پہلی خاتون نائب صدر: کملا ہیرس کیوں تاریخ ساز
نو منتخب امریکی نائب صدر کملا ہیرس اپنی زندگی میں اکثر پہلے نمبر پر رہی ہیں۔ اب وہ امریکا کی پہلی خاتون نائب صدر بھی منتخب ہو گئی ہیں، پہلی غیر سفید فام نائب صدر بھی اور پہلی بھارتی نژاد نائب صدر بھی۔
کملا ہیرس نے اپنی اب تک کی سیاسی زندگی میں اتنے زیادہ کام پہلی مرتبہ کیے ہیں کہ اب کئی ماہرین ان کے بارے میں یہ بھی سوچنے لگے ہیں کہ آیا وہ مستقبل میں امریکا کی پہلی خاتون صدر بھی بن جائیں گی۔ واشنگٹن سے اینس پوہل کا تحریر کردہ کملا ہیرس کی شخصیت کا
آج سے زیادہ سے زیادہ 25 برس بعد امریکا میں سفید فام شہری اکثریت میں نہیں رہیں گے۔ ایسے امریکی ووٹروں کی تعداد اب مسلسل زیادہ سے زیادہ ہوتی جا رہی ہے، جن کی نسلی طور پر جڑیں مختلف یورپی معاشروں میں نہیں بلکہ ایشیا اور افریقہ کے مختلف ممالک سے جڑی ہوئی ہیں۔
کئی سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار کے طور پر جب جو بائیڈن نے نائب صدر کے عہدے کے لیے کملا ہیرس کا انتخاب کیا، تو وہ یہ اشارہ دینا چاہتے تھے کہ وہ یہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ امریکا میں آئندہ برسوں اور عشروں میں داخلی سماجی اور معاشرتی حوالوں سے کیا کیا تبدیلیاں آنے والی ہیں۔
کملا ہیرس کی والدہ شیاملا گوپالن 1960ء میں بھارت سے ترک وطن کر کے امریکا آئی تھیں۔ وہ چھاتی کے سرطان پر تحقیق کرنے والی ایک میڈیکل ریسرچر تھیں۔ کملا کے والد ڈونلڈ ہیرس اقتصادیات کے پروفیسر تھے، جو جمیکا سے ترک وطن کر کے امریکا میں آباد ہوئے تھے۔
کملا ابھی سات برس کی تھیں کہ ان کے والدین میں علیحدگی ہو گئی تھی۔ پھر کملا اور ان کی بہن مایا کی پرورش ان کی والدہ نے کی اور جب وہ طبی تحقیق کے لیے کینیڈا کے شہر مانٹریال منتقل ہو گئیں، تو کملا اور مایا بھی ان کے ساتھ ہی مانٹریال چلی گئی تھیں۔
کملا ہیرس کی پیدائش امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر اوک لینڈ میں ہوئی تھی اور اسی شہر نے بلوغت کے بعد ان کی اور ان کے خاندان کی زندگی میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ یہ بھی ریاست کیلی فورنیا میں ہی ہوا تھا کہ 1970 کے عشرے کے دوران ایک نوجوان لڑکی کے طور پر کملا ہیرس کو یہ تجربہ بھی ہوا کہ اگر کسی کی رنگت سفید نہ ہو تو اس دور کے امریکا میں کسی بھی نواجوان کو کس طرح کے سماجی حالات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔


