امریکا میں منہدم عمارت کے ملبے تلے لاپتہ افراد کا اب زندہ بچنا ممکن نہیں، امریکی حکام

واشنگٹن :امریکی ریاست فلوریڈا میں حکام نے کہاہے کہ زمین بوس ہوجانے والی عمارت سے اب بھی 86 افراد لا پتہ ہیں تاہم اب ان کے زندہ بچنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ میامی کے ساحل پر واقع یہ عمارت جون کے اواخر میں منہدم ہو گئی تھی۔ میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی ریاست فلوریڈا کی میامی ڈیڈ کانٹی کے میئر ڈینیئلا لیون نے اعلان کیا کہ ساحل سمندر پر منہدم ہونے والی بارہ منزلہ عمارت کے راحت اور بچاو مہم میں مصروف امدادی کارکنان اور حکام نے مزید کسی فرد کے زندہ بچنے کے امکان باقی نہیں رہنے کی وجہ سے تلاشی مہم ختم کر دی ہے۔ حکام کے مطابق اب اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ لا پتہ افراد میں سے مزید کوئی بھی شخص زندہ بچا ہو گا۔معروف میامی بیچ پر واقع یہ عمارت دو ہفتے قبل زمین بوس ہو گئی تھی جس کے بعد سے اب بھی اسی سے بھی زائد افراد لا پتہ بتائے جار رہے ہیں جبکہ متعدد افراد کی لاشیں بر آمد ہو چکی ہیں۔ شہر کے میئر کا کہنا تھاکہ یہ گہرے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ ہم نے سرچ آپریشن اور امدادی کارروائیوں کو ختم کرنے کا انتہائی مشکل فیصلہ کیا۔امدادی کارکنان نے اب تک اس عمارت کے ملبے کے نیچے سے 45 لاشیں نکالی ہیں۔ میئر ڈینیئلا کا کہنا تھاکہ اس مقام تک پہنچ کر تلاش اور امدادی مشن سے متعلق ہمارے تمام متبادل واقعی ختم ہو چکے ہیں۔حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ جو تمام افراد اب بھی لا پتہ ہیں آیا ان میں سے سب کے سب اس وقت اس عمارت میں موجود تھے یا نہیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ اس بات کے بھی قومی امکانات ہیں کہ جو تمام افراد لا پتہ ہیں اس میں کچھ لوگ کہیں دوسری جگہ موجود ہو سکتے ہیں۔ میامی ڈیڈ فائر ریسکیو سے وابستہ ایک سینیئر اہلکار رے جداللہ نے متاثرین کے اہل خانہ سے بات چیت میں کہا کہ اب اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ عمارت گرنے کے تقریبا تین ہفتوں بعد اس کے ملبے میں پھنسا ہوا کوئی بھی شخص زندہ بچا ہو گا۔اسرائیل اور میکسیکو کے ماہرین نے بھی اس امدادی کارروائی میں بھر پور مدد کی تاہم کسی بھی ٹیم کو ملبے کے نیچے سے کوئی بھی ایک شخص زندہ نہیں مل سکا۔ اسنیفر ڈاگ اوردیگر تکنیکی آلات کی مدد سے بھی ملبے کے نیچے سرچ آپریشن کیا گیا تاہم اس سے بھی کسی بھی شخص کے زندہ ہونے کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ابھی حکام کو یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ آخر اس عمارت کے منہدم ہونے کی وجوہات کیا تھیں۔ تاہم اس پرانی عمارت سے متعلق ایک پرانی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اس کے اندر کا ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ چکا تھا۔ 136 یونٹس پر مشتمل اس 12 منزلہ عمارت کے گرنے کا واقعہ نیم شب کو پیش آیا تھا جب زیادہ تر مکین اپنے اپنے اپارٹمنٹس میں سو رہے تھے۔ تفتیش کار اب تک اس کا تعین نہیں کر سکے کہ اس چالیس سالہ پرانے کمپلیکس کے قریب نصف حصے کے زمین بوس ہو جانے کی اصل وجوہات کیا تھیں۔ اس واقعے کو امریکی تاریخ میں عمارات گرنے کا مہلک ترین واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں