مختلف الخیال یا منتشرالخیال؟
اس میں شک نہیں کہ عوام مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہیں اور ملک میں قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔ حکومت ہر دوسرے روز میڈیا کے ذریعے اعلان کرتی ہے کہ چینی چوروں، آٹا چوروں نے مافیاز بنائے ہوئے ہیں، ان کا کھوج لگالیا گیا ہے اور آئندہ کسی کی ہمت نہیں ہوگی وہ سرکاری ریٹ سے زیادہ وصول کر سکے۔چوروں کی سرپرستی کرنے والے بیوروکریٹس کی نشاندہی بھی ہوگئی ہے، وہ گزشتہ 30،30سال سے ایک جگہ بیٹھے ہیں، مافیاز کا حصہ بن چکے ہیں،اب فیصلہ کرلیا ہے کہ بدعنوان افسر کا تبادلہ نہیں ہوگا بلکہ اس کی افسری چھن جائے گی اور وہ سیدھا اپنے گھر جائے گا اس کے علاوہبعض مشیر اور معاونین یہ بھی بتاتے ہیں کہ فلاں سیاست دان کی بھاری کرپشن کے ٹھوس شواہد نیب نے حاصل کرلئے ہیں اور وہ سخت سزا نہیں بچ سکے گا۔ان چپڑاسیوں اور نچلے درجے کے ملازمین کے نام اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی پریس کانفرنسز میں پیش کی جاتی ہیں مگر سچ یہ ہے کہ کسی ایک کو بھی عدالتوں سے سزا نہیں سنائی گئی۔حیران کن صورت حال اس وقت دیکھنے کو ملتی ہے جب سزا یافتہ مجرم میڈیا کے سامنے کھڑا ہوکر اپنی صفائی میں یہ دلیل دیتا ہے کہ مجھے”پانامہ لیکس“ میں پکڑا گیا تھا، لیکن سزا اس کیس میں نہیں سنائی گئی،”اقامہ کیس“ میں سنائی گئی ہے۔ عام آدمی یہ سن کر افسوس کا اظہار کرتاہے اور کہتاہے یہ تو زیادتی ہے کہ پکڑو ’پانامہ‘ میں اور سزا دو’اقامہ‘ میں!ایسے فیصلوں کوانصاف کہنا اور ماننا آسان نہیں۔پھر یہی سزایافتہ مجرم جیل سے لندن پہنچ جائے توعام آدمی کی حیرت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ آج میڈیا 90کی دہائی سے نکل کر اگلی صدی کی دودہائیاں بھی گزار چکا ہے۔نوجوانوں کے ہاتھ میں واٹس ایپ ہے،سوشل میڈیا کی تنقید اور تبصرے تصویر کا غیر سرکاری رخ دکھانے میں ایک سیکنڈ کی دیر نہیں کرتا۔
حال ہی میں ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے، سپریم کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں حمز شہباز کی ضمانت کی درخواست پر کہا ہے:”حمزہ کی میرٹ پر ضمانت پہاڑ سر کرنے والی بات ہوگی“، اس کے ساتھ ہی عدالت نے پوچھا ہے:”سلمان شہباز کی جائیداد ضبط کیوں نہیں کی؟“،اور عدالت نے شہباز شریف کی اہلیہ نصرت کو اشتہاری قرار دے دیا ہے۔گویا ان کی تمام جائیداد بھی بحق سرکار ضبط کر لی جائے گی۔لگتا ہے بسم اللہ ہو گئی ہے،جمود ٹوٹنے لگا ہے۔شہباز فیملی بھی برسوں سے دعویٰ کرتی رہی ہے کہ ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہو جائے تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔اب انہوں نے کہنا شروع کر دیا ہے:”میں نے میگا پروجیکٹس میں ملک کے اربوں روپے بچائے ہیں“،عدالت نے جواب دیا ہے کہ آپ کو بھی مناسب وقت پر سن لیں گے۔سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی بیٹوں کے نام ایک ”ولا“ جائیداد کا اقرار کر لیاہے،دھیرے دھیرے شواہد سامنے آنے پر امید ہے وہ دیگر جائیدادوں کی ملکیت بھی تسلیم کر لیں گے۔ جہانگیر ترین فیملی بھی پیشیاں بھگت رہی ہے۔چینی چوری، آٹا چوری کے الزامات ہیں۔انہیں موجودہ وزیر اعظم کا انتہائی قریبی آدمی کہا جاتا تھا،بلکہ ”اے ٹی ایم“ کہلاتے تھے۔ مالم جبہ اور بلین ٹری کیسز بھی عدالت میں پہنچ چکے ہیں،آڈٹ رپورٹ جمع کرانے کا عندیہ ظاہر کیاگیا ہے۔سرکار جواب دہی کے لئے راضی ہے۔دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔بزرگوں نے سچ کہا ہے:وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔شیشے کے گھر میں رہنے والوں کو سنگ باری کی قیمت ایک دن ادا کرنی پڑتی ہے۔پاکستان میں یہ عمل 73 برس کی تاخیر سے شروع ہواہے۔بانیان پاکستان کی تیسری نسل انصاف ہوتا دیکھے گی،(انشاء اللہ!)۔جن تخت نشینوں کو اپنے خدا ہونے کا یقین تھا،اب ان کے ماتھے پر پسینہ نظر آنے لگا ہے، سخت سردی کے موسم میں ان میں سے بعض ٹشو پیپر سے پسینہ پونچھتے دیکھے گئے ہیں۔افراد کے بعداداروں نے بھی ایک دوسرے کو آنکھیں دکھانی شروع کر دی ہیں، نیب اور سینیٹ آمنے سامنے آچکے ہیں۔
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) میں شامل 11سیاسی پارٹیاں استعفوں کے مسئلے میں ہم خیال نہیں۔ نون لیگ کے دو چار اراکین نے استعفے دیئے،اب وہ بھی رک گئے ہیں۔شاید قیادت نے کہا ہو کہ ”ابھی صرف تیل دیکھو، تیل کی دھار دیکھو“۔پی پی پی اس حوالے سے 27دسمبر کو غور کرے گی کہ سندھ کی حکومت چھوڑ کر بن باس لیا جائے یا یہ غلطی نہ کی جائے۔مبصرین کا خیال ہے کہ پی پی پی کی قیادت جوش کی بجائے ہوش سے کام لے گی۔آبادی کے لحاظ سے سندھ دوسرا بڑا صوبہ ہے۔قیمتی جزیرے بھی سندھ کی ملکیت ہیں۔گور سندھ عمران اسماعیل اگلے روز میڈیا کے روبرو کہہ رہے تھے: ”بنڈل جزیروں پر سرمایہ کاری کے بعد دنیا دبئی کو بھول جائے گی۔50فائر ٹینڈرز کا تحفہ جلد ہی کراچی پہنچنے کی نوید بھی سنائی دینے لگی ہے۔خوبصور ت گرین بسوں آمد بھی چند ہفتوں کی دوری پر ہے۔“،۔۔۔۔۔ ایسے میں پی پی پی سے یہ امید کرنا کہ وہ مستعفی ہوجائے گی،عملی طور پر ممکن نظر نہیں آتا۔بہار کے موسم میں چمن کو جانا اچھا لگتا ہے، ویرانوں میں جانے کا فیصلہ نہیں کیا جاتا۔30ارب روپے کے منصوبے ملیر ایکسپریس کا سنگ بنیاد چیئر مین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری عنقریب رکھنے والے ہیں۔پی ڈی ایم کی دیگر 10پارٹیاں صرف اپوزیشن،اپوزیشن کھیل سکتی ہیں، شوق سے کھیلیں۔عام آدمی 20 جولائی کو تشکیل پانے والے 11جماعتی اتحاد کو غور سے جانچ رہا ہے کہ یہ مختلف الخیال پارٹیوں کا اتحاد ہے یا منتشرالخیال پارٹیوں کا؟اس لئے کہ نہ ان کا منشور ہے، اور نہ ہی مشترکہ جھنڈا ہے۔ جلسوں کی میزبانی بھی مسلم لیگ نون، جے یو آئی اور پی پی پی کرتی ہیں، باقی 8پارٹیاں صرف شرکت اور تقاریر کرتی ہیں۔13دسمبر کو سرپرائز دینے کا فیصلہ بوجوہ تبدیل ہوگیا ہے۔اب ڈیڑھ مہینے بعدجنوری کے آخری ہفتے میں علم ہو سکے گا کہ پی ڈی ایم کیا اعلان کرے گی؟اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ جنوری (اور شاید فروری2021)تک پی ٹی آئی کی حکومت قائم رہے گی، سمجھ لیا جائے کہ تب تک آر یا پاربھی نہیں ہوگا۔


