پی ٹی آئی کارکن سندھ ہاؤس پر حملہ آور

پی ٹی آئی کے کاکنوں نے دو ایم این ایز کی قیادت میں سندھ ہاؤس اسلام آباد پر حملہ کردیا، اور توڑ پھوڑ کی۔پولیس نے توڑ پھوڑ سے روکنے کی مناسب کوشش نہیں کی،البتہ موقع سے توڑ پھوڑ میں شریک افرادکوگرفتار کر کے تھانے پہنچا دیا اور کارکنوں کے خلاف مقدمات درج کرلئے گئے۔جبکہ ایم این ایز کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔حکومت کی جانب سے اس واقعہ پر افسوس کا اظہاراور مذمت کی گئی۔ اپوازیشن نے بھی سخت رد عمل کا اظہار کیا جے یو آئی کے کارکن سندھ ہاؤس کی حفاظت کے پہنچ گئے۔یہ ہنگامہ آرائی کی ابتداء ہے۔اگر بروقت اس کا روش کاسدباب نہ کیا گیا تو یہ ہنگامے ملک کے طول و عرض میں پھیل جائیں گے۔ جے یو آئی کی قیادت نے پارلیمنٹ لاجز میں اپنے کرکن بھیجنے کا جواز یہی پیش کیا تھا کہ انہیں اپنے این ایز کو اغواء کئے جانے کا اندیشہ ہے۔سندھ ہاؤس پر حملے سے ان خدشات کی تصدیق ہوگئی۔جن لوگوں نے سندھ ہاؤس پر حملے کی منصوبہ بندی کی انہوں نے دانشمندی کا ثبوت نہیں دیا۔انہیں یاد ہونا چاہیئے کہ پی ٹی آئی اس وقت اقتدار میں ہے۔ عمران خان ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے ان کے ماتحت ہیں۔ امن و امان قائم رکھنا اداروں کی ذمہ داری ہے۔اگر حکمراں جماعت کے کارکن قانون اپنے ہاتھ میں لیں گے تو اپوزیشن بھی اسی زبان میں جواب دے گی۔مولانا فضل الرحمٰن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ان کے کارکنوں نے لاٹھیاں تیل میں بھگوئی ہوئی ہیں۔ڈنڈے کا جواب ڈنڈے سے اور اینٹ کا جواب اینٹ سے دیں گے۔حکومتی پارٹی قانون ہاتھ میں لے گی تو بہت بڑی غلطی کرے گی۔اشتعال پھیلے گا۔جوابی حملے شروع ہو جائیں گے۔پی ٹی آئی کو احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔بھرپور کوشش کی جائے کہ سیاست میں تشدد کا عنصر شامل نہ ہونے پائے۔تشدد کی حکمت عملی کسی جانب سے شروع انارکی کا سبب بنے گی۔وزیر داخلہ اسلام آباد کی حدود میں واقع سند ھ ہاؤس میں ہونے والی اس توڑ پر”کچل کر رکھ دوں گا“والی حکمت کی جھلک نہیں دکھا سکے۔مصلحت آڑے آگئی۔اپوزیشن اسے حکمومت کی بزدلی اور منافقت کہے گی۔سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ اگر اپوزیشن کرے تو اس عمل کو دہشتگردی کہاجائے اور انسداد دہشت گردی کے مقدمات قائم کرنے کی وارننگ دی جائے تو ایسی ہی وارننگ پی ٹی آئی کر کارکنوں کے لئے بھی دی جانی چاہیئے تھی۔اور ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کے مقدمات قائم کئے جاتے۔ریاست مدینہ کے قانونِ انصاف کاپرچار کرنے والی حکومت معیاری اور مساوی قانون پر عمل کی مثال قائم کرنے کی پابند ہے۔عین ممکن ہے کہ وزیر داخلہ جواباً کہیں کہ انہوں نے انہی دفعات کے تحت مقدمات پی ٹی آئی کے کارکنوں کے خلاف بھی قائم کئے ہیں جن دفعات کا طلاق جے یو آئی کے کارکنوں پر کیا گیا تھا۔وزیر داخلہ شیخ رشید احمد سینئر سیاستدان ہیں متعدد وزارتیں سنبھال چکے ہیں،انہیں اپوزیشن کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اپنا لہجہ اور الفاظ کے چناؤ میں احتیاط سے کام لیناچاہیئے۔”کچل کر رکھ دوں گا“جیسے دعوے کسی سیاستدان کو زیب نہیں دیتے۔وہ اپنا پرانا جملہ”جو قانون کو ہاتھ میں لے گا،قانون اسے ہاتھ میں لے گا“استعمال کریں۔یہ شائستہ بھی ہے اور قانون کی حکمرانی کا تأثر بھی دیتا ہے۔سیاست دان دلائل کے ساتھ اپنا مؤقف بیان کرتے ہیں،دوسروں کی بات سنتے ہیں۔کچلنے کی اصطلاح میدان جنگ میں متحارب فوجیں مخالف فریق کے لئے استعمال کرتی ہیں۔لیکن پسِ پردہ مذاکرات بھی ہو رہے ہوتے ہیں۔جیسا کہ امریکہ افغانستان پر نیٹوافواج کے ہمراہ پتھر کے زمانے میں پہنچانے کا نعرہ لگاتا ہوا حملہ آور ہوا مگر واپسی کے لئے دوہا میں مذاکرات بھی کرتا رہا۔امریکہ افغان عوام کو نہیں کچل سکا۔پاکستان میں بھی یہ کام ممکن نہیں۔ حکومت اور اپوزیشن مخالف فریق کوکچلنا چاہے تب بھی ان کے بس میں نہیں۔سیاست کو سیاست سمجھیں،سیاسی آداب کا خیال رکھیں،زبان کی طاقت استعمال کریں طاقت کی زبان میں بات نہ کی جائے۔ سیاسی معاملات سیاسی دائرے میں رہ کر حل کئے جائیں۔سیاسی دائرے سے باہر نہ نکلیں۔جب بھی سیاست اپنے دائرے سے باہر نکلی اسے واپس آنے میں دس گیارہ سال لگے۔ وزیر داخلہ شیخ رشید احمداپوزیشن کو اور اپوزیشن حکومت کو یاد دلا رہے ہیں، سمجھارہے ہیں کہ ایسا کوئی قدم نہ اٹھایا جائے کہ دس گیارہ سال کے لئے جمہوریت کی بساط پلیٹ دی جائے۔ماضی میں بے قابو ہلڑ بازی اور بد امنی کو سمیٹنے کے لئے رات کے تیسرے پہر”میرے ہم وطنو!“ کے الفاظ سنائی دیتے رہے ہیں اور ایک دوسرے کو کچلنے کی خواہش دل میں دبائے دونوں فریق اور ان کے جوشیلے حمایتی اپنے گھروں میں بیٹھے دیکھے گئے ہیں۔ایک دوسرے کو کچلنے والی قیادت ”میرے ہم وطنو!“ کہنے والوں کی حفاظتی تحویل میں مشاورت کرتی پائی جاتی ہے۔یاد رہے کہ مشاورت کے دوران صرف ایک سوال پر غور کیا جاتا ہے:
”جیل میں رہنا ہے یا حکومت میں شامل ہونا ہے؟“
جیل پسند کرنے والے جلد ہی بیرون ملک جانے کے معاہدوں پر یک طرفہ دستخط کرکے دس سال تک سیاست میں حصہ نہ لینے کی شرط مان کر ملک چھوڑ دیتے ہیں، جبکہ دوسرا فریق ”میرے ہم وطنو!“ کہنے والے کی کابینہ میں شامل ہو جاتا ہے۔ایسے مناظر ماضی میں عوام ایک سے زائد باردیکھ چکے ہیں۔عوام کا اس جنگ سے کچھ لینا دینا نہیں۔انپہیں جاھن بوجھ کر ان کی قیادت میدان جنگ پہنچنے کی ہدایت کر رہی ہے۔اگر قیادت نے ہوش سے کام نہ لیا تو ملک کے کونے کونے سے عوام کے جتھے؛”ماریں گے، مر جائیں گے“ کے نعرے لگاتے ہوئے ڈی چوک میں سیاست کو مضبوط بنانے کی بجائے جنگ کا میدان سجانے میں مصروف ہیں۔واضح رہے، پی ٹی آئی نے سندھ ہاؤس کا دروازہ اکھاڑ کر جنگ کی بسم اللہ کر دی ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ چھ دنوں کے بعد ڈی چوک میں جمع ہونے والے کیسا منظر پیش کریں گے؟فریقین کی حکمت عملی کے نتیجے میں کوئی خیر کی خبر سننے کی توقع نہیں۔غالب امکان ہے کہ 27مارچ کو ڈی چوک میں آخری دنگل ہوگا، بڑے پیمانے پر خونریزی ہوگی۔۔۔۔۔ اور اس خونریزی کو روکنے کے لئے حفظِ ماتقدم کے طور پر حسب معمول26اور 27مارچ کی درمیانی شب ”میرے ہم وطنو!“ والی رسم دہرائی جائے گی۔یہ خدشہ وزیر داخلہ کے منہ سے نکلنے والے جملہ سے پیدا ہوا ہے: ”آئندہ کے بارے میں اَللہ جانتا ہے!“

اپنا تبصرہ بھیجیں