے آزاد ہو کر عالمی سازشوں سے نبرد آزما ہوسکے اور بیرونی سازشوں کے خلاف نڈر اور دلیر قیادت قوم کو میسر ہوسکے انہوں کہا کہ حکمرانوں کی نااہلی کے باعث ملک معاشی اقتصادی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے کئی سال پیچھے چلایا گیا ہے اس کی بہتری کیلئے آئندہ کئی سال جدوجہد کرنی ہوگی انہوں نے کہا کہ آج اپنی خارجہ پالیسی اور معاشی ترقی کو دیکھیں تو یہ ایک افسوس ناک تصویر دکھائی دیتی ہے ہماری خارجہ پالیسی کبھی بھی خود مختاری پر مبنی نہیں رہی مگر نیازی حکومت نے خارجہ پالیسی کو غلامانہ بنانے میں انڈیا کو خوش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، انہوں نے کہا کہ بھارت نوازی کے باعث کشمیریوں کا اعتماد اٹھ چکا ہے اور عالمی سطح پر بھی ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں