نون لیگ کا قومی اسمبلی میں احتجاج

اگلے روز قومی اسمبلی میں نون لیگ کے اہم رہنما اور سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے دھواں دھار خطاب کیا اور اسپیکر کی توجہ بعض آئینی اداروں کی طرف سے روا رکھی جانے والی اراکین ِاسمبلی کے وقار کی بے توقیری کی جانب مبذول کراتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اب یہ سلسلہ رکوایا جانا چاہیئے۔ جو ہو چکا، بہت ہوگیا، اسے کافی سمجھا جائے۔لیکن انہوں نے حکومتی وضاحت سننے کی زحمت گوارا نہیں کی، اپنے خطاب کے فوراً بعد اپنی پارٹی ارکان کے ہمراہ واک آؤٹ کر گئے۔اگر ان کے الزام میں صداقت ہے(اور صداقت لازماً ہونی چاہیئے، اس لئے کہ انہوں نے کسی گلی کوچے میں عام مجمع سے خطاب نہیں کیا،بلکہ ایوان کے معزز فلور پر ”جنابِ اسپیکر!“ کہہ کر ا پنا مدعا بیان کیا۔وہ پرانے پالیمنٹیرین اور اہم وزارتوں کے انچارج رہ چکے ہیں۔دوسرے کسی بھی رکن اسمبلی کی نسبت زیادہ اور بہتر طور پر جانتے ہیں کہ ایوان کے معزز فلور پر جھوٹ بولنا پارلیمانی اخلاقیات اور جمہوری روایات کے منافی ہے۔ عام آدمی کو ان کے معزز ایوان میں دیئے گئے جذباتی ریمارکس؛۔۔۔”کچھ شرم ہونی چاہیئے، کچھ حیا ہونی چاہیئے!“،۔۔۔ آج بھی یاد ہیں۔خواجہ آصف کی شکایت کا ماخذ پاکستانی اخبار میں چھپی ہوئی ایک خبر ہے جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے متعلقہ صحافی، نیوز ایڈیٹر اور اخبار کے مالک کوتوہینِ عدالت کا نوٹس جاری کر رکھا ہے اس لئے معاملہ زیر سماعت ہے،اس پر کچھ کہنا مناسب نہیں، شکایت کنندہ عدالت جا کر اپنا بیان دے سکتے ہیں، مؤقف بیان کرسکتے ہیں۔انہیں عدالت جانا چاہیئے کہ ان کے جذبات و احساسات عدالت کے ریکارڈ پر آجائیں، عدالت اسمبلی میں کی جانے والی کسی تقریر پر مقدمہ قائم نہیں کر سکتی۔اراکین اسمبلی اس آزادی کابے دریغ کرتے ہیں، اس موقع پر بھی نون لیگی رکن اسمبلی کا رویہ گستاخی کی حد تک جارحانہ تھا۔قومی اسمبلی کے مذکورہ اجلاس کے دوسرے دن اسلام آباد ہائی کورٹ میں اخبار کے تینوں افراد عدالت میں پیش ہوئے اور اپنی صفائی میں جو کہہ سکتے تھے کہا۔معزز عدالت نے ملزمان کو شوکاز جاری کرتے ہوئے انہیں 7روز میں جواب جمع کرانے کاحکم دیا، سماعت 10روز کے لئے ملتوی کر دی گئی۔اب عدالت جانے اور ملزمان جانیں۔بہر حال یہ طے کر لیاگیاہے کہ عدالت کسی کو ہرگزاجازت نہیں دے گی کہ وہ عدلیہ کے خلاف جب چاہے جو اسٹوری چھاپ دے اور ایسا کرتے وقت ذرا بھی نہ سوچا جائے دنیا بھر میں اس قسم کے حلف نامے کسی توجہ کامرکز نہیں بنائے جاتے۔دنیا مکا لہرانے کی آزادی کا حق ہر شخص کو دیتی ہے مگر یہ حق غیر مشروط نہیں۔جیسے ہی دوسرے شخص کی ناک شروع ہوتی،”مکالہرانے کی آزادی“ ختم ہوجاتی ہے۔اسی طرح ہر ادارہ اپنی حدود میں رہتے ہوئے طے شدہ قواعد و ضوابط کے مطابق اپنے اختیارات استعمال کر سکتا ہے لیکن دوسرے اداریکی حدود کو عبور نہیں کرسکتا۔پاکستان کی تاریخ تشکیل کے فوراً بعد حالات کے گرداب میں جا پھنسی۔7دہائیاں گزرنے کے بعد بھی بوجوہ یہ طے نہیں کیا جا سکا کہ مختلف اداروں کا طول وعرض کیا ہے۔ہر ادارہ اپنی جگہ خود کوسب سے بالا تر سمجھتا ہے اورمن مانی کرنے پر تلا ہوا ہے۔یہ رویہ بلا تخصیص سب اداروں نے اپنارکھاہے۔چنانچہ تمام ادارے ایک دوسرے سے بر سرِ پیکار ہیں۔ نیب جیسے ادارے نے تین سال قبل سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس نے ابھی تک اپنے رولز آف بزنس نہیں بنائے۔اراکینِ اسمبلی کو 74سال بعد بھی معلوم نہیں کہ ایوان کے فلور پر جھوٹ بولنا پارلیمانی آداب کے منافی ہے۔تین بار وزیر اعظم کیب عہدے پر فائز ہونے والے قائد ایوان کے تاریخی کلمات:”جناب اسپیکر!لندن فلیٹس کے حوالے سے یہ ہیں دستاویزات اور ثبوت جومیں آپ کے حوالے کر رہا ہوں، جب کوئی مجاز ادارہ مانگے آپ اسے دے سکتے ہیں“۔مگر عدالتِ عظمیٰ نیان کے وکیل سے اس دعوے پر عمل کرنے کی ہدایت کی تو اسے کہنا پڑا:”می لارڈ! وہ تو ایک سیاسی بیان تھا“۔زیادہ پرانی بات نہیں سب عوام و خواص کو یاد ہے۔نونلیگی رہنما خواجہ آصف کو بھی یاد ہوگی۔نیب کے بارے میں دیئے گئے معزز عدالتِ عظمیٰ کے ریمارکس ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ عدلیہ کے حوالے سے جسٹس قاضی امین نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران کہا:”وکیل صاحب! فوری انصاف کے لئے تکنیکی پیچیدگیوں سے نکلیں، بہتر ہے کیس میں جا کر دلائل دیں، انصاف میں پاکستان کا نمبر 128واں ہے، وکیل،ججز سمیت ہم سب اس کے ذمہ دارہیں“۔جب صورت حال اتنی خراب ہو،تو ملک سلامتی اور بقاء کے لئے سوال اٹھنا فطری امر ہے۔امیر ٹیکس نہیں دیتے،حکومت اپنے اخراجات قرضے لے کر پورے کرتی ہے۔آمدنی بڑھانے کے بارے میں اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔لاکھوں ایکڑ اراضی پانی بجلی کی عدم دستیابی کے باعث زیر کاشت نہیں لائی جا سکی۔دالیں، آٹا چینی ضرورت کے مطابق ملک میں پیدا ہوتیں۔پاکستان کی عالمی شناخت ایک زرعی ملک کے طور پر ہے۔ہمارے جنگلات رقبے کے لحاظ سے پہلے ہی کم تھے انہیں بھی ٹمبر مافیا کھا گئی۔حکومتوں کی تشکیل کا عمل تا حال مشکوک ہے۔ شفاف انتخابات کا انعقادمناسب قانون سازی کے بغیرممکن نہیں۔تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت اکثر و بیشترکورم پورا رکھنے میں ناکام نظر آتی ہے۔چند روز قبل دو بل اس لئے منظور نہیں ہو سکے کہ حکومتی ارکان کی تعداد اپوزیشن کے مقابلے میں کم تھی۔ملکی معیشت کی زبوں حالی کا یہ عالم ہے کہ آئی ایم ایف کے افسران نے ہمارا اسٹیٹ بینک سنبھال رکھا ہے۔وزیر خزانہ کی کوالیفکیشن یہ ہے کہ اسے آئی ایم ایف سے بات کرنے کا سلیقہ آتا ہو۔موجودہ وزیر خزانہ بینکار ہیں،انہوں نے وزیر اعظم ومران خان کی خواہش پرماضی کی ٹریکل ڈاؤن (بڑے سرمایہ داروں کے منہ سے گرنے والے نوالوں پر پلنے والی) معاشی پالیسی کی بجائے نچلی سطح کے نوجوانوں کی مناسب مالی امداد(بلاسودقرضہ کی فراہمی) اور ہنرمندی سکھانے کے ذریعے بیروزگاری ختم کرنے کافارمولہ تیار کیا ہے،دیہی معیشت کو ترقی دینے کے لئے کسان کارڈ متعارف کرا ہے۔انہیں ان اقدامات کے نتائج اچھے ملے اور ان کا دعویٰ ہے کہ آئی ایم ایف نے بھی اس حکمت عملی کو سراہا ہے۔حکومتی دعوے اپنی جگہ کتنے ہی درست ہوں مگر عام آدمی مہنگائی کے ہاتھوں سخت پریشان ہے۔ اس کے لئے صبح کرنا شام کا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔جس دن مہنگائی پر قابو پا لیا گیا، عام آدمی کی آنکھوں چمک آجائے گی۔عام آدمی کو اسی دن کا انتظار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں