پارلیمنٹ اپناکردار ادا کرے
پاکستان کودیگر ممالک کے برعکس ایک نئی قسم کی صورت حال کا سامنا ہے،یہاں آئین موجود ہے لیکن آئین کی توقیر مفقود ہے۔ سنجیدہ مسئلہ ہے،سنجیدگی سے ہی حل ہوگا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آئین سازی پارلیمنٹ کا اختیارہے۔خوش قسمتی سے آج پارلیمنٹ بھی موجود ہے اپنا اختیار استعمال کرنا چاہے تو اسے کوئی نہیں روک سکتا۔18ویں آئینی ترمیم اس کی عمدہ مثال ہے۔سیاست دانوں کی اسی ٹیم نے یہ کام کیاہے جو اس وقت پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں۔کہنے کو یہ ایک ترمیم ہے مگر اصل میں یہ دو سو کے لگ بھگ ترامیم کا پیکج ہے۔ اتنی بڑی ترمیم کرتے وقت پارلیمنٹ کوکسی نے نہیں روکا۔ اس ترمیم کے بعد عدلیہ کو آئین کے آرٹیکل175،176میں مزید ترامیم مطلوب تھیں،پارلیمنٹ نے نہایت خوش اسلوبی سے تمام ترامیم نہایت مختصر عرصے میں منظور کر لیں۔عدلیہ مطمئن ہوگئی۔ماضی قریب میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے بعض آئینی اور قانونی سوالات اٹھے تب بھی پارلیمنٹ نے اپنا فرض اداکیا۔بلکہ حیران کن ہم آہنگی اور یگانگت کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔ ایف اے ٹی ایف کی بعض شرائط پوری کرنے کے لئے قانون سازی درکار تھی،موجودہ پارلیمنٹ نے آئینی طریقہئ کار کے مطابق منظوری دی، قومی اسمبلی میں حکومت کو اکثریت حاصل تھی،بل منظور ہوگیا، سینیٹ میں اپوزیشن کو اکثریت حاصل تھی مسترد کر دیا گیا۔سینیٹ سے مسترد ہونے والے بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بحث اور منظوری کے لئے پیش کئے جاتے ہیں یہ آئینی مرحلہ طے کیا گیا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کے اراکین کی بڑی تعداد بوجوہ غیرحاضر ر ہی اس کا نتیجہ یہ نکلاکہ حکومت کے ووٹ زیادہ تھے،تمام بل منظور ہوگئے۔اس سے پہلے چیئرمین سینیٹ کے خلاف اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد پیش کی، اپوزیشن کو واضح اکثریت حاصل تھی، کھڑے ہوکر اراکین نے اپنی رائے دی ان کی اکثریت موجود تھی لیکن چند منٹ بعد ان (ناں کرنے والے)اراکین نے خفیہ بیلٹ کے ذریعے اپنا ووٹ کاسٹ کیا تو عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوگئی۔چند منٹوں میں ووٹرز نے اپنی پہلی رائے تبدیل کردی جبکہ تمام ووٹرز اراکین پارلیمنٹ تھے اور آج بھی ہیں۔کیا ایسی پارلیمنٹ دنیا کے کسی دوسرے ملک میں موجود ہے؟اس سوال کاجواب نفی میں ہوگا، ایک لمبی ”نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یں“ (نہیں)ہوگا۔
یہاں متعدد ضمنی سوالات پیدا ہوتے ہیں:
اول: کیا اراکین پارلیمنٹ نے عدم اعتماد کی جس رائے کا اظہا ر،آئین کے مطابق کھڑے ہوکر کیا تھا وہ کسی دباؤ کا نتیجہ تھی؟
دوم: جو رائے ان ہی معززاراکین پارلیمنٹ نے چند منٹ بعد خفیہ بیلٹ کے ذریعے دی وہ کسی دباؤکا نتیجہ تھی؟
سوم: کیا الیکشن کمیشن، ریٹرننگ آفیسرزیا کسی نادیدہ قوت نے پارلیمنٹ کے فلور پر کوئی دھاندلی کی تھی؟
چہارم: کیا نتائج کا اعلان کمپیوٹر کی کسی خرابی کے نتیجے میں تبدیل ہو گیا تھا؟
پنجم: ووٹوں کی گنتی کس نے کی تھی؟
ششم: کیاووٹرز ان پڑھ تھے کہ انہوں نے دو دو مہریں لگا ئیں؟ یا ایک ہی مہر اس انداز میں لگائی کہ واضح رائے سمجھنا ممکن نہیں تھا؟
ہفتم: کیا کھڑے ہوکر ”ناں“ کہنے والے اراکین پارلیمنٹ ایک قسم کے تھے اور پردے کے پیچھے جا کر مہر لگانے والے اراکین پارلیمنٹ دوسری قسم کے تھے؟
ہشتم: کیا ایک رکن پارلیمنٹ کو آئین ایک ہی مسئلے پر، ایک ہی سیشن میں دو رائے دینے کا حق/اختیار دیتا ہے؟اگر ایسا ہے تو متعلقہ آئینی آرٹیکل یا رول آف بزنس دکھایا کیوں نہیں گیا؟ اور اس تضاد کو دور کرنے کے لئے پارلیمنٹ نے آج تک ضروری ترمیم کیوں نہیں کی؟
نہم: کیا ایک ہی مسئلے پر،ایک ہی وقت میں اور ایک ہی مقام پراراکین پارلیمنٹ نے دو رائے دے کر آئینی حدود سے تجاوز نہیں کیا؟
دہم: کیا ایک ہی مسئلے پر، ایک ہی وقت میں اور ایک ہی مقام پردورائے دینا مس کنڈکٹ نہیں تھا؟
یازدہم: کیامذکورہ آئینی خلاف ورزی کا کسی مجاز اتھارٹی نے(پارلیمنٹ کے اندر یاپارلیمنٹ کے اندر) کوئی نوٹس لیا؟ کوئی کارروائی کی گئی؟
دوازدہم: کیا ایوان کے مقدس فلور پر قائد ایوان کو جھوٹ بولنے کا استحقاق آئین دیتاہے؟
سیزدہم: کیا ایوان کے مقدس فلور پر کھلا جھوٹ بولنے والا قائد ایوان پاکستان کے 22کروڑ عوام سے دروغ بیانی کا مرتکب نہیں ہوا؟
چہاردہم: کیا ایساقائد ایوان جو مقدس ایوان میں دیدہ دلیری سے جھوٹ بولے وہ آئین کی رو سے ”صادق“ کہلا سکتا ہے؟
پانزدہم: کیا پارلیمنٹ مقدس ایوان پر،قائد ایوان کے جھوٹ بولنے کا کوئی نوٹس نہ لے کر اعانت جرم کی مرتکب نہیں ہوئی؟
درج بالا پندرہ سوالات کا جواب دینا پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے۔عوام کے ذہنوں میں مذکورہ بالا سوالات موجود ہیں۔یاد رہے طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔پارلیمنٹ عوام کے ووٹوں سے وجود میں آتی ہے۔اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور دیگر مراعات سمیت تمام اخراجات غریب عوام اپنے ٹیکسوں سے ادا کرتے ہیں۔پارلیمنٹ درج بالا سوالات کا جواب دینے کی پابند ہے۔بلاتاخیر جواب دیا جائے۔


