بلاول بھٹوزرداری کا نواز شریف بیانیہ پر اعتراض

چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زردار ی نے غیر ملکی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں تسلیم کیا کہ انہیں گوجرانوالہ پی ڈی ایم کے جلسے میں نواز شریف کی جانب سے خطاب میں فوجی قیادت کا نام لینے پر دھچکا لگا تھااس لئے کہ 11جماعتی اتحاد کا جلسہ تھا، یہاں صرف اسی ایجنڈے پر بات کی جا سکتی ہے جو مشترکہ قرارداد میں طے شدہ ہے۔ اے پی سی کے اجلاس میں اس پر بات ہوئی تھی اور طے پایا تھا کہ کسی ادارے کا نام نہیں لیا جائے گا، صرف ”ایسٹبلشمنٹ“ کہا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف نے نام لیا ہے تو یقینا ان کے پاس ثبوت موجود ہوں گے، وہ انتظار کر رہے ہیں کہ کب نواز شریف ثبوت پیش کرتے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے ادھر شریف فیملی کے ترجمان محمدزبیرعمرنے کہا ہے کہ یہ عدالت نہیں کہ ثبوت پیش کئے جائیں، مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ یہ بلاول بھٹو زرداری کی ذاتی رائے ہے۔مریم اورنگزیب شایدبھول گئی ہیں کہ یہی اعتراض جے یو آئی کی قیادت بھی کر رہی ہے اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن پی ڈی ایم کے بھی سربراہ ہیں۔جہاں تک محمد زبیر عمر کی وضاحت کا تعلق ہے اس سے یہی سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ صرف شریف فیملی کے ترجمان ہیں، انہیں سیاست کی اعلیٰ اقدار سے کوئی غرض نہیں۔وہ خود بھی جھوٹ کو برا نہیں سمجھتے نہ ہی اپنی قیادت کے جھوٹ کا دفاع کرتے ہوئے انہیں کوئی جھجک محسوس ہوتی ہے۔حالانکہ ہرسیاست دان سے آئین یہ تقاضہ کرتاہے کہ اسے ”صادق اور امین“ ہونا چاہیئے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ نواز شریف کے بیانیے کی وجہ سے مسلم لیگ نون میں بھی بھونچال آگیا ہے۔بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے علاوہ پنجاب میں نون لیگی ایم پی ایز کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ نے گزشتہ روز مسلم لیگ نون سے علیحدگی کا باضابطہ اعلان کردیا ہے بلکہ انہوں نے کہا ہے وہ تنہا نہیں ہیں،دوستوں سے مشورے کے بعد اپنا مستقبل کا لائحہئ عمل طے کریں گے۔نواز شریف ایک منجھے ہوئے سیاست دان ہیں انہیں اندازہ ہوگا کہ پی ڈی ایم ایک 11جماعتی اتحاد ہے۔اس نے اپنی حدود کا تعین ایک قرار داد کے ذریعے کر دیا ہے۔ ہر مسئلے پر ہر پارٹی کی اپنی علیحدہ رائے ہو سکتی ہے مگر اس کا اظہار پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر نہیں کیا جاسکتا۔قیادت اپنی پارٹی کے اجلاس یا جلسوں میں جو چاہے کہہ سکتی ہے۔گلگت بلتستان کے انتخابات میں پی پی پی اور نون لیگ ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑ رہی ہیں۔وہاں اخلاقی حدود کا خیال رکھنے کی دونوں جماعتیں پابند ہیں۔ماضی کی طرح ”مودی کا یار“ ہونے جیسے القاب سے گریز کیا جارہاہے۔ یہ نہیں کہاجارہا:”جس نے عمران خان کو ووٹ دیا، وہ اصل میں زرداری کو ووٹ دے گا،کیونکہ اندر سے دونوں ایک ہیں“۔بالکل اسی طرح نواز شریف پی ڈی ایم کے جلسوں میں، طے کردہ حدودکو نظر انداز کرکے اپنا ذاتی یا اپنی پارٹی کا بیانیہ پیش نہیں کر سکتے۔ ویسے بھی 13نومبر کے پشاور میں ہونے والا جلسہ صورت حال کافی حد تک واضح کر دے گا۔ جلسے میں لیگی رہنماؤں کی شرکت اور لیگی کارکنوں کی آمد سے درونِ خانہ کیا کھچڑی پک رہی ہے،سامنے آجائے گی۔ہر جگہ، ہر وقت ایک ہی بات نہیں دہرائی جا سکتی۔دوسروں کی رائے کا خیال رکھنا ضروری ہوجاتا ہے۔پی ڈی ایم 11جماعتی اتحادموجودہ وقت پر کسی ٹوٹ پھوٹ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پی پی پی ملک کی اہم اور دوسری بڑی پارٹی ہے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے اٹھائے گئے اعتراضات کو ان کی ذاتی رائے کہنا درست نہیں۔نہ ہی کسی ثبوت کے بغیر نواز شریف کسی پر الزام عائد کر سکتے ہیں۔وہ پہلے ہی اپنے بعض معاملات کی بناء پر مشکلات سے دوچار ہیں۔انہیں انتہائی دانشمندی سے کام لینا ہوگا،جذباتیت سے بلند ہوکر ٹھنڈے دل سے سوچنا ہوگا کہ اس گرداب سے کیسے نکلا جائے۔ انہیں دوستوں کی قربت کی پہلے سے زیادہ آج ضرورت ہے۔ اپنے بیانیے کی بناء پرکسی اتحادی پارٹی کو دور کرنا نقصان دہ ہوگا۔امریکہ جیسے ملک کے انتخابات میں آئیڈیل شفافیت نظر نہیں آتی۔معاملہ عدالت تک پہنچتا ہے۔پوسٹل بیلٹ کے علاوہ ایک سے زائد بار ووٹ ڈالے جانے کی شکایت کی جارہی ہے۔ہارنے والا امیدوار کہہ رہا ہے کہ وائٹ ہاؤس خالی نہیں کروں گا۔یاد رہے وہاں کسی تعطل کے بغیر59واں الیکشن منعقدہو رہا ہے۔ہر چار سال بعد الیکشن ہوتا ہے، یہ عمل 232 سال سے جاری ہے۔مگرانتخابی نتائج میں شکوک و شبہات دور نہیں ہوسکے۔ایسٹبلشمنٹ نے جو بائیڈن کی کامیابی تسلیم کرلی ہے۔ان کی رہائش گاہ کے اوپر سے ہوائی جہازوں کا گزرنا بند کر دیا گیاہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کچھ بھی کہیں، عدالت جائیں،ہر ممکن دروازہ کھٹکھٹائیں انہیں وائٹ ہاؤس مقررہ تاریخ تک خالی کرنا ہوگا۔اس لئے کہ صدارت محل کسی کی موروثی جائیداد نہیں،دوسری بار جیتنے کے باوجودآٹھ سال سے زیادہ کوئی قیام نہیں کر سکتا۔ ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار نہیں جیت سکے، حالانکہ انہوں نے اپناسارا زور لگا لیا،ووٹوں کی گنتی نہیں رکوا سکے۔ عدالتوں نے دوبارہ گنتی کرانے کا حکم دیا تب بھی دسمبر کے وسط تک فیصلہ سنا دیا جائے گا۔ جنوری کے پہلے ہفتے میں نئے صدر وائٹ ہاؤس میں اپنا حلف اٹھا لیں گے۔ ان کے شور شرابے پر امریکی معاشرہ کیا رد عمل دے گا ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔تاہم یہ واضح ہے کہ انہیں عدالتی حکم ماننا پڑے گا۔وہ یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ انہیں چونکہ دھاندلی سے ہرایا گیا ہے اس لئے یہ فیصلہ کہیں اور لکھا گیاتھا ججز نے صرف دستخط کئے ہیں۔عدالتوں کے احترام کی وجہ سے صرف برطانیہ ہی نہیں، امریکہ بھی دنیاکا ایک طاقتور ملک ہے۔ابھی صرف پی پی پی کو بیانیے پر اعتراض ہے لیکن لگتا ہے کہ پی ڈی ایم کی دیگر پارٹیاں بھی (شائد)جلد یا بدیریا بتدریج زمینی حقائق تسلیم کر لیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں