پی ڈی ایم کادانشمندانہ فیصلہ

پی ڈی ایم نے اپنے سربراہی اجلاس میں ملک کی عمومی صورت حال کو دیکھتے ہوئے دواچھے فیصلے کئے ہیں،اول یہ کہ آئندہ لانگ مارچ نہیں کیا جائے گا بلکہ اس عمل کا نام”مہنگائی مارچ“ ہوگا۔ اوردوم یہ کہ یہ اس کی تاریخ 23مارچ ہوگی۔پہلا فیصلہ اس لئے اچھا ہے کہ ”لانگ مارچ“ روز انہ کی بنیاد پر نہیں کئے جاتے۔یہ زندگی میں ایک بار کیا جاتا ہے، عوام کی بہت بڑی تعداد اس میں شریک ہوتی ہے،اور اپنا ہدف حاصل کئے بغیر گھروں کو نہیں لوٹتی۔اس کی مثال ہمارے ہمسایہ ملک چین کے عوام نے کمیونسٹ پارٹی کی کال پرماؤزے تنگ کی قیادت میں قائم کی گئی تھی۔اس کے بعد چین کے عوام کو کسی ”لانگ مارچ“ کی ضرورت پیش نہیں آئی۔حالانکہ سرمایہ دار دنیا نے نئے نظام کی اپنی بساط بھر مخالفت کی،ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا، عالمی منڈی میں ان کا راستہ روکا مگر چین کی قیادت نے مشکل ترین حالات میں انتہائی دانشمندی، جرأت اورثابت قدمی سے منزل کی طرف جاری رکھا۔ منزل کا تعین انہوں نے لانگ مارچ سے پہلے ہی کر لیا تھا۔یاد رہے چینی قوم کو سامراجی قوتوں نے افیون جیسے موذی نشے کاعادی بنا دیا تھاکہ ہر وقت سوتی رہے،نشے میں ہروقت ٹن رہنے والے عوام کے مسائل کا بھاری بھرکم بوجھ چین کی انقلابی حکومت کے لئے سنبھالنا ممکن نہیں ہوگا،اس بوجھ تلے دب کرخود ہی ملیا میٹ ہوجائے گی۔سامراجی تھنک ٹینکس کا خیال غلط بھی نہ تھا،یہ نسخہ دنیا بھر میں انہیں من پسند نتائج دے چکاتھا۔وہ جانتے تھے شئی قوم میں اپنے مستقبل کے بارے سوچنے اور اسے بہتر بنانے کی اس میں صلاحیت ہی نہیں رہتی۔یہی وجہ ہے کہ وہ دنیا پر طویل عرصے تک راج کرتے رہے۔ حیرانگی کی بات ہے چین ایک لانگ مارچ کے بعد ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو گیا،چلئے گنتی کے چکر میں نہ پڑیں، پاکستان میں سابقہ ادوار میں کئے گئے لانگ مارچز کو بھول جائیں تب بھی 2018کے بعد موجودہ حکومت کے خلاف جتنے لانگ مارچ اسلام آباد پہنچے اور جن کی تاریخیں دی گئیں لیکن بوجوہ سڑکوں پر نہیں لائے گئے،(یا لاہوری اپنے گھروں سے نہیں نکلے)،اس لئے کہ اگر ان میں سے ایک ”لانگ مارچ“ بھی صداقت پر مبنی ہوتا تو حکومت گھر جا چکی ہوتی۔ حکومت کی ساخت اور کارکردگی میں لاکھ عیب سہی،ہزاروں خرابیاں ہوں گی اور بلا شبہ ہیں،مگران سب کے باوجود اپوزیشن کو سوچنا چاہیئے کہ وہ حکومت کو گھر بھیجنے میں کیوں ناکام رہی؟جس حکومت کو اپوزیشن دن رات نااہل، نالائق، اور ناتجربہ کارکہتی ہے اور کئی مواقع پر اپوزیشن کو یقین کی حد تک یہ گمان بھی رہا کہ اس حکومت کو لانے والے بھی اس کی ناقص کارکردگی کے باعث مایوس ہو گئے ہیں، وہ اتنے عرصے سے قائم کیسے ہے؟کیوں ہے؟ جب تک اپوزیشن اپنی پالیسی اور لگائے جانے والے نعروں کاجائزہ نہیں لے گی اسوقت تک عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اس کی جانب نہیں لپکے گا۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ سمجھی جا سکتی ہے کہ اپوزیشن ایک یادوسری شکل میں 1977سے مسلسل اقتدار میں رہی ہے۔ حکومت کو پہلی باراقتدار میں آنے کا فائدہ مل رہاہے۔کورونا کا عذر بھی ایک حد تک حکومت کے لئے مصیبت کے بھیس میں نعمت ثابت ہوا،اپوزیشن عوام کے سامنے کوئی متبادل حکمت عملی پیش کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوسکی۔ قانون سازی کا راستہ روک کر اپوزیشن حکومت کو مجبور نہیں کر سکی کہ وہ ان سے مسکراتے ہوئے ہاتھ ملائے اور اسی قسم کے مسکراہٹوں اور گالیوں کاتبادلہ کرے جو پی پی پی اور مسلم لیگ نون اپنے اپنے اقتدار کے زمانے میں کرتی رہی ہیں۔دیگر جماعتیں خود تسلیم کرتی ہیں: ”ان کا حجم بہت چھوٹا ہے“۔سیاست میں حصہ بقدرِ جثہ ملتاہے۔پی ٹی آئی کے پاس ایوان میں سادا اکثریت بھی نہیں، سینیٹ میں بھی اسے تاحال کھل کر کام کرنے کی صلاحیت حاصل نہیں ہوئی۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اسے اپنے اتحادیوں کے نخرے اٹھانے پڑتے ہیں۔پنجاب میں ایک اتحادی ناراض ہوجائے پی ٹی آئی کی حکومت دھڑام سے نیچے آجائے گی۔مگر سب دیکھ رہے ہیں پی ٹی آئی نے 33قوانین میں اپنی مرضی کی ترامیم کر لیں، اپوزیشن تمام تر شور شرابے کے باوجود حکومت کاراستہ نہیں روک سکی۔اپوزیشن کے پاس جہاں دیدہ اور سردوگرم چشیدہ قیادت ہے۔ مگر اس کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ معروضی حقائق کومناسب مقام دینے کی بجائے ہر کوئی اپنی خواہشات کے تابع ہی نہیں خود کو عقلِ کل بھی سمجھتا ہے۔نون لیگ کی اعلیٰ قیادت ملک سے باہر ہے۔حکومت اس کارڈ کو بھی بہتر انداز میں کھیل رہی ہے۔نون لیگ کی دوسری مشکل یہ ہے کہ ملک میں موجود قیادت دو متحارب حصوں میں منقسم ہے۔دوسرے درجے کی قیادت/رہنما ناراض ہوکر گھروں میں بیٹھے ہیں۔ایسے ماحول میں حکومت کو گرانا آسان نہیں۔بڑے ہوم ورک کی ضرورت ہے۔اور اب تو حکومت نئے انتخابات کی تیاریوں مصروف ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے فوراً بعد عام انتخابات سر پر ہوں گے۔ عوام کی توجہ ادھر مبذول ہوگی۔ویسے بھی سال چھ مہینے میں اپوزیشن اقتدار میں کیوں آئے گی؟ اور آبھی جائے تو اتنے کم عرصے میں کیا تیر مار لے گی؟اگر اپوزیشن کچھ کرنا چاہتی یا کر سکتی توچار دہائیوں میں کر چکی ہوتی۔مانا کہ پاکستان آج چین جیسی معاشی قوت نہ ہوتا تب بھی اسے کشکول ہاتھ میں تھامے پڑوسی ملکوں کے دروازے پر دستک دینے کی مجبوری لاحق نہ ہوتی۔ صنعتی شعبے میں بنگلہ دیش سے بھی پیچھے تو نہ ہوتا۔زرمبادلہ کے ذخائر ملکی ضرورت پوری کرنے کے قابل ہوتے۔ واجب الاداقرض اور سود کی قسطیں ادا کرنے کے آئی ایم ایف سے سخت شرائط پر مزید قرض لینے کی نوبت نہ آتی۔پی ٹی آئی کی حکومت آئی ایم ایف سے قرض لینے والی پہلی حکومت نہیں۔سابق حکومتیں آئی ایم ایف کے پاس 21بار جا چکی ہیں۔ان میں پی پی پی 9بار اور مسلم لیگ نون4بار آئی ایم ایف سے قرض لینے کے باوجود معیشت کو مضبوط بنانے میں ناکام رہیں۔جدید ٹیکنالوجی کے دور میں عام آدمی ان تلخ حقائق سے بے خبر نہیں۔دنیا کے اعدادوشمار کے مطابق آج پاکستان کی آبادی 22 کروڑ60لاکھ ہے اور یہاں لوگوں کے پاس 17کروڑ سے زائد موبائل فون ہیں۔نوجوان کی تعداد 60فیصد کے لگ بھگ ہے۔اب پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ نوجوان نسل کرے گی۔سینئر آبادی آج کی تیزرفتار دنیا کا ساتھ دینے کے قابل نہیں۔ملک میں ڈیموں کی تعمیر اچھا شگون ہے۔ ان کے ذریعے روزگار کے مواقع بڑھیں گے، ملکی معیشت میں بہتری آئے گی۔یہ بھی حکومت کی خوش قسمتی ہے،اپوزیشن نے اسے تین ماہ کی فری ہٹ دے دی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں