فلسطین کا مستقبل
اداریہ
فلسطین کے مستقل کا فیصلہ فلسطین کے عوام کریں گے۔اقوام متحدہ کے سامنے دو تنازعے (مسئلہ کشمیراور دوسرا مسئلہ فلسطین)بہت پرانے ہیں۔72سال سے اس لئے حل طلب ہیں کہ192میں سے پانچ ملک جن کے پاس ویٹو پاور ہے؛اتنے برسوں سے ویٹو پاوراستعمال کر کے اس کا راستہ روک دیتے ہیں۔ان پانچ ملکوں نے دنیا کے 187ملکوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ ان پانچ ممالک(روس،امریکا، فرانس جرمنی اور برطانیہ) کو دیا گیایہ غیر قانونی، غیر اخلاقی اور غیر انسانی اختیار واپس لیا جائے۔تمام رکن ممالک کے حقوق مساوی ہونا چاہئیں۔یہ اختیار تو پانچوں ممالک مل کر مانگیں تب بھی 187ممبر ملک دینے سے انکار کر دیں۔اقوام متحدہ کے پانچ ملک گزشتہ 72برسوں میں مظلوم (فلسطینیوں یا کشمیریوں)کے ساتھ کبھی کھڑے نہیں ہوئے۔انہوں نے ہمیشہ ظالم کا ساتھ دیا۔بلکہ امریکا نے اقوام متحدہ سے پوچھے بغیر نیٹو فورسز کو ساتھ ملاکر عرب ممالک کا کچومر نکال دیا۔عراق، لیبیاء اور افغانستان کو پتھر کے زمانے میں بھیجنے کا نعرہ لگاتے ہوئے چڑھائی کردی، پاکستان سمیت دنیا نے خوشی کا اظہار کیا اور امریکا کے لشکر کا حصہ بن گئے۔شام مکمل تباہی سے اس لئے بچ گیا کہ ترکی اور روس اس کی مدد کو پہنچ گئے تھے۔دوسری طرف ایران نے ٹرمپ کی ایران دشمن پالیسی اور اپنی تمام معاشی مشکلات کو نظر انداز کرتے ہوئے اس خطے میں اپنابہادرانہ کردار ادا کیا۔ فلسطین کے ساتھ بھی ایران نے ہی اسلامی اخوت کا عملی مظاہرہ کیا۔ سعودی عرب نے پاکستان کے سمجھانے پر ابھی تک ایران کے خلاف کسی بڑی جنگ کا آغاز نہیں کیا پاکستا ن جنگ نہ شروع ہونے کو اپنی ثالثی کا کرشمہ قرار دیتا ہے۔سچ آنے والے دنوں میں کھلے گا۔البتہ اس دوران سعودی عرب نے کسی بات پر ناراض ہوکر ڈیفالٹ سے بچنے کے لئے پاکستان کو دیئے ایک ارب ڈالر واپس مانگ لئے اور پاکستان نے بڑی آسانی سے اسی شرح سود پر چین سے قرض لے کر سعودی عرب کا مطالبہ پورا کر دیا۔ بلکہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک قدم آگے بڑھ کراپنے وزیراعظم سے (کابینہ سے باہر) یہ مطالبہ کر دیا کہ اگربعض عرب ممالک مسئلہ کشمیر پر کچھ کھل کر کہنے سے اس لئے گریزاں ہیں کہ انہیں اپنی کاروباری مصلحتیں اسلامی اخوت سے زیادہ عزیز ہیں تو جو عرب ملک کشمیر کے حق میں بولنا چاہتے ہیں انہیں ساتھ لے کرچلیں۔آئندہ دوچار دنوں معلوم ہوجائے گا وزیر اعظم کس راہ پر چلتے ہیں؟یا سعودی عرب پاکستان سے اپنی تسلی کے لئے کون سا مطالبہ کرتا ہے؟چلئے ایک لمحے کے لئے فرض کر لیتے ہیں کہ شاہ محمود قریشی نے اتنی بڑی بات اس لئے کہہ دی کہ وہ جذباتی طبیعت کے مالک ہیں لیکن انہیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیئے تھی کہ دوسرے سرے پر سعودی عرب کے شاہ بیٹھے ہیں۔بہر حال اب توبات ان کی زبان سے نکل چکی ہے مناسب تو یہی لگتا ہے کہ پاکستان کواپنے وزیر خارجہ کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیئے۔محض قرض کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب کی ہر جائز و ناجائز بات نہیں مانی جا سکتی۔پاکستان نے بھی ہر مشکل وقت میں سعودی عرب کا ساتھ دیا ہے یہ مفادات کی دو طرفہ کہانی ہے اور بہت پرانی ہے۔
جو بائیڈن نے اس متھ کو(کہ امریکا میں صدارتی انتخاب میں وہی کامیاب ہوتا جسے اسرائیل کی حمایت حاصل ہو) یہ کہتے ہوئے توڑ دیا ہے کہ وہ اسرائیل کی یہودی آباد کاری کے مخالف ہیں اور یہ مخالفت آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل نوازی میں تمام حدودعبور کر گئے ہیں۔جس میں اسرائیلی دارالحکومت کو یروشلم منتقل کرنے کے علاوہ امریکی سفارت خانہ بھی منتقل کر چکے ہیں اس بارے میں جو بائیڈن چند ہفتے قبل کہہ چکے تھے کہ وہ اس فیصلے کے مخالف ہیں مگر جیت گئے تو اسے ختم نہیں کریں گے۔ان کے اسرائیل بارے خیالات میں تبدیلی وجہ ووٹرز کا دباؤ ہو سکتا ہے جو انتخابی مہم کے دوران انہوں نے محسوس کیا ہوگا۔جو بائیڈن ایک منجھے ہوئے سیاست دان ہیں اور پاکستان سمیت اس خطے کی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔بیشتر مسلم سیاست دانوں سے انہوں نے مسائل پر بالمشافہ گفتگو کی ہوئی ہے۔یہ تجربہ ان کے حریف ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس نہیں۔ بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی جیسے لٹھ مار مزاج کے مالک ہیں۔انہوں نے آتے ہی سابق صدربارک اوبامہ کاایران سے کیا جانے والا وہ معاہدہ ختم کر دیا جس کی ضمانت عالمی سطح پر دی گئی تھی۔ اور ضامن ممالک کو امریکا آج تک اپنا ہمنوا نہیں بنا سکا۔ اس کا فائدہ ایران کو پہنچا۔ایران نے چین سے نہ صرف اپنے معاشی تعلقات کو فروغ دیا بلکہ تزویراتی نوعیت کے ایسے معاہدے کرنے میں بھی کا میاب ہو گیا جس کا امریکی مقتدرہ کو ابھی اندازہ نہیں۔ایران چین کے ساتھ معاہدوں کے بعد فلسطین کے محاذ پرامریکا کو ٹف ٹائم دینے کی پوزیشن میں آچکا ہے۔ترکی اور روس پہلے ہی بعض عرب ممالک کو اپنا ہم خیال بنانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔عراق اور شام لیبیاء سمیت امریکی تباہ کاری کی علامت بنے ہوئے ہیں۔اس امکان کو خارج از امکان کہنا درست کہ جیسے ہی کسی نے ان ممالک کا بازو تھاما یہ امریکی پالیسی سازوں کو تگنی کا ناچ نچا سکتے ہیں۔بہر حال عرب ممالک کی اپنی نفسیات ہے وہ عجلت میں کوئی بھی فیصلہ کر سکتے ہیں۔جیسا کہ یو اے ای اور اسرائیل نے ایک دوسرے کو تسلیم کر نے اعلان کردیا ہے۔ یہ اعلان بھی اسی ڈر کے پیش نظر کیا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کے امکانات کم ہیں۔تمام اشارے صدارتی امیدوارجو بائیڈن کے حق میں جارہے ہیں۔ اسی لئے جو بائیڈن نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا کہ وہ گزشتہ کل بھی یہودی آباد کا ری کے خلاف تھے اور آئندہ کل بھی مخالفت جاری رکھیں گے۔پاکستان نے محتاط تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے:”اس کے دور رس نتائج نکلیں گے“۔


