یوسف رضا گیلانی جیت گئے

پا کستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے امیداریوسف رضا گیلانی 169ووٹ لے کو جیت گئے جبکہ ان کے مد مقابل حکومتی امیدوار عبدالحفیظ شیخ۔۔165 ووٹ لے سکے اور متوقع جیت سے محروم ہوگئے ہیں۔جبکہ 7ووٹ مسترد ہوئے جن میں شہر یارآفریدی کا ووٹ بھی شامل ہے۔ حکومت کو اس اپ سیٹ سے نفسیاتی طور پر بہت بڑا دھچکا لگا ہے۔سیاسی مبصرین کی اکثریت کے لئے یہ نتیجہ حددرجہ غیر متوقع ہے۔ اس کی وجوہات ایک سے زائد ہیں: پہلی وجہ یہ ہے کہ سینیٹ کے 3مارچ کو منعقد ہونے والے انتخاب میں corrupt practicesکو رکوانے کے اوپن رائے شماری اور خفیہ رائے شماری کے بارے آئینی تشریح کی پیٹیشن زیر سماعت تھی۔اس دوران معزز ججز کے ریمارکس سے یہی اندازہ لگایا جارہا تھا کہ فیصلہ جو بھی آئے corrupt practicesکی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ دوسری وجہ پنجاب اسمبلی میں تین پارٹیوں نے باہمی مشاورت سے سیٹوں کا فیصلہ کرلیااور جس تناسب سے پارٹی کے اراکین کی تعداد تھی، اسی تناسب سے سینیٹرز ہر پارٹی کو مل گئے۔پی ٹی آئی اور نون لیگ کے اراکین اسمبلی تقریباً برابر تھے اس لئے دونوں کو 5،5سیٹیں مل گئیں اور ایک سیٹ قاف لیگ کو ملی جو تیسرے نمبرپر تھی۔نون لیگ کی نائب صدر مریم نواز بھی ہکا بکا رہ گئیں، صحافی کے سوال پر کچھ دیر خاموشی اختیار کی اور پھر جواب دیا:”سینیٹ کے انتخابات بارے میں کچھ نہ کہوں تو بہتر ہے“۔ اور اس کے بعد سے ان کا ٹویٹر بھی خاموش ہے۔گویا انہیں علم ہو گیا ہے کہ وہ جس خوش فہمی کاشکار تھیں، اب انہیں اس کے برعکس سیاسی حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔جبکہ تیسری وجہ یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی حیدر گیلانی کی پی ٹی آئی کے چار ایم این ایز کی ویڈیو کا وائرل ہوناتھی جس میں علی حیدر گیلانی مذکورہ ایم این ایز کو سمجھاتے دیکھے گئے کہ انہوں نے ووٹ ضائع کرنے کے لئے کیا کرناہے؟اور دیگرامور کے لئے انہیں پی پی پی سندھ کے رہنماناصر حسین شاہ سے رابطے کی ہدایت کی گئی۔وہ اس منصوبے کوامیدوار کا بیٹاہونے کی حیثیت سے اپناقانونی حق سمجھتے ہیں، یہ اعلان انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ان کے والد(یوسف رضا گیلانی) کی رائے بھی اپنے صاحبزادے کی رائے سے ملتی جلتی ہے۔الیکشن کمیشن نے اس اقدام کا نوٹس لے لیاہے۔ادھر سپریم کورٹ نے یکم مارچ کواپنے مختصر فیصلے میں یہ اشارہ دے دیا ہے کہ”خفیہ ووٹنگ ہمیشہ کے لئے نہیں“۔اس واضح اشارے کے بعد یوسف رضا گیلانی کی جیت ایک بہت بڑا سرپرائز ہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ عبدالحفیظ شیخ نے یوسف رضا گیلانی کو گلے لگا کر مبارکباد دی ہے اور ان کی پیٹھ تھپک کر کر خوشی کااظہار بھی کیاہے۔حکومت نے اس سرپرائز کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے ووٹ آف نوکانفیڈنس لانے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔چنانچہ پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد ہی معلوم ہو گا کہ اپوزیشن لانگ مارچ کا اعلان کرتی ہے تو حکومت کے لئے سب اچھا ہے والا معاملہ نہیں رہے گا۔ امن و امان کا بڑا مسئلہ پیدا نہ ہو تب بھی لانگ مارچ اپنی جگہ بے سکونی اور بے چینی اپنے ساتھ لاتا ہے۔حکومت گھر جائے یا نہ جائے، مگر معاشی سرگرمیاں متأثر ہوتی ہیں،بیرون ملک سے سرمایہ کاری بھی رک جاتی ہے۔چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے یوسف رضا گیلانی کی جیت پر اپنی والدہ شہید بینظیر بھٹو کا لازوال تبصرہ ٹوئیٹ کیا ہے:
”جمہوریت بہترین انتقام ہے“
مگر جمہوریت بے چاری خوداپنے مسائل میں گھری ہوئی ہے۔ جمہوریت امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی آئیڈیل نظر نہیں آتی۔ حالانکہ امریکی دستور1787میں منظور ہوا تھااور 234سال میں ایک بار بھی امریکہ میں مارشل لاء نہیں لگایاگیا۔لیکن وہاں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یہاں سابق وزیر اعظم نے اداروں پر حملوں کی روایت کو متعارف کرایا ہوا ہے۔نعرے بھی ”مجھے کیوں نکالا“ جیسی یکسانیت رکھتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ بھی 3.1ٹریلین کا بجٹ خسارہ چھوڑ کر گئے ہیں۔پاکستانی معیشت کا حال بھی اس سے مختلف نہیں۔جمہوریت سیاسی عمل کی ایک شکل ہے۔یہبدترین ہو تب بھی سیانے اسی کو جاری رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔اچھی آمریت کسی کو پسند نہیں، پاکستان میں اسے بار بار رسواہونا پڑا ہے۔آخری آمر بیرون ملک اپنی زندگی کے آخری ایام پورے کر رہا ہے۔بہر حال پاکستان میں جمہوری عمل دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہا ہے۔پی ٹی آئی کی حکومت اگر اپنی آئینی مدت پوری کرنے میں کامیاب ہوگئی تو یہی سمجھا جائے گا کہ اب جمہوری عمل جاری رہے گا،اسے گھر بھیجنے کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کی غلطی نہیں دہرائی جائے گی۔ یوسف رضا گیلانی کی جیت کے اس نتیجے سے سب سے بڑا صدمہ وزیرداخلہ شیخ رشید احمد کو پہنچا ہے، ان کی ساری پیش گوئیاں، سارے بڑے بڑے دعوے غلط ثابت ہوئے،ان کاطالب علمی کے زمانے میں جیل جانے سے شروع ہونے والا طویل سیاسی تجربہ کسی کام نہیں آیا۔ عبدالحفیظ شیخ اپنی ہار تسلیم کرچکے ہیں۔ جمہوریت اسی کا نام ہے۔میں نہ مانوں کی ضد غیر جمہوری رویہ ہے۔یوسف رضا گیلانی صلح پسند شخصیت ہیں۔ سب کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔اب گیند وزیر اعظم عمران کے کورٹ میں ہے، دیکھیں وہ قومی اسمبلی کے اس فیصلے پر کیسا رد عمل ظاہر کرتے ہیں؟خوشدلی سے قبول کرتے ہیں یا اپنی پرانی روش برقرار رکھتے ہیں؟صورت حال ایک دودن میں واضح ہو جائے گی۔حالات کا تقاضہ ہے کہ حکومت سوچے کہ جذباتی رویہ پر نظر ثانی کی ضرورت ہے؟دانشمندی سے کام لیا جائے۔اپنی سیاسی حکمت عملی پر کمپرومائز کئے بغیر بھی کوئی راستہ نکالا جائے تاکہ ملکی مفادات کوآگے بڑھانا ممکن ہو سکے۔ابھی اپوزیشن اپنی جیت پر خوش اور پرجوش ہے۔دوچار دن میں ملکی مسائل کی اہمیت اپنا آپ منوائے گی۔ سنجیدگی اور متانت کا فقدان ہے،یہی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔اپوزیشن اور حکومت دونوں کو اپنا رویہ ممکنہ حد تک درست کرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں