بلوچستان اسمبلی ،پی آئی اے کے کوئٹہ سے کراچی ،لاہور ،اسلام آباد کے کرایوں میں کمی کرنے کی قرارداد منظور

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی نے پاکستا ن انٹرنیشنل ایئر لائن کے کوئٹہ سے کراچی ،لاہور ،اسلام آباد کے کرایوں میں کمی کرنے کی قرارداد منظور کرلی ، پیر کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری بشریٰ رند نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں کراچی سے لاہور ، اسلام آباد، ملتان اور پشاورسیکٹرز کے درمیان چلنے والی پروازوں کے کرایوں میں کمی لاتے ہوئے ایک مخصوص فارمولے کے تحت ان کے کرایے فکس کردیئے ہیں جبکہ کوئٹہ سے کراچی ، لاہور اور اسلام آباد سیکٹرز کے درمیان چلنے والی پروازوں کے کرایوں میں تاحال کوئی کمی نہیں لائی گئی ہے جس کی وجہ سے بلوچستان کے عوام میں احساس محرومی اورشدیدمایوسی پائی جاتی ہے ۔ قرار داد میں صوبائی حکومت سے سفارش کی گئی کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ وہ پی آئی اے انتظامیہ کو کوئٹہ سے کراچی ، لاہور اور اسلام آباد سیکٹرز کے درمیان چلنے والی پروازوں کے کرایوں میں ملک کے دیگر شہروں کے درمیان چلنے والی پروازوں کی طرز پر کرایے فکس کرنے کو یقینی بنانے کے لئے خصوصی اقدامات احکامات جاری کریں تاکہ صوبے کے لوگوں میں پائی جانے والی بے چینی اور احساس محرومی کا خاتمہ ممکن ہوسکے ۔انہوںنے کہا کہ کوئٹہ سے کراچی کے درمیان فضائی سفر ایک گھنٹہ پانچ منٹ اور کرایہ 10ہزار جبکہ کراچی سے اسلام آباد کا سفر دو گھنٹے کا ہے جس کا کرایہ ساڑھے سات ہزار روپے ہے کوئٹہ آنے والی پروازوں کو انتہائی خستہ حال جہاز دیئے جاتے ہیں جبکہ کوئٹہ سے کہیں بھی جانا ہو تو کرایہ کم سے کم دس ہزار روپیہ ہے لیکن دیگر شہروں سے یہی کرایہ چار ہزار روپے سے شروع ہوتا ہے کیابلوچستان کے لوگ بہت امیر ہیں ؟ انہوںنے کہا کہ ہم مجبوری میں سفر کرتے ہیں ڈیڑھ سال قبل بھی میں اسی نوعیت کی قرار داد لے کر آئی تھی لیکن پی آئی اے نے عمل نہیں کیا میری حکومت سے گزارش ہے کہ وہ پی آئی اے کی لوٹ مار کو بند کرائے جمعیت علماء اسلام کے رکن یونس عزیز زہری ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نصراللہ زیرئے ، بی این پی کے ملک نصیر شاہوانی ، زبیدہ خیر خواہ نے بھی قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کوئٹہ کے لئے پروازوں کے نرخ کم کرے وفاقی حکومت کے تمام اداروں کی طرح پی آئی اے بھی بلوچستان کا استحصال کررہا ہے عام آدمی 25سے29ہزار روپے کرائے میں کیسے سفر کرسکتا ہے جبکہ بلوچستان سے ملک کے دیگر حصوںمیں جانے والی پروازوں کو بھی یا تو کم کردیا گیا ہے یاپھر انہیں بند کردیاگیا ہے بعدازاں قرار داد کو ایوان کی مشترکہ قرار داد کے طور پر منظور کرلیاگیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں