جامعہ بلوچستان میں تدریسی عملے کی خالی اسامیوں کو فوری مشتہر کیا جائے، اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن
کوئٹہ (آن لائن) اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن، یونیورسٹی آف بلوچستان نے اپنے ایک تفصیلی بیان میں اس امر کا خیرمقدم کیا ہے کہ اساتذہ کی خالی آسامیوں کو مشتہر کرنے کا ان کا دیرینہ، جائز اور مسلسل اٹھایا جانے والا مطالبہ بالآخر گورنر سیکرٹریٹ/چانسلر آفس کی جانب سے جاری کردہ سرکلر کے ذریعے تسلیم کر لیا گیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف اساتذہ برادری کے لیے اطمینان کا باعث ہے بلکہ جامعہ میں انتظامی سنجیدگی کی جانب ایک مثبت قدم بھی ہے۔ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ وہ کافی عرصے سے اس اہم مسئلے کی نشاندہی کرتی آ رہی تھی اور متعدد مواقع پر وائس چانسلر سمیت متعلقہ حکام کی توجہ اس جانب مبذول کروائی گئی۔ بارہا اس بات پر زور دیا گیا کہ تدریسی عملے کی خالی اسامیوں کو فوری طور پر مشتہر کیا جائے تاکہ اساتذہ کو ترقی کے مساوی مواقع میسر آ سکیں۔ تاہم اس عمل میں مسلسل تاخیر کے باعث بہت سے اساتذہ گزشتہ بیس سے پچیس برسوں سے ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دینے پر مجبور رہے، کیونکہ ترقی اور نئی تقرریوں کے لیے لازمی اشتہارات جاری ہی نہیں کیے گئے تھے۔ایسوسی ایشن نے اس حالیہ پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ جاری کردہ سرکلر پر بلا تاخیر اور مکمل طور پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ لیکچرر، اسسٹنٹ پروفیسر اور ایسوسی ایٹ پروفیسر کے تمام خالی عہدوں کو فوری طور پر باضابطہ طور پر ظاہر (ڈکلیئر) کیا جائے اور بھرتی و سلیکشن کا شفاف عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے، تاکہ اساتذہ کو ان کا جائز حق مل سکے اور جامعہ میں تدریسی و تحقیقی معیار میں بہتری لائی جا سکے۔بیان کے آخر میں اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ہمیشہ اساتذہ اور جامعہ کے وسیع تر مفاد میں بروقت اور موثر اقدامات کا مطالبہ کرتی رہے گی۔ تاہم افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ متعلقہ حکام اکثر ایسے اہم معاملات میں غیر ضروری تاخیر کا مظاہرہ کرتے ہیں، جس کے منفی اثرات نہ صرف اساتذہ بلکہ مجموعی تعلیمی نظام پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔


