حکومت جلسے جلوس کا حق اپوزیشن سے نہ چھینے
اپوزیشن عوام سے رابطہ کی مہم چلانے کا اتنا ہی استحقاق ہے جتنا کہ حکومت اپنے لئے سمجھتی ہے۔ جمہوریت اورآمریت کے درمیان یہی ماہیئتی (qualitative)فرق ہے۔جیسے ہی اپوزیشن سے یہ حق چھینا جاتا ہے، اسی لمحے جمہوریت کی روح سیاست کے قفسِ عنصری سے پرواز کر جاتی ہے،آمریت کا بدبودار جسم باقی رہ جاتا ہے۔آزادیئ اظہار ایسا مقدس حق ہے جس کے لئے جمہور نے اپنے جسم جلادوں کے سامنے پیش کئے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ وزیر اعظم عمران خان خود بھی جلسے جلوس کے عمل سے گزرے ہیں بلکہ 126روزتک مسلسل دھرنا بھی دیا۔ایسی حکومت کو چاہیے کہ جمہوری روایات کو آگے بڑھائے۔پابندیاں نہ لگائے۔اپوزیشن کاکام ہے حکومت کی خامیوں، کمزوریوں اور کوتاہیؤں کو سامنے لائے عوام کی مدد سے دباؤڈالے اور حکومت کو اصلاح احوال پر مجبور کرے۔حکومت اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتی کہ عوام مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہیں۔مہنگائی کا سبب بجلی،پیٹرول اور گیس کی قیمتوں میں ماہانہ اضافہ ہے۔بات صرف ساڑھے17ہزارروپے تنخواہ پانے والے مزدوروں کی نہیں، سفید پوش طبقہ بھی پریشان ہے۔حکومت با خبر ہے کہ عام آدمی کس مشکل میں ہے مگر کابینہ میں بعض بااثر وزیر اور مشیر شامل ہیں جو قیمتوں میں مسلسل اضافے کے سوا دوسرا کوئی حل جانتے ہی نہیں۔ صنعت کاروں کے مفاد میں ایسے مسحور کن دلائل دیتے ہیں کہ وزیر اعظم غریب اور معمرمریضوں کی بجائے ادویات سازی کی صنعت کو”ڈوبنے“ سے بچانے کے لئے قیمتیں دوگنی یا اس سے بھی زیادہ بڑھانے کی منظوری دے یتے ہیں جبکہ پاکستان میں ادویات کی قیمتیں بھارت کے مقابلے میں ہمیشہ زیادہ رہی ہیں۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ آٹے اور چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دو سال بعد بھی نہیں روکا جا سکا۔جہانگیر ترین وزیر اعظم کے دست راست تھے مگر قانون کو مطلوب دیگرافراد کی طرح لندن میں مقیم ہیں۔مہنگائی کا خاتمہ ہر حکومت کی پہلی ترجیح ہوتی ہے موجودہ حکومت کو بھی اسے پہلی ترجیح سمجھنا چاہیے تھا۔اگرحکومت کی دلیل ایک لمحے کے لئے مان لی جائے کہ مافیاز مہنگائی کی بنیادی وجہ ہیں تب بھی دوسال میں ان پر مؤثر ہاتھ نہیں ڈالا گیا۔ان کو من مانی کرنے کی آزادی دی گئی۔ایسی کون سی انکوائری ہے جو پانامہ لیکس سے بھی زیادہ مشکل اور دوسال میں کوئی حتمی رپورٹ سامنے نہیں آسکی۔ جو رپورٹیں حکومت نے فخریہ انداز میں شائع کیں وہ نئی انکوائری کے نام پر بے اثر ہو گئیں۔عوام نے مہنگائی کے کسی ذمہ دار کو جیل جاتے نہیں دیکھا۔اپوزیشن کو مہنگائی کے اعدادو شمار یاد ہیں، ٹی وی ٹاک شوز میں فر فر بولتے چلے جاتے ہیں، حکومتی ترجمانوں کی بے بسی دیدنی ہے۔وزیر اعظم اصل خرابی تک پہنچنے میں ابھی تک ناکام ہیں۔مہنگائی کا مسلسل بڑھنا ماضی میں بھی کئی حکومتوں کے زوال کا سبب بنا آج بھی بن سکتا ہے اور آئندہ بھی ہر حکومت کے لئے بڑا خطرہ رہے گا۔خیراتی اداروں کے بس کی بات نہیں کہ 11،12کروڑ عوام کی غذائی ضرورتیں پوری کرسکے۔لنگر خانے کتنے بھی خوبصورت بنائے جائیں ان کی حیثیت لنگر خانہ ہی رہے گی۔سفید پوش شہری حتی الامکان ادھر کارخ کرنا پسند نہیں کرتا۔کیا حکومت کویہ بھی یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔اپوزیشن کے جلسے جلوس روکنا درست حکمت عملی نہیں کہلائے گی اپوزیشن کو مہنگائی پر بولنے دیا جائے۔تاکہ کابینہ میں بیٹھے زرپرست وزیروں اور مشیروں کے کانوں تک مسائل زدہ عوام کی آواز براہ راست پہنچے اور اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ یہ جم غفیر جس روز اقتدارکے ایوانوں کی جانب بڑھے گا پر آسائش کمروں میں پناہ نہیں ملے گی۔حکومت طاقت کاآپشن استعمال کرنے کے بارے میں ہرگز نہ سوچے۔یہ فارمولہ جس حکومت نے آزمایا اس کے گلے کا طوق بن گیا۔ماڈل ٹاؤن(لاہور) اور ڈی چوک پر مرنیوالے آج بھی فائرنگ کرنے والوں کے لئے سوہان روح بنے ہوئے ہیں۔جس روز عدلیہ نے ایسے جرائم کی جانب سنجیدہ حکمت عملی اپنائی سب عبرت ناک سزاؤں کو پہنچیں گے ورنہ خدا کی لاٹھی سے بچنا ممکن نہیں اذیت ناک بیماریوں میں مبتلاء ہوکر دنیاسے رخصت ہوتے ہیں۔حکومت کو چاہیئے کہ اپنا احتساب کرے۔اپنی کمزوریوں کو خوبصور ت عنوان دے کر چھپانے کی کوشش ترک کی جائے۔ چورچور کے نعرے کتنے ہی بلند و بانگ کیوں نہ ہوں نعروں سے آگے کچھ نہیں ہوتے۔کارکردگی صدیوں بعد بھی یاد رہتی ہے۔شیر شاہ سوری آج بھی تاریخ کے صفحات پر ایک جگمگاتا نام ہے۔حکومت اپوزیشن کا گلا دبانے کی بجائے اپنی کارکردگی بڑھائے۔ آٹا، چینی دالیں، سبزیاں اور پھل زندگی کی بنیادی ضرورت ہیں۔اس حوالے سے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیئے کہ اشیائے خوردنی کی قیمتیں عام آدمی کی دسترس سے باہر نہ ہوں۔جہاں چاہ ہو، وہاں راہ نکلتی ہے۔ اپوزیشن کی زبان بند ی پسندیدہ عمل نہیں۔ایوان کا ماحول قابل رشک نہیں، بیک ڈور چینل نے ایک دن بند ہونا تھاسو اس کا ماتم کیوں؟ اب سیاسی معاملات پارلیمنٹ میں اور قانونی عدالتوں میں حل کئے جائیں۔چار دہائیوں کی منت سماجت والی بری عادت سے جان چھوٹ رہی ہے تو اسے خوش آمد کہا جائے۔7ستمبر کے جواب کو آخری مانا جائے۔اقتدار میں آنے کے عمل کو عوام کے ووٹوں سے یقینی بنایا جائے۔اراکین اسمبلی سے جواب عوام لے سکتے ہیں، یہ کام اراکین اسمبلی کے دائرہئ اختیار سے باہر ہے۔نون لیگ کو دوسروں کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔دھونس دھاندلی کی ہر شکل نقصان دہ ہے،دور تک تعاقب کرتی ہے۔چار دہائیاں سبق سیکھنے کے لئے کافی ہیں۔ جمہوری عمل کو آگے چلنے دیاجائے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو یاد رہے کہ یہ ذمہ داری کسی ایک فریق کی نہیں۔ جمہوری اقداردونوں کو اپنانا ہوں گی۔جمہوریت کونقصان پہنچا تو دونوں فریق نہیں بچیں گے دونوں کو گھر جانا ہوگا۔یہ خطرہ ٹلا ہے ختم نہیں ہوا اسے دعوت دینے کی غلطی نہ کی جائے۔


