پتہ نہیں ایم کیو ایم کس مجبوری کے تحت حکومت کے ساتھ کھڑی ہے،بلاول بھٹوزرداری

کراچی :پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کراچی کے عوام کا حق مارا جارہا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے نظریے اور سیاست کے مطابق اس کا حکومت کے ساتھ مزید ایک دن رہنا عوام کا مطالبہ نہیں، پتہ نہیں ایم کیو ایم کس مجبوری کے تحت حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ مردم شماری کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا شروع سے اعتراض موجود ہے کیونکہ مردم شماری غلط ہوگی اور عوام کی نمائندگی ٹھیک نہیں ہوگی تو انہیں ان کے حصے کا حق نہیں ملے گا۔ وفاقی حکومت کے اقدامات عوام کی پریشانیوں اور تکالیف میں کمی لانے کے بجائے اس میں اضافہ کر رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی کے ضلع کورنگی میں فشرمین چورنگی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب سے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ،وزیراطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ،وزیر تعلیم سندھ سعید غنی،رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ اور رکن سندھ اسمبلی محمود عالم جاموٹ نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر بیرسٹر مرتضی وہاب، سہیل انور سیال، شہلا رضا شریک، جام کریم جوکھیو، سلیم بلوچ، ساجد جوکھیو، شاہینہ شیرعلی، پیپلزپارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری وقار مہدی سمیت جاوید ناگوری، یوسف بلوچ، سلمان عبداللہ مراد اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔افتتاحی تقریب کا باضابطہ آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔تقریب میں قومی ترانہ پڑھا گیا۔تمام حاضرین نے قومی ترانہ نشستوں سے کھڑے ہوکر سنا۔چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم نے منصوبے کی اہمیت اور خدوخال بیان کئے۔انہوں نے بتایا کہ یہ روڈ کراچی نیبر ہوڈ پروجیکٹ کے تحت تعمیر کیا گیا ہے۔یہ سڑک 4.9 کلومیٹر طویل ہے اور اس روڈ کے تین حصے ہیں،فشرمین چورنگی جس کا پرانا نام پوسٹ گارڈ چورنگی تھا۔سندھ حکومت شہر کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لئے وزیراعلی سندھ کی ربراہی میں کام کررہی ہے۔محدود وسائل کے باوجود سوریج اور سڑکوں کی تعمیر کی جارہی ہے۔سندھ حکومت اس ضمن میں پی پی پی موڈ کے تحت بھی منصوبے تعمیر کررہی ہے۔ چیئرمین پی اینڈ ڈی نے شہر میں 6 مختلف منصوبوں سے متعلق بریفنگ دی۔منصوبے کی افادیت سے متعلق مختصر ڈاکیومینٹری فلم بھی دکھائی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ‘پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی جو ملک کی پوری معیشت کو چلاتا ہے، افسوس کی بات ہے کہ زمانے سے جو لوگ یہاں سے منتخب ہوتے رہے ہیں وہ ہر حکومت کا حصہ تو رہے ہیں مگر اپنے عوام اور اپنے شہر کو اس کا حصہ نہیں دلوا سکے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ہمارا حصہ نہ ملنے پر سب سے زیادہ کراچی متاثر ہوا ہے، عالمی بینک نے کہا کہ کراچی کے انفرااسٹرکچر کے لیے 10 ارب ڈالر کی ضرورت ہے، ہم جب 10 ارب ڈالر کی بات کرتے ہیں تو مذاق اڑایا جاتا تھا۔انہوں نے کہا کہ ‘کراچی میں سرمایہ کاری ہوگی تو اس کا اثر پورے پاکستان پر ہوگا، کراچی چکے گا تو پورا پاکستان چلے گا، وفاق نے فنڈز نہیں دیے اور نہ بلدیاتی حکومت نے ہمارا ساتھ دیا، اس کے باوجود ہم کوشش کر رہے ہیں کہ جو ہو سکے کریں تاکہ کراچی کی مشکلات کم ہوں، جبکہ وسائل نہ ہونے کے باوجود عوام کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ اور ویسٹ مینجمنٹ کا نظام بن رہا ہے، نیبرہوڈولیج کراچی کے ہر ضلع تک پہنچے گا، ایم کیو ایم کے نمایندے میری پیدائش سے پہلے سے سلیکٹ ہوتے رہے ہیں، ایم کیو ایم کے نمایندوں سے پوچھیں کورنگی کے لیے کیا کیا؟۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ‘زیادہ بات، شور اور حکومت کے مزے لینے والے کراچی کے عوام کی طرف دھیان دیں، ان کی حکومت کا جو طریقہ ہے اس سے کراچی کے عوام کا حق مارا جارہا ہے، مردم شماری کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا شروع سے اعتراض موجود ہے کیونکہ مردم شماری غلط ہوگی اور عوام کی نمائندگی ٹھیک نہیں ہوگی تو انہیں ان کے حصے کا حق نہیں ملے گا۔انہوں نے ایم کیو ایم سے متعلق کیا کہ ‘ایم کیو ایم میری سمجھ سے باہر ہے، ایم کیو ایم کے نظریے اور سیاست کے مطابق اس کا حکومت کے ساتھ مزید ایک دن رہنا عوام کا مطالبہ نہیں، پتہ نہیں ایم کیو ایم کس مجبوری کے تحت حکومت کے ساتھ کھڑی ہے، ایم کیو ایم کے ووٹوں کی وجہ سے حکومت قائم ہے، آپ اپنی مجبوری کے بجائے عوام کی مجبوری کے بارے میں سوچیں۔وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عوام کے لیے کھانے پینے کی اشیا کا بندوبست کرنا، بچوں کو اسکول بھیجنا، ادویات خریدنا دوبھر ہوگیا ہے، وفاقی حکومت کے اقدامات عوام کی پریشانیوں اور تکالیف میں کمی لانے کے بجائے اس میں اضافہ کر رہے ہیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے جزیروں کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘جب بھی ان جزیروں پر قبضے کی کوشش کی گئی پیپلز پارٹی ماہی گیروں کی آواز بن کر سامنے آئی، اس حکومت نے جزیروں پر قبضے کے لیے جو غیر قانونی آرڈیننس منظور کیا تھا اس کی مدت پوری ہوچکی ہے، اب ان کو عوام کے پاس آنا پڑے گا اور میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ یہ جزیرے صوبے کے عوام اور یہاں کے ماہی گیروں کے ہیں اور جب تک ان ماہی گیروں اور عوام کو مطمئن نہیں کریں گے تب تک ہم آپ کو وہاں ایک اینٹ نہیں ڈالنے دیں گے’۔اس موقع پر وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے وفاقی وزرا پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اجلاسوں میں غریب عوام کے مسائل پر گفتگو نہیں کرتے بلکہ یہ بات ہوتی ہے کہ حکومت سندھ کی برائی کیا کی جائے کیونکہ صادق و امین کے چمچے سندھ کی ترقی دیکھ نہیں سکتے۔ وفاق وزرا پھر میڈیا پر بھی یہ رپورٹ کرتے ہیں اور پھر میڈیا پر اس کا شور مچ جاتا ہے۔وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ میڈیا کو وزرا کی متنازع باتیں درکار ہوتی ہیں اور پھر ایک شور برپا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں سندھ کے دشمن اور یہ چمچے اپنی اپنی بکواس شروع کردیتے ہیں۔انہوں نے کراچی کے حوالے سے کہا کہ ابراہیم حیدری اور عمر کالونی کے روڈ بھی پراجیکٹ میں شامل ہیں۔وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی میں مختلف مقامات پر سڑکوں کی استری کے لیے 5 کروڑ روپے دیے تھے۔انہوں نے کہا کہ نیبر ہوڈ امپر دومنٹ پراجیکٹ میں ککری گراؤنڈ کو شامل کیا ہے۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی کو اپنا وارث سمجھنے والوں نے کراچی کا جو حال کیا ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔ کراچی میں انکروچمنٹ کو ہٹانے کا کام صوبائی حکومت کا کام نہیں ہے بلکہ ڈی ایم سیز اور کے ایم سی کا کام ہے۔ انکروچمنٹ کرواتے بھی وہی ہیں اور جب ہٹانے کا وقت آتا ہے تو کہتے ہیں کہ سندھ حکومت کوئی پاور نہیں دیتی۔سید مراد علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ کس نے پاور لیے تھے آپ کے؟انہوں نے کہا کہ آپ نے اپنے پاور کی بنیاد پر انکروچمنٹ کی اجازت دی اور اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔وزیر اعلی سندھ نے وفاقی حکومت کے حوالے سے کہا کہ وفاقی حکومت نے 63 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا تھا ہمیں اس سے کم ملے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسی بنیاد ہم پبلک پارٹنرز کی طرف جارہے ہیں، یہ قرضے ہیں جنہیں آنے والی نسلوں کو واپس کرنے ہیں لیکن اس وقت شہر کو ڈیولپمنٹ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔وزیر اعلی سندھ نے اپنے اختتامی کلمات میں ورلڈ بینک کے نمائندوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے مختلف ترقیاتی منصوبوں میں خصوصی دلچسپی دکھائی۔صوبائی وزیر بلدیات و اطلاعات ناصر حسین شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی نیبرہوڈ امپروومنٹ پروجیکٹ کے تحت ہمارا یہ دوسرا منصوبہ ہے۔تیسرا منصوبہ ملیر میں بنا رہے ہیں۔سندھ بھر میں اس قسم کے منصوبے قائم کرینگے۔وفاقی حکومت ہمیں سپورٹ نہیں کررہی لیکن اسکے باوجود ہم عوامی منصوبے قائم رہے ہیں۔وزیراعلی سندھ ڈونرز کے تعاون سے منصوبے مکمل کررہے ہیں۔ڈونرز بھی سندھ حکومت کی شہرت کو مد نظر رکھتے ہوئے تعاون کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کورنگی کا یہ علاقہ ماہی گیروں کی بستیوں سے قریب ہے۔ماہی گیروں کی آبادیوں کو اپ گریڈ کرینگے۔کوسٹل بیلٹ کے لئے جامع منصوبہ بنایا ہے۔ماہی گیروں کی تجاویز کے تحت کام ہوگا۔ماہی گیروں کے خلاف جزائر کا جو کام ہورہا تھا اسکی پیپلزپارٹی قیادت کے حکم پر مخالفت کی۔جزائر پر کوئی بھی ترقیاتی کام ہوگا تو ماہی گیروں کو مکمل اعتماد میں لیا جائیگا۔فشرمین چورنگی کو ہم نے خوبصورت بنایا ہے اسکی حفاظت بھی ہم سب نے کرنی ہے۔پسماندہ علاقوں کو پیپلزپارٹی نے ہمیشہ ترجیح دی ہے۔ وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کراچی پر چیئرمین پیپلزپارٹی کی خصوصی نظر ہے۔کراچی کے منصوبوں کو بلاول بھٹو زرداری نے ہمیشہ ترجیح دی ہے۔پیپلزپارٹی نے دیہی اور شہری علاقوں کو بلاتفریق ترجیح دی۔کورنگی ضلع میں ہمارا کوئی منتخب نمائندہ نہیں لیکن اسکے باوجود یہاں ترقیاتی کام کروارہے ہیں۔پورے ملک میں صحت کے شعبے میں سب سے زیادہ کام کراچی میں ہواہمارے صحت کے منصوبے عالمی سطح کے ہیں۔ سعید غنی نے کہاکہ بے نظیر مزدور کارڈ کا اجرا کررہے ہیں۔اسکا آغاز جلد کررہے ہیں جس پر دیگر حکومتیں بھی عمل کرینگی جو اچھی بات ہے۔وفاقی حکومت کی نالائقی کی وجہ سے سندھ کو این ایف سی میں شیئر نہیں مل رہا۔لیکن اسکے باوجود ہم عوام کے فلاحی منصوبے بنا رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں