ملک میںاگر ایک خاتون کی عزت محفوظ نہیں تو پھر کیا رہ گیا، مولانا فضل الرحمن
اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میںاگر ایک خاتون کی عزت محفوظ نہیں تو پھر کیا رہ گیا ملکی معیشت تباہ اور بے روزگاری عروج پر ہے ، حکومت بے بس ہے اور بہانے تلاش کر رہی ہے، آل پارٹیز کانفرنس 20ستمبر کو ہوگی، ٹھوس فیصلے ہونے تک روایتی فیصلے نہیں ہونے چائیں اتوار کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اے پی سی کی تاریخ طے ہوچکی ہے ، پیپلزپارٹی اے پی سی کی میزبان ہے ، ہمیں روایت سے ہٹ کر فیصلے کرنے ہوں گے ، آل پارٹیز کانفرنس 20ستمبر کو ہوگی، ملک میںاگر ایک خاتون کی عزت محفوظ نہیں تو پھر کیا رہ گیا ملکی معیشت تباہ اور بے روزگاری عروج پر ہے ، حکومت بے بس ہے اور بہانے تلاش کر رہی ہے ، جب تک یہ عناصر اقتدار میں ہیں کوئی محفوظ نہیں ۔انہوں نے کہا کہ جب کوئی قانون ہاتھ میں لیتا ہے تو باتیں کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ موٹروے زیادتی کیس سے متعلق انہوں نے کہا کہ نوازشریف دور میں سرعام پھانسی ہوئی تو کیا جرائم رک گئے تھے ؟سرعام پھانسی دینے کا اختیار حکومت کے پاس ہے ، اصل مسئلہ سزا ملنے کا یقین مجرموں کے ذہنوں میں لانا ہوگا ۔قبل ازیں مولانا فضل الرحمان نے حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ۔اس موقع پر صحافی اے پی سی کے حوالے سے سوال کا جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ میں صرف چوہدری شجاعت حسین کی عیادت کیلئے آیا ہوں ۔


