معاملات دانشمندی سے ہی ٹھیک ہوں گے

جمہوری نظام میں ہر جگہ یہ قول رائج ہے کہ اپوزیشن اور حکومت سیاسی گاڑی کے دو پہیئے ہیں،دونوں مل کر چلیں تو گاڑی چلتی ہے ورنہ مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں۔ لیکن دنیا میں شاید ہی کوئی مثال ہو جہاں حکومت اور اپوزیشن مل کر کام کرتی ہوں۔مزاجاً حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے دوست نہیں ہوتیں، مخالف ہوتی ہیں۔بیشتر ملکوں میں دو جماعتی نظام رائج ہے اس لئے باری باری اقتدار میں دونوں جماعتیں آتی رہتی ہیں۔پاکستان میں کثیر الجماعتی نظام ہونے کے باوجودجتنے دن جمہوریت قائم رہی، عملاً (پی پی پی اور مسلم لیگ نون کی شکل میں)دو جماعتی نظام ہی رائج رہا ہے۔یہ سلسلہ 2018تک جیسے تیسے چلتا رہا مگرپھر غیر متوقع طور پر پاکستان تحریک انصاف ابھر کر سامنے آئی اور اس نے خیبر پختونخوا میں دوتہائی اکثریت کے علاوہ پنجاب میں بھی سادا اکثریت حاصل کر لی۔ خیبر پختونخوا کی دیرینہ روایت ٹوٹ گئی، پی ٹی آئی کو لگاتار دوسری بار بھی حکومت سازی کا موقع ملا، اور وہ بھی پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ!خیبر پختونخوا کے عوام کا یہ سلوک روایتی سیاسی جماعتوں کی سمجھ میں تاحال نہیں آیا۔ان کا خیال ہے کہ یہ دھاندلی یا جھرلو کا نتیجہ ہے۔اس غلط فہمی کا نتیجہ یہ نکلا کہ تمام پارٹیوں نے اپنی اپنی انتخابی ناکامی کاسیاسی تجزیہ کرنے کی بجائے ”سلیکٹڈ“حکومت کو تسلیم نہ کرنے کا نعرہ لگاتے ہوئے تیسرے فریق کے خلاف محاذ کھول لیا۔بعض مبصرین کی رائے کے مطابق ٹرک کی بتی کے پیچھے لگ گئیں۔ اس مشق میں اس حد تک محوہو گئیں کہ عوام کی نبض پر ہاتھ رکھنا بھی بھول گئیں۔غصے یاعجلت میں درست نعرے وضع نہیں کئے،چنانچہ عوام ناپسندیدہ نعروں کے گرد جمع نہیں ہوئے۔واضح رہے پاکستان کی سیاست میں فیصلہ کن کردارہمیشہ نصف سے زائد آبادی والا صوبہ (پنجاب) ادا کرتا ہے۔جیسے ہی پنجاب کے عوام نے اپوزیشن کے نعرے یا بیانیئے سے علیحدگی اختیار کی اپوزیشن(پی ڈی ایم) اپناتوازن برقرار نہیں رکھ سکی، لڑکھڑا گئی اور پھر تاحال سنبھل نہیں سکی۔یہ معمولی صدمہ نہیں تھاکہ مسلم لیگ نون کے سینئر رہنما اور کارکن بھی گھروں سے نہیں نکلے اور ”آر یا پار“ کادبنگ نعرہ عوامی پذیرائی سے محروم رہا۔دوسری گڑ بڑ یہ ہوئی کہ شریف فیملی ایک مؤقف اپنانے میں بوجوہ ناکام رہی۔اعلیٰ قیادت دو متحارب گروہوں میں بٹ جائے تو دوسرے درجے کی قیادت اور کارکن رُل جاتے ہیں۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا،کس کا دامن تھاما جائے؟حالانکہ مہنگائی کے ہاتھوں پریشاں حال عوام کو اپوزیشن کی مدد درکار تھی۔حکومت کچھ اپنی ناتجربہ کاری کے سبب ناکام رہی اور کچھ بیوروکریٹس کی ہمدردیاں اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ وابستہ ہونے کے باعث بیورو کریسی پی ٹی آئی سے دور رہی۔مبصرین کو حیرت ہے کہ اتنی ڈھیر ساری خامیوں کے باوجود پی ٹی آئی کی حکومت ابھی تک گری کیوں نہیں؟اس نے ساڑھے تین سال کیسے گزار لئے؟بلکہ 23مارچ کو مہنگائی مارچ کی کال سن کر مبصرین کی بھاری اکثریت اس رائے کی حامی ہو گئی ہے کہ پی ٹی آئی اپنے اقتدار کے 5سال پورے کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔یہ حقیقت یاد رہے کہ ایک سال اور وہ بھی آخری، اپوزیشن خود بھی اقتدار میں آنا پسند نہیں کرے گی۔دانا کہتے ہیں یہ سال انتخابی تیاریوں کے لئے مختص ہوتا ہے،سیاستدان اپنے حلقے میں گزارنا بہتر سمجھتے ہیں۔ٹوٹی پھوٹی گلیاں، اورنالیاں پختہ کرنے کا کام بھی آخری سال انجام دیا جاتاہے۔پرانی روایت ہے۔یہ روایت ای وی مشین کا نام سنتے ہی یکدم ختم نہیں ہو سکتی۔ اپوزیشن کی احتجاج سے دوری اور دھیمے لہجے کو دیکھتے ہوئے عام آدمی یہی سمجھ رہاہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت مشینی انتخابات کرانے میں کامیاب ہو جائے گی۔بیان حلفی شائع کرانا بھی نون لیگ کے لئے ایک مسئلہ بن گئی ہے۔عدالت نے اس معاملے کی ٹائمنگ اور بعض دیگر واقعاتی شواہد کی بناء پر سابق جج رانامحمد شمیم اپنے بیان حلفی کے حوالے سے توانا دکھائی نہیں دیتے۔ان کے پاس اپنی مرحومہ بیوی کی خواہش کے سوا کوئی ایسی شہادت نہیں جو زندہ ہو اور اپنے قدموں پر چل کر عدالت میں پیش ہو سکے۔لندن جیسے شہر میں ان کے غیر معروف طالب علم پوتے کو ہراساں کرنے والا دعویٰ عوامی ہمدردی سمیٹنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔اصل بیان حلفی لانے کے لئے عدالت کی جانب سے لندن جانے کی اجازت نہ ملنے سے سابق جج رانا شمیم کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔مبصرین کا خیال ہے نون لیگ کی قیادت نے یہ قدم مناسب غور کئے بغیر ہی اٹھا لیا ہے۔حالانکہ ان کے پاس ہر گزرتے دن غلطی کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔معاملات حد درجہ نازک اور سنجیدہ ہیں۔مبصرین ایک سے زائد مرتبہ مشورہ دے چکے ہیں کہ یہ 90کی دہائی نہیں، خطے کے معروضی حالات عرصہ ہوا تبدیل ہو گئے ہیں۔امریکہ کابل میں قیام پذیر نہیں، تائیوان میں کسی نئی مہم جوئی کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔منصوبہ بندی بند کمرے میں ہوتی ہے، شرکاء زبانی کلامی مشورے دیتے ہیں۔ اتحادی اپنے اندیشے پیش کرتے ہیں۔معاملات نشستند، گفتند اور برخاستند سے آگے نہیں بڑھتے۔لیکن منصوبہ بندی کو عملی جامہ پہناناایک دشوار مرحلہ ہوتا ہے اور جب مد مقابل چین جیسا طاقتور حریف ہو تو صورت حال مزید دشوار اور نازک ہو جاتی ہے۔جبکہ امریکہ آج تک اتنے طاقت ور حریف سے کبھی نہیں ٹکرایا۔اس نے ہمیشہ عراق اور کویت جیسے مسکین اہداف کو نشانہ بنایا ہے اس نے طویل جنگ صرف ویت نام اور افغانستان میں لڑی ہے۔ دونوں جگہ 20سال بعد انتہائی بدحواسی کے عالم میں بھاگنا پڑا۔خلیجی ریاستیں کھنڈر بن چکیں، ان میں کوئی جاذبیت اورمالیاتی کشش باقی نہیں
رہی۔پاکستان بھی 70کی دہائی کوبہت پیچھے چھوڑ آیا ہے۔ بھارت کو تامل ناڈو جیسے سانحے سے نکلنے کے لئے وقت درکار ہوگا۔پاکستان کی عسکری قیادت نے اس جانی نقصان پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔یہی مناسب تھا۔دشمن مرے تو خوشی نہیں مناتے،باوقار رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ ریاست اپنا ردِعمل دیتے وقت سوشل میڈیا کی سطح تک نہیں گرتی۔علاوہ ازیں ابھی بھارتی ذرائع اس جانی نقصان کے حوالے سے خود بھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچے کہ یہ حادثہ تھایاکوئی سازش تھی؟ تحقیقات کے بعدعلم ہوگا کہ اعلیٰ ترین عسکری قیادت کو لے جانے والاہیلی کاپٹر اپنی منزل تک کیوں نہیں پہنچ سکا؟ فی الحال یہی کہا جا سکتا ہے کہ بھارت کو امریکہ کے اتحادی کے طور پر تائیوان میں کوئی کردار ادا کرنے سے پہلے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیناہوگا۔13فوجی افسران کا اچانک دنیا میں نہ رہنا بڑا صدمہ ہے۔بھارت کودانشمندی سے سوچنا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں