نیا عمرانی معاہدہ اورنازک مزاج اتحاد

11جماعتی ’پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ‘(پی ڈی ایم)21جولائی2020کو انتہائی عجلت میں تشکیل پایاکہ عام آدمی اس کی ضرورت اور افادیت سے آگاہ نہ ہو سکا۔اپنے 26نکات کے ساتھ منشور بھی ملک کے سنجیدہ مبصرین کے لئے پرکشش دستاویز نہیں بنا،لیکن اپنے نام کی بناء پر گزشتہ چار دہائیوں میں تشکیل پانے والے اتحادوں سے قدرے مختلف محسوس ہوا۔کچھ امید بندھی کہ آخر کار پاکستان میں بنیادی اور اہم سیاسی سوالوں پر بحث مباحثہ کا آغاز ہوگیا ہے۔لیکن 16 اکتوبر 2020 کو گوجرانوالہ میں منعقدہ پہلے جلسہئ عام میں پی ڈی ایم کی قیادت نے جس انداز میں اپنے26نکاتی منشور کو عوام کے سامنے پیش کیا،وہ کافی حد تک شخصی ناراضگی اور نعرے بازی کے سوا کچھ نہیں تھا۔اس میں 30،35سالہ سیاسی تجربے کی جھلک نظر نہیں آئی۔نیشنل عوامی پارٹی(نیپ) کے رہنما خان عبدالولی خان زندہ ہوتے تو اتنی بڑی تحریک کا اس طرح آغاز نہ ہوتا۔ مقررین تیاری کے ساتھ آتے۔انہیں معلوم ہوتا عوام کو کس طرح مخاطب کرنا ہے؟کیا کہنا ہے؟ اور کیسے کہنا ہے؟نون لیگ اتحاد کی بڑی جماعت تھی، اسے اپنے بڑے پن کا ثبوت دینا تھا۔اس کی اعلیٰ قیادت کو معلوم ہونا چاہیئے تھا کہ عوام کو ایک نئے عمرانی معاہدہ کے لئے ذہنی طور پر کیسے تیار کرنا ہے؟یہ نون لیگ کے کارکنوں کا اجتماع ہر گز نہیں تھا، 11مختلف الخیال، مختلف المزاج،مختلف پس منظر کی حامل بلکہ بوجوہ ایک دوسرے سے شدید نفرت کرنے والی سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کا اجتماع تھا جو کسی مناسب ہوم ورک کے بغیر بلا لئے گئے تھے۔ بھاری بھرکم سیاسی مطالبات کے لئے عوامی حمایت درکار ہوتی ہے۔جس تقریر کو سن کر 11میں سے بیشتر جماعتوں کی قیادت کے چہرے فق ہوجائیں،پہلے جلسے میں کرنا درست نہیں تھا۔نتیجہ سب کے سامنے ہے۔نواز شریف صرف نون لیگ کے جلسوں سے خطاب تک محدود ہو کررہ گئے۔پی پی پی اور نون لیگ کے درمیان پالیسی کا اختلاف بند کمرے میں طے کیا جاتا،اور چند قدم چلنے کے بعد اپنا رخ تبدیل کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔مؤقف کی بار بار تبدیلی عوام کو کسی بڑے عمرانی معاہدے تک لے جانے کی سکت نہیں رکھتی۔بغیر مناسب تیاری کوئی بھی کام کیا جائے،خامیوں کا شکار ہوجاتا ہے۔پی ڈی ایم کی قیادت اپنے قیام سے آج تک کی کارکردگی کا سنجیدگی سے جائزہ لے۔جو غلطیاں ہو چکیں ان سے آئندہ بچنے کی کوشش کی جائے تو یہ ڈھیلا ڈھالا اتحاد بچ سکتا ہے۔مگر اس نازک اتحاد پر اتناہی بوجھ لاداجائے جو اٹھا سکے۔نون لیگ، جے یو آئی اور پشتوخوا ملی عوامی کو سوچنا ہوگا کیا دیگر 8پارٹیاں ان کے ساتھ دور تک چل سکتی ہیں؟اول تو ان کی سیاسی منزل کچھ اور ہے۔ان میں سے بیشتر کے اغراض و مقاصد محدود ہیں۔انہیں ابھی تک عوام میں مناسب پذیرائی بھی نہیں مل سکی۔پی پی پی ملک کی بڑی سیاسی پارٹی ہے۔تمام کمزوریوں کے باوجود پی پی پی نے پی ٹی آئی اور دیگر پارٹیوں کو ضمنی انتخابات میں بری طرح شکست دی ہے۔ پارلیمنٹ میں رہ کر سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ان ہاؤس تبدیلی چاہتی ہے۔پارلیمنٹ تحلیل ہو جائے تو کھیل سیاست دانوں کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ماضی میں ایسا تجربہ مارشل لاء پر منتج ہوتارہا ہے اورایک سے زائد بار ہوا ہے۔پھر سیاسی پارٹیوں کوپارلیمنٹ بحالی کی جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔جیلیں آباد اور پارلیمنٹ کی عمارت ویران ہوجاتی ہے۔پی پی پی کے قائد آصف علی زرداری یہ بات نون لیگ کی اعلیٰ قیادت کو ایک سے زائد بار سمجھا چکے ہیں۔ اگر نون لیگ اس حکمت عملی سے اتفاق نہیں کرتی تو اسے دیکھنا ہوگا کیا مولانا فضل الرحمٰن اور محمود خان اچکزئی انہیں یا ان کی پارٹی کو وفاق میں اقتدار دلا سکتے ہیں؟جو جواب ملے اس کی روشنی میں آئندہ کالائحہ عمل طے کریں۔مریم نواز عملی طور پر جو کر سکتی تھیں پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پرکر چکیں،مینار پاکستان پر نون لیگی کارکن متأثر کن تعداد میں جمع کرنے میں ناکام رہیں۔سینئر لیگی قیادت انہیں اپناقائد تسلیم نہیں کرتی۔ڈونلڈ ٹرمپ بھی اپنی صاحبزادی کو آئندہ صدر بنانا چاہتے تھے، اب اپنی بہوکولانے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔سیاست خواہشات کے تابع نہیں، اس کے تقاضے کچھ اور ہیں۔نواز شریف سمجھداری سے کام لیتے، آپ بیتی کوہوشیاری سے جگ بیتی بنانے کی کوشش کرتے، اس میں وقت لگتا لیکن وہ کامیاب ہوسکتے تھے۔بیماری کا شور مچا کر لند ن تو پہنچ گئے لیکن بیماری کا ہتھیار لندن میں سیاسی ہتھیار نہ بن سکا۔وہاں کا میڈیکل سسٹم اور میڈیا اتنی بڑی تضاد بیانی کو سہارا نہیں دے سکتا۔چنانچہ وہ اپنے مسائل کے دباؤ میں آگئے۔کوئی دیرپا لائحہ عمل ان کے لئے سود مند نہیں تھا۔عجلت میں جو کیا اس کے نتائج ان کے سامنے ہیں۔اگر ٹھنڈے دل سے سوچیں تو انہیں پنجاب ہاؤس سے جاتی امراء پہنچنے تک عوام نے پیغام دے دیاتھا کہ جلد بازی نقصان دہ ہوگی۔مگراپنی صاحبزادی مریم نواز کی جذباتی باتوں آگئے۔ سیاسی تقاضے نظر انداز کر دیئے۔سیاست میں جذبات کی بلندی(یا پستی) عوام کی نبض کے زیر و بم کے مطابق ہوتی ہے۔ دونوں کے درمیان ربط ہوتا ہے۔یہ ربط برقرار نہ رہے تو عوام اورقیادت ساتھ ساتھ نہیں چلتے،ان کے درمیان فاصلے پیداہو جاتے ہیں۔نون لیگی قیادت اس دوری کاتجزیہ کرے۔ کھوج لگائے کہ کس نعرے سے فاصلوں نے جنم لیا؟درست نعرے بھی قبل از وقت عوامی پذیرائی سے محروم رہتے ہیں۔جون،جولائی کے مہینوں میں قیادت عوام کو گرم کوٹ پہننے کی ہدایت دے تو کارکن ایک قہقہہ تو لگا سکتے ہیں، مگر پہن کر جلسہ گاہ کوئی نہیں آئے گا۔قائد کو عوام کے مسائل،
ذہنی سطح، اور فکری سمت کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہونا کافی نہیں،عوام کی رضامندی بھی اہم ہے۔پی ڈی ایم کی قیادت نے نہ تو آپس میں مشاورت کی، نہ ہی عوام کوعمرانی معاہدے کی ا فادیت بارے کچھ سمجھایا، بس ایک خیال آیا کہ محترمہ بینظیر بھٹو نئے عمرانی معاہدے کی بات کرتی تھیں کیوں نہ اسے کیش کرایاجائے۔مگر یہ بھول گئے کہ محترمہ نے یہ مطالبہ کہاں اور کس ماحول میں کیاتھا؟ زمینی مناظر یہ ہیں کہ بڑے بڑے محلات میں رہائش پذیر لیڈر شپ نے عوام سے دوری اختیار کر لی ہے،عوام اور اپنے درمیان اونچی اونچی فصیلیں کھڑی کر لی ہیں۔چند تنخواہ دار ترجمانوں کے سوا ان نعروں کاکوئی حامی نہیں۔عوام کے دل کی دھڑکن سنے بغیر بنائی جانے والی حکمت عملی کامقدر پی ڈی ایم جیسا ہوتا ہے۔ بہتر تیاری کے بغیر بہتر نتائج کی توقع نہ کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں