افغان صدراشرف غنی کابل چھوڑ گئے!

گزشتہ روز ہی پاکستانی اور انٹرنیشنل میڈیا پر ایسی اطلاعات کا سلسلہ شروع ہو گیا جن میں یہ دعویٰ شامل تھا کہ امریکہ نے طالبان کی تیز رفتار پیش قدمی کے پیش نظر کسی بڑے نقصان سے بچنے کے لئے افغان صدر اشرف غنی کو مستعفی ہونے کی ہدایت کر دی ہے۔ابتداء میں امریکی تھنک ٹینک یہ سمجھ رہے تھے کہ افغان طالبان کو کابل تک پہنچنے میں کم از کم6ماہ لگ سکتے ہیں۔ان کا خیال تھاافغان فوج کی تربیت نیٹو افواج نے کی ہے،جدید اسلحہ امریکی نے فراہم کیا ہے،اربوں ڈالرخرچ کئے گئے تاکہ ایک ایسی مثالی فوج بن سکے۔ امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے بعداو قابل ہو چکی ہے کہ افغان طالبان کو ٹف ٹائم دے اور طویل عرصے تک مزاحمت کرسکتی ہے۔لیکن عملاً تمام اندازے غلط ثابت ہوئے۔افغان طالبان کی تیز رفتار پیش رفت دیکھتے ہوئے کابل پہنچنے کی مدت تین ماہ(90روز)کر دی۔بیشترپاکستانی مبصرین بھی اسی خیال کے حامی تھے۔یہ کہنا مناسب ہوگا کہ سب افغانستان کی صورت حال کو ابھی تک ملا عمر والے دور کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ انہیں 20سالہ امریکی۔ نیٹو افواج سے جنگ کے دوران روس، چین، ترکی اور ایران سے ملنے والی سیاسی، اخلاقی،مالی اور ذہنی سائیکو تھریپی اور امداد کو سرے سے شمار نہیں کیا۔پاکستان نے بھی دامے، درمے،قدمے اور سخنے افغان طالبان کے ساتھ کھڑا رہنے کی کوشش کی۔یہی وجہ کہ امریکہ اپنی رنجش کے اظہار کے باوجودوقفے وقفے سے پاکستان کی تعریف بھی کرتارہا ہے۔جبکہ پاکستان کی جانب سے اس عمل کے لئے ’سہولت کاری‘ کا خوبصورت نام دیا۔ اس بار پاکستان نے محتاط انداز میں اپنا کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے ثمرات سمیٹنا پاکستان کا حق ہے۔پاکستان کے خلاف کی جانے والی منفی کوششیں آج ناکام نظر آتی ہیں۔جن سیاست دانوں کا تجزیہ یہ تھا کہ بھارت برصغیر کی ایک ابھرتی ہوئی معاشی قوت ہونے کے سبب بہت جلد چین کے مدمقابل ایک متبادل قوت بننے جا رہا ہے۔ امریکہ کا تزویراتی پارٹنر ہونے کے باعث یہ تصور زیادہ غلط بھی نہیں تھا۔مگر جیسے ہی بھارت نے 5 اگست 2019 کو ایک آئین ترمیم کے ذریعے، دہلی کے زیر انتظام علاقہ قرار دے دیا تو چین نے ایک سال بعد اپنی فوجیں متنازعہ لداخ میں داخل کردیں۔بھارت کو اس رد عمل کی توقع نہیں تھی،چنانچہ اپنے اعلان کے مطابق ”چین میں گھس کر ماریں گے“ کے برعکس اپنی حدود میں بھی کچھ نہیں کر سکا۔ چین کے مدمقابل اس ناکامی سے بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچا،اور مستقبل قریب میں مزید پردے اٹھنے کے بعد اصل حقائق سامنے آئیں گے۔ بظاہر یہی لگتا ہے کہ اس کھیل میں بھارت کو کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔اب بھارت سرکار بھی مانے یا نہ مانے،سچ یہی ہے کہ اس نے غلط مفروضوں پر مہم جوئی کی تھی۔اور آج افغانستان میں امریکہ کی خفت آمیز شکست کے بعد بھارت امریکی مفادات کی جنگ لڑنے کے قابل نہیں رہا۔ امریکی حکمران ابھی ورطہئ حیرت میں ہیں،پے درپے ملنے والے صدمات کے باعث ذہنی طورپر ماؤف ہو چکے ہیں۔کابل کاہاتھ سے نکلنا امریکہ کے لئے بہت بڑا صدمہ ہے، ابھی تو 31اگست میں دو ہفتے باقی ہیں، امریکی افواج کا انخلاء بھی مکمل نہیں ہوااور کابل میں امریکی حمایت یافتہ حکومت ختم ہو گئی۔ ایک ٹریلین ڈالر(ایک ہزار ارب ڈالر) کی سرمایہ کاری راکھ کا ڈھیر بن گئی۔یہ معمولی مالی نقصان نہیں، پاکستان پر غیر ملکی قرض(2020میں)106ارب ڈالر تھا، ابھی تک چیخیں سنائی دے رہی ہیں، امریکہ نے صرف چین کا قرض 3000ارب ڈالر دینا ہے، قرضہ جی ڈی پی کا 97فیصد ہے، جبکہ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ یہ تناسب 60فیصد سے کم رہنا چاہیئے۔یاد رہے چار دہائیاں پہلے روس ایٹمی قوت ہونے کے باوجو افغانستان میں مہم جوئی کا بوجھ برداشت نہیں کر سکا،امریکہ کیسے برداشت کرے گا اس کا علم مستقبل قریب میں ہوجائے گا۔ فی الحال یہی کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ کے ستارے گردش میں آگئے ہیں۔اگر امریکی مقتدرحلقے 1945والی حکمت عملی کو جاری رکھنے کی ضد کریں گے تو سمجھ جائیں کہ اس غلطی کے نتائج سامنے آنے میں اتنا وقت بھی نہیں لگے گا جتنا کہ امریکی افواج کے انخلاء کے بعد افغان طالبان نے کابل پہنچنے میں لگایا۔ تاریخ اس انہدام کو رومن اور پرشین ایمپائر کے انہدام کے بعد تیسرا بڑا واقعہ قراردے گی۔اس کے علاوہ یہ بھی نہ بھلایا جائے کہ جو بائیڈن حکومت کو 3.1ٹریلین بجٹ خسارہ ڈونلڈ ٹرمپ حکومت کی طرف سے ورثے میں ملا ہے۔امریکی حکومت کے پاس مزید کسی غلطی کی گنجائش نہیں۔ابکہنیکو مذاکرات ہوں گے لیکن درحقیقت طالبان کی ڈکٹیٹ کی گئی شرائط کو مناسب الفاظ اور جملوں میں ڈھال کر ہارا ہوا فریق اپنے دستخط ثبت کرے گا۔دیگر ملکوں کے نمائندے تالیاں بجا کر اس کارروائی کا خیرمقدم کریں گے۔غلطی امریکہ سے سرزد ہوئی، یہ شکست بھی امریکی تھنک ٹینک کو قبول کرنی چاہیئے۔جو لوگ افغانستان کے مستقل کے حوالے سے پریشان ہیں انہیں چاہیئے کہ وہ حقیقت پسندانہ رویہ اپنائیں،بیس سالہ جنگ کے دوران جس ملک نے امریکہ کا جتناساتھ دیا اسے اسی قدر نقصان برداشت کرنا ہوگا،اورجو ملک مشکل وقت میں افغان طالبان کے ساتھ رہے وہ سر اٹھا کر چلنے کا حق رکھتے ہیں۔ یہ میدان میں دکھائی جانے والی کار کردگی کا صلہ ہے۔آخری اطلاعات کے مطابق اشرف غنی مستعفی ہو گئے ہیں۔کابل کا مکمل انتظام افغان طالبان نے سنبھال لیا ہے۔امریکی سفارت خانے کے اہلکاروں نے اہم ریکارڈ جلا دیا ہے، سفارت خانے سے اٹھتا ہوا دھواں اس کاثبوت ہے۔پاکستان حکومت نے ایک بار پھر کہا ہے کہ افغانستان میں امن کا قیام پاکستان کی خواہش ہے۔افغان عوام اپنے معاملات اپنی مرضیاور مشاورت سے طے کریں۔باہر سے ان پر مرضی تھوپنے کی کوشش نہ کی جائے۔سیاسی مسائل فوجی اسٹائل میں حل نہیں کئے جا سکتے۔افغانستان میں پائیدار امن اس خطے کی بنیادی ضرورت ہے۔20سالہ طویل جنگ کا خاتمہ خوش آئند اقدام ہے اور اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔اس خطے میں آباد عوام کو سکھ کاسانس لینا نصیب ہوگا۔ترقی اور خوشحالی عوام کا مقدر بنے گی۔امریکی تھنک ٹینک اپنی ناکامی کے اسباب تلاش کریں،الزام تراشی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔توقع کی جانی چاہیئے کہ اس بار افغان طالبان پچھلے دور کی غلطیوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔عالمی قوانین کا احترام کیا جائے گا۔مہذب رویہ اختیار کرنے میں ہی عوام سکون محسوس کریں گے۔عوام نے 20برس میں بہت دکھ جھیلے ہیں،اب امن و آشتی ان کا حق ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں