پی ٹی آئی کی تمام فنڈنگ قانونی ہے،عمران خان
اسلام آباد (انتخاب نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی تمام فنڈنگ قانونی ہے اور ریکارڈ پر ہے مجھے اگر فارن فنڈنگ کیس سے خوف ہوتا تواوپن سماعت کانہیں کہتا، یہ آج آجائیں دودھ کادودھ پانی کاپانی ہوجائیگا۔ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وزیرستان پہلے قبائلی علاقہ تھا اب پختونخواکاحصہ بن گیاہے، وزیرستان بہت پیچھے رہ گیا تھا اب انشااللہ یہاں ترقی ہو گی، وزیرستان کیلئے اسپیشل پیکج دے رہے ہیں، 2 سے3 سالوں میں وزیرستان کے لوگوں کوتبدیلی نظر آئے گی۔ وزیراعظم نے اس موقف کو دہرایا کہ اپوزیشن فارن فنڈنگ کیس کہیں بھی لے کر جائے اوپن سماعت ہونی چاہئے، پی ٹی آئی کی تمام فنڈنگ قانونی ہے اور ریکارڈ پر ہے مجھے اگرفارن فنڈنگ کیس سے خوف ہوتاتواوپن سماعت کانہیں کہتا، پرانا الیکشن کمشنر اپوزیشن کا لگایا ہوا تھا وہ پی ٹی آئی کاسب سے بڑا دشمن تھا وہ جاکرہمارے خلاف گیم کررہے تھے، اس وجہ سے فارن فنڈنگ کیس میں تاخیرہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کیخلاف فارن فنڈنگ کیس بدنیتی پرمبنی تھا آج الیکشن کمشنرپرہمیں اعتماد ہے ایک آدمی جو پی ٹی آئی کادشمن تھاوہ کیس لے کر آ رہا ہے، فارن فنڈنگ کیس میں یہ آج آجائیں دودھ کادودھ پانی کاپانی ہو جائیگا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انکوائری کمیٹی فیصلہ کریگی کہ براڈشیٹ کامعاملہ کیسے حل کیاجائے، برادشیٹ کے معاملے پر ہمارا کوئی لینا دینا نہیں، مشرف نے این آراو دیا تھا، پاکستانیوں کے چوری کے اربوں ڈالرباہرپڑے ہیں، پیمنٹ اگر نہیں کرتے تو روزانہ 5ہزار پاؤنڈ سود دینا پڑتا، جب روپیہ گرا تھا تو مہنگائی توہونی تھی۔ قرضوں اور مہنگائی سے متعلق وزیراعظم نے بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتیں اوپرجاتی ہیں توبڑھانی پڑتی ہیں، پٹرول کی قیمتیں نہیں بڑھائیں گے تو خزانے پربوجھ پڑے گا، پاکستان پرسارابوجھ گزشتہ حکومتوں کا چڑھایا ہوا ہے، بدقسمتی کیساتھ ہمیں قیمتیں بڑھانی پڑتی ہیں، ہماری پارٹی کی ساری فارن فنڈنگ لیگل ہے تمام شواہد موجود ہیں، فارن فنڈنگ کیس کی تاخیرمیں دیگرعوامل کارفرماتھے، فارن فنڈنگ کیس کی کارروائی اوپن ہونی چاہیئے تاکہ ان لوگوں کے چہرے عیاں ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے واضح کیا کہ ایک شخص سامنے آیاہے جوکہتاہے اس نے800ملین کے قریب اثاثے ریکور کیے مجھے ظفرعلی ملااس نے یہ نہیں کہا وہ براڈ شیٹ کانمائندہ ہے، ملک پرمزیدقرضے نہیں چڑھا سکتے اس لئیبجلی کی قیمت میں اضافہ کیاہے، براڈشیٹ معاملے پر انکوائری کمیٹی فیصلہ کریگی۔ وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت بنیادی اشیائے ضروریہ خصوصاً گندم اور چینی کی دستیابی اور قیمتوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس، وفاقی وزراء مخدوم خسرو بختیار، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، سینیٹر شبلی فراز، سید علی حیدر زیدی، سید فخر امام، علی امین گنڈا پور، مشیر وزیراعظم ڈاکٹر عشرت حسین، معاونین خصوصی محمد عثمان ڈار، ڈاکٹر ثانیہ نشتر، ایم ڈی یوٹیلیٹی اسٹورز اور سینئر افسران شریک۔ صوبائی وزیر خوراک عبدالعلیم خان، مشیر وزیر اعلی پنجاب ڈاکٹر سلمان شاہ، صوبائی چیف سیکرٹری صاحبان کی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت۔وزیر خزانہ نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ گزشتہ سات ہفتوں کے حساس قیمتوں کے اعشاریے کی روشنی میں پیاز، ٹماٹر اور مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔ آئندہ کچھ ہفتوں میں ویجیٹیبل گھی کی قیمتوں میں بھی کمی آنا شروع ہو جائے گی۔اجلاس کو گندم کی ریلیز کے حوالے سے اقدامات پر بھی آگاہ کیا گیا۔ شرکاء کو چینی کی درآمد کے حوالے سے ای سی سی کے فیصلے اور اس کے چینی کی قیمت میں کمی پر اثر ات پر بھی آگاہ کیا گیا۔وزیراعظم عمران خان نے رمضان المبارک میں عوام کو اشیائے خوردونوش کی بلا تعطل اور کم نرخوں پر دستیابی کے حوالے سے تیاری اور بروقت اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ رمضان المبارک کی آمد سے پہلے عام آدمی کو اشیائے ضرور یہ کی دستیابی اور قیمتوں میں کمی کو یقینی بنایا جائے اجلاس کو آئندہ سال گندم کی پیداوار کی فورکاسٹ اور ضرورت کے مطابق درآمد کی تیاری کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ حکومت کے گندم کی درآمد کے فیصلے کی بدولت مارکیٹ میں استحکام آیا ہے۔ اجلاس میں اشیائے ضرور یہ، خصوصا گندم اور چینی کی قیمتوں میں استحکام کے حوالے سے پیداوار میں اضافے پر توجہ مرکوز رکھنے اور اس ضمن میں صوبوں کو پیداوار میں اضافے کی غرض سے اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ وزیراعظم نے ملکی آبادی کی خوراک کی ضروریات کے پیش نظر پیداوار میں اضافے کے حوالے سے ایک جامع اور موثر پلان مرتب کرنے کی ہدایت کی تاکہ فوڈ سیکیورٹی کے روڈمیپ پر عملدرآمد کے زریعے جہاں ملک خوراک کی ضروریات میں خود کفیل ہو سکے وہیں درآمدات پر آنے والے اخراجات میں کمی لا ئی جائے۔وزیراعظم نے یوٹیلٹی اسٹورز پر اشیائے ضرور یہ کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنانے اور رمضان المبارک تک قیمتوں کے حوالے سے مانیٹرنگ پر مسلسل آگاہ رکھنے کی ہدایت کی۔


