ایران سے پیٹرول کی آمد

ایک مدت ہو گئی عوام یہ دیکھ رہے ہیں پڑوسی ملک ایران سے وافر مقدار میں پیٹرول اسمگل ہو کر بلوچستان پہنچتا ہے اور پھر کراچی تک مختلف طریقوں سے فروخت کیا جاتا ہے۔مسافر بسیں اس کی ترسیل کا بڑا ذریعہ تھیں، اب بھی چوری چھپے یہ کام کیا جارہا ہوگا۔متعدد بار مسافر ان میں جل کر کوئلہ بن چکے ہیں۔کئی خاندان اجڑ گئے،عورتیں مرد، بچے بوڑھے دولت کے پجاریوں کی اندھی لالچ کا شکار ہوتے رہے ہیں۔یہ کوئی راز نہیں کہ اس مکروہ کاروبار میں وہ تمام ادارے اپنی تجوریاں بھرنے میں دن رات مصروف رہے جن کی ذمہ داری تھی کہ اس غیر قانونی دھندے کو روکیں۔اب کہا جارہا ہے کہ اسمگلنگ کی وجہ سے گزشتہ مالی سال(یکم جولائی سے 30جون تک)پاکستان کو 500ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔اسمگل ہونے والی اشیاء میں موبائل آئٹمز سر فہرست ہیں جبکہ پیٹرولیم مصنوعات دوسرے نمبر پر ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف ان دو مدات میں 144ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔یہ نقصان ایسے وقت میں پہنچا ہے جب پاکستان کو ایک ایک ڈالر کی اشد ضرورت ہے۔دوست عرب ممالک نے بھی اپنی کورونا کے باعث پیدا شدہ مالی مشکلات اور دیگر سیاسی وجوہات کی بنیاد پر 3ارب ڈالر قرضہ اچانک واپس مانگ لیا ہے اسکے علاوہ ادھار پیٹرول دینے کی سہولت بھی ختم کر دی ہے۔ان حالات میں اسمگلنگ جاری رکھنا معاشی خود کشی کے مترادف ہے۔ لیکن اسمگلنگ کو جن اداروں کی سرپرستی حاصل ہے ان کے لئے یہ کاروبار ہے اور برسوں سے ایک منفعت بخش کاروبار بنا ہوا ہے انہیں ملک اور عوام کی اقتصادی مشکلات نظر نہیں آتیں۔دوسری طرف ٹرانسپورٹرز، تاجر برادری،اور مختلف سیاسی وسماجی رہنماء سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل کی(اسمگلنگ)کی بندش سے 25لاکھ سے زائد افراد بیروزگار ہو گئے ہیں۔انہوں نے حکومت کوپابندی ہٹانے کے لئے تین دن کا الٹی میٹم دیا ہے، اگر اس دوران ایران سے تیل کی اسمگلنگ بحال نہ کی گئی تو بلوچستان بھر کی شاہراہیں بند کر دی جائیں گی۔پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی۔گڈز ٹرانسپوٹرز کو اپنی گاڑیا ں نہ نکالنے اور تاجر برادری کو (الٹی میٹم کی مدت ختم ہونے کے بعد) محتاط رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اب راستے دو ہیں یا تو حکومت 25 لاکھ افراد کو فوری طور پر متبادل روزگار فراہم کرے بصورت دیگر ایرانی تیل کی اسمگلنگ حسب سابق بحال کرے۔اس قلیل مدت میں روزگار کی فراہمی ممکن نہیں، اب دیکھیں کہ حکومت کون سا راستہ اختیار کرنا پسند کرے گی؟پی ڈی ایم پہلے ہی ریلیاں نکال رہی ہے، جلسے منعقد کر رہی ہے۔اگر حکومت نے کئی دہائیوں سے جاری سرگرمی کے خاتمہ کے لئے طاقت کے ذریعے کوئی عاجلانہ فیصلہ کیا تو امن و امان کی صورت حال بگڑنے کے امکانات موجود ہیں۔ معاملات سدھرنے کی بجائے مزید خراب ہونے کی طرف جائیں گے۔البتہ ایک راستہ اور بھی کھل سکتا ہے ایران سے تجارتی معاہدوں پر عمل شروع کیا جائے، گیس پائپ لائن کا معاہدہ پاکستان کی بزدلی یا مصلحت پسندی کی وجہ سے گزشتہ 7،8 سال سے تعطل کا شکار ہے،ایران پر سے امریکی پابندیاں ایک عالمی معاہدے کے تحت ختم ہونے کا فائدہ اٹھایا جا سکتا تھا، مگر ہمارے حکمران پاکستان کی سرحد پر دستیاب،ہمسایہ ملک سے قدرتی گیس لانے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے،تاجکستان سے منگوانے میں مصروف رہے۔صرف اپنے ملک میں پائپ لائن بچھانی تھی،پہلے نون لیگ نے ٹال مٹول کی،پھر پی ٹی آئی نے بھی خاموشی اختیار کر لی،مسئلہ اپنی جگہ قائم رہا۔بہر حال جوں جوں وقت گزرے گا خطے میں مثبت تبدیلی کے امکانات روشن ہوتے جائیں گے۔ جو بائیڈن 14دن بعد حلف اٹھائیں گے،کچھ دماغ کورونا نے ٹھیک کر دیا ہے،جو کسر رہ گئی ہے معیشت کام دکھائے گی۔ امریکہ دنیا کی چوہدراہٹ کے خبط سے کسی حد تک باہر نکلے آئے گا۔پاکستان رویوں کی بین المملکتی تبدیلی سے استفادہ کر ے تو ایران سے تجارتی روابط میں خاطر خوا اضافہ ممکن ہے۔اگر مان لیا جائے کہ عالمی پابندیاں پاک۔ایران تعلقات میں رکاوٹ تھیں تب بھی اسمگلنگ نے اس خلیج کوکافی حد تک پر کیا ہوا تھا۔زائرین کی ایک بہت بڑی تعداد سارا سال آمد و رفت کا سلسلہ جاری رکھتی ہے۔بارڈر کے دونوں جانب مشترکہ بلوچ خاندان آباد ہیں۔دوہری شہریت بھی حاصل ہے۔بجلی کی ضرورت باآسانی پوری کی جا سکتی تھی۔ لیکن سچی بات ہے ادھرتوجہ کی کمی رہی۔حکمران ادھر دیکھنا نہیں چاہتے۔اگر صرف پیٹرول کی اسمگلنگ سے 25لاکھ افراد کوروزگار ملتا ہے تویہ حقیقت سمجھنے میں کسی کو کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے کہ دونوں ملک باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لئے بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ایران شنگھائی کانفرنس کامبصر بھی ہے۔توقع کی جاتی ہے کہ جلد ہی اسے رکنیت مل جائے گی۔لیکن پاکستان کواپنے مسائل کوحل کرنے کی فوری ضرورت ہے،بیروزگاری ایک عذاب ہے۔حکومت کے پاس غفلت برتنے یا سستی دکھانے کا وقت نہیں۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے چند روز پہلے وفاق اور شاید صوبے میں ملازمتیں بڑھانے کی بات کی تھی مگر اس سمت میں کوئی پیش رفت نہیں دیکھنے میں آئی۔پیٹرول کی اچانک شدید کمی پیدا ہونا شروع ہوگئی ہے۔حکومت نے مناسب منصوبہ بندی کے بغیر ہی اسمگلنگ کے خاتمہ کا اتنا بڑا فیصلہ کرلیا ہے۔اس کے اثرات کا جائزہ نہیں لیا۔ایسے نیم حکیمانہ اور نیم دلانہ فیصلے حکومت کے لئے آسانیاں نہیں لایا کرتے۔اسمگلنگ روکی جائے اس میں دورائے نہیں ہو سکتیں، مگر روزگار اور اشیاء کی ضرورت کو نظر انداز کرنے کی حمایت بھی آسان نہیں۔ٹرانسپورٹرز، تاجر برادری، سماجی اور سیاسی رہنماؤں سے مشاورت کی جائے۔انہیں اعتماد میں لیا جائے۔اسمگلنگ کسی ملک کے مفاد میں نہیں،لیکن قانونی راستے کی طرف بڑھنے سے مسلسل انکار کوئی دانشمندانی حکمت عملی نہیں۔امریکی دوستی سے زیادہ عوام دوستی کو ترجیح دی جائے۔جرأت مندانہ اقدامات اور فیصلے درکار ہیں۔احتجاجی حلقوں نے تین دن کا الٹی میٹم دیا ہے جو تیزی سے ختم ہورہا ہے۔متبادل راستہ نکالا جائے۔تصادم سے بچنے اور باہمی مفاہمت کاراستہ تلاش کیا جائے۔ایرانی پیٹرول صرف روزگار فراہم نہیں کرتا علاقے کے عوام کی روزمرہ ضرورت بھی پوری کرتاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں