سینیٹ میں دوبل مسترد

اداریہ
سینیٹ نے قومی اسمبلی کے منظور کردہ دو بل مستر دکر دیئے۔ان میں سے ایک اینٹی منی لانڈرنگ دوسرا ترمیمی بل2020 جبکہ دوسرا اسلام آبادکیپٹل وقف املاک بل2020تھا۔اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ حکومتی ارکان نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن قیادت کے خلاف نازیبا الفا ظ استعمال کئے، اور سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر وسیم شہزادسے مطالبہ کیا گیا کہ وہ معافی مانگیں۔سینیٹ کا ماحول تلخ رہا اور نتیجتاً بل مستردہوگئے۔عام آدمی حیران ہے کہ دو سال گزرنے کے باوجود پارلیمنٹ کا ماحول شائستہ نہیں ہو سکا۔اپوزیشن آج بھی وزیراعظم عمران کو ”سلیکٹڈ“کہتی ہے اور جواباً حکومتی ارکان ’چور،چور‘ کا شور مچانے لگتے ہیں۔اس شور شرابے میں قانون سازی کا عمل رک جاتا ہے۔معافی مانگنے کے مطالبات گونجنے لگتے ہیں۔ایف اے ٹی ایف کی ستائیس شرائط پوری نہ کی گئیں تو گرے لسٹ سے نکلنا تاخیر کا شکار ہو جائے گا۔حکومتی ارکان ہوں یا اپوزیشن کے نمائندے دونوں جوش میں آ جاتے ہیں اور پھر قانون سازی کی جگہ ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی لے لیتی ہے۔دونوں طرف سے قومی مسائل پر گفتگو کم اور ذاتیات پر کیچڑ زیادہ اچھالا جاتا ہے۔عوام کے لئے اپنی تنخواہ سے بچوں کی پرورش بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سبب دن بدن مشکل تر ہوتی جارہی ہے۔اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں اضافہ رکنے میں نہیں آرہا۔چینی 55روپے سے بڑھ کر 110روپے فی کلوتک پہنچ گئی ہے۔آٹا مہنگا ہونے کی بناء پر نانبائی ریلیاں نکالنے پر مجبور ہیں۔ روٹی غریب آدمی کی بنیادی خوراک ہے۔حکومت نے اپوزیشن سے دوری کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔دونوں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے جنون میں مبتلا ہیں۔حکومت نے حالیہ دنوں میں اپوزیشن کے خلاف مقدمات کی سماعت تیز کر دی ہے۔پی پی پی اور مسلم لیگ نون کی قیادت کے خلاف رویہ سخت کر دیا ہے جائیداد سیل کرنے کے احکامات اسی رجحان کا مظہر ہیں۔
عام آدمی کی مشکلات دور کرنے پر توجہ دی جاتی تو زیادہ بہتر نتائج دیکھنے کو ملتے۔حکمران 73برسوں میں سیاسی آداب نہیں سیکھ سکے۔گزشتہ دہائی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مفاہمت کی پالیسی پر عمل کیا جاتا رہا لیکن اس کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ سکے۔عام آدمی کی زندگی ابتر تھی ابتر ہی رہی۔حکومت جاتے ہی اس مفاہمت کے عیوب و محاسن سامنے آئے تو منظر دعووں کے برعکس تھا۔ انتخابی نتائج سنائے جانے کے دوران نیٹ کی بندش نے شکوک کو جنم دیا اور وہی شکوک حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تلخی اور رنجش کی بنیاد ہیں۔چنانچہ تجزیہ کار یہی سمجھتے ہیں کہ یہ تلخی آئندہ انتخابات تک جاری رہے گی۔ اپوزیشن کی دوسالہ کارکردگی کے پیش نظر کسی بڑی تحریک کی توقع بہت کم ہے۔ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا مقصد کیا ہے؟مسائل زدہ عوام اپوزیشن کی تحریک کا حصہ بن سکیں گے؟ یا الگ تھلگ رہیں گے؟بڑی پارٹیوں کی بھرپور شراکت کے بغیر جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن وہی کچھ دہرا سکتے ہیں جوماضی میں کر چکے ہیں۔جبکہ کسی بڑی تبدیلی کے لئے یہ ناکافی ہوگا۔تاہم یہ گومگو کی کیفیت بھی زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گی۔اگر حکومت بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سیلاب پر بند باندھنے میں کچھ عرصہ اور ناکام رہی تواس کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑے گا۔اپوزیشن شائد اسی لمحے کا انتظار کر رہی ہے۔لیکن سیاست صرف خواہشات کے تابع نہیں،کسی بڑی تبدیلی کے لئے بنیادی شرط عوامی غم و غصہ کاایک خاص سطح تک پہنچنا ہے۔ یہ عنصر فی الحال نظر نہیں آتا۔بارشیں اور محرم کی مجالس اور جلوس کسی تحریک کی اجازت نہیں دیتیں۔پاکستان میں سیاسی تحاریک کے لئے سازگار موسم اکتوبر یا مارچ میں ہوتاہے۔تب تک اپوزیشن کو اپنی موجودگی کااحساس دلانے کے لئے جوکچھ کرنا ہے پارلیمنٹ کے اندر ہی کرنا ہے۔اور حکومت کی نظریں سینیٹ کے انتخابات پر ہوں گی۔
عام آدمی کے لئے قہرِ درویش بر جانِ درویش کے سوا کوئی دوسراراستہ نہیں۔اس کے جسم ناتواں میں جتنی سکت ہے برداشت کرے گا۔جب سیاست اس مقام پر ٹھہر جائے کہ حکومت کی کارکردگی نے ہی فیصلہ کرنا ہے تو اے پی سی بھی زبانی کلامی حدسے آگے نہیں بڑھے گی۔ اپوزیشن اپنے مسائل کا شکار ہے۔نون لیگ کے رہنما کاپیشی سے ایک دن قبل عدالت پہنچ جاناان کی ذہنی کیفیت کی عکاسی کے لئے کافی ہے۔ادھر نون لیگ کی اعلیٰ قیادت کے گرد بھی قانون کا گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کی واپسی کے حوالے سے زیادہ مستحکم رائے یہی سامنے آئی ہے کہ ان کی واپسی آسان نہیں۔گورنر پنجاب بھی یہی سمجھتے ہیں کہ حکومت برطانیہ بھیجنا چاہے گی تو نوازشریف آجائیں گے ورنہ لندن میں ہی قیام کریں گے۔پاکستان کے ہاتھ میں کچھ نہیں۔اسی لئے ریلوے وزیرشیخ رشید احمد آئندہ 6 ماہ کوسیاسی لحاظ سے اہم دیکھ رہے ہیں۔ عالمی سیاسی منظر بھی تبدیلی کے مراحل سے گزر رہا ہے۔نومبر میں امریکی صدارتی انتخاب کا نتیجہ آئے گا۔ٹرمپ کی ہاریاجیت ایک حد تک اثر انداز ہو سکتی ہے۔یہ واضح ہے کہ امریکا عالمی سطح پر بہت کچھ گنوا بیٹھا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے غلط فیصلے دیر تک امریکی پالیسی سازوں کے لئے درد سر بنے رہیں گے۔ایران سے کیا گیا معاہدہ یکطرفہ طور ختم کرنا نئی مشکلات کو جنم دے چکا ہے۔ان حالات میں پاکستان کے سیاست دان اگر ٹرمپ جیسی غلطیاں کریں گے تو اپنے راستے میں کانٹے بوئیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں