بلوچستان کامسئلہ لاپتہ افراد سے منسلک، اس ملک کا قانون اندھا اور بہرہ ہے، اخترمینگل
کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اخترمینگل نے کہا ہے کہ جب تک حکمران، سیاستدان اور فوج لاپتہ افراد کا مسئلہ حل نہیں کرتے، ہم عدالتوں میں گئے، پارلیمنٹ میں آواز اٹھائی، اسکا حل ہم نے تحریری شکل میں دی اس کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہوا، پھر بھی غدار میں ہوں، لاپتہ افراد کا مسئلہ میرے دل سے بہت قریب ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کیا، انہو ں کہا ہے کہ میں نے پاکستان میں ہر پلیٹ فارم پر اس مسئلے پر آواز اٹھائی لیکن مجھے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا، پاکستان کا سب سے پہلا لاپتہ شخص میرا بڑا بھائی اسد اللہ مینگل تھا، چار دہائیاں گزر چکی ہیں لیکن ابھی تک ہم نہیں جانتے کہ اس کی قبر ہے یا اسے کیوں ماراگیا، کیا اس ملک کا شہری ہونے کے باوجود مجھے یہ بھی حق نہیں کہ میں اپنے بھائی کی گمشدگی کے بارے میں پوچھ سکوں، میرے بھائی ایسے بہت ہیں جن کو انہی اذیتوں سے گزرنا پڑا ہے،دل دہلانے والی ایسی بہت سی کہانیاں ہیں جن کوپاکستان میں کوئی اہمیت نہیں دی جاتی ہے اور نہیں ان سے حاکموں کے دل میں رحم پیدا ہوتا ہے،درد کو سمجھنے کیلئے آپ کو درد سے گزرنا پڑتا ہے، مجھ سے میرے دوستوں نے کئی بار مجھ سے یہ سوال کیا ہے کہ عمران خان آپ کی وجہ سے اقتدار میں آیا ہے، اسے اقتدار چاہییے تھا، میں نے ان کے سامنے لاپتہ افراد سمیت اپنے چھ نقاط رکھ دیا تھا، بلوچستان کا مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہوسکتا جب تک حکمران، سیاستدان اور فوج لاپتہ افراد کا مسئلہ حل نہیں کرتے، ہم عدالتوں میں گئے، پارلیمنٹ میں آواز اٹھائی، اسکا حل ہم نے تحریری شکل میں دی اس کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہوا، پھر بھی غدار میں ہوں، ایک اور ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ سنا تھا کہ قانون اندھا ہوتا ہے،لیکن لاپتہ افراد کے معاملے میں اس ملک کا قانون اندھا ہونے کے ساتھ ساتھ بہرہ بھی ہے، بلوچستان کے مسئلے کا حل لاپتہ افراد سے منسلک ہے، ان کو رہا کیا جائے یا انہیں عدالتوں میں پیش کیاجائے، کوئی بھی قانون اجازت نہیں دیتا کہ کسی کو اٹھایاجائے او ر ان کی لاش کو پھینکا جائے کیا جائے۔ اگرکوئی بھی قانون لوگوں کو اٹھانا اور ان کی لاش پھینکنے کی اجازت دیتا ہے تو میں درخواست کرتا ہوں کہ ایک قانون بنایا جائے اور اس کو آئین کا حصہ بنایا جائے تاکہ ہم انصاف مانگنے کا مطالبہ ترک کردیں


