فوجی ترجمان کی پریس کانفرنس

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے فوجی ترجمان کی پریس کانفرنس کو جمہوریت کے لئے تازہ ہوا کا جھونکا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نہ صرف ادارے بلکہ ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے وہ جمہوریت، آئین اورقانون کی بالادستی کا ساتھ دے۔مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز نے فوجی ترجمان کی پریس کانفرنس پر اپنے تأثرات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج پی ٹی آئی کا پھیلایا ہوا سارا جھوٹ تار تار ہو گیا ہے۔قومی سلامتی جیسے سنجیدہ فورم کو سازشی ڈرامے کے لئے استعمال کیا، وقت آ گیا ہے کہ ایک ایک جھوٹ کا حساب لیا جائے۔پریس کانفرنس کے حوالے سے پی ٹی آئی کے رہنما سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان نیشنل سیکیورٹی کونسل کے پریس ریلیز کی توثیق ہے کہ پاکستان کی سیاست میں بیرونی مداخلت نہیں ہونی چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن بنے جو اس مداخلت کی تحقیقات کرے کہ مداخلت کہاں سے ہوئی اور کردار کون تھے؟تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ملک میں توانائی اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ پروزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں وزارت توانائی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ملک میں بجلی کی قلت نہیں بلکہ ایندھن نہ ہونے اور فنی خرابیوں کے باعث 27 پاور پلانٹس بند پڑے ہیں۔ وزیر اعظم نے رپورٹ دیکھ کرکہا عوام لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں مبتلا ہیں، خدارا احساس کریں،غفلت اور لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی، فوری اقدامات کئے جائیں۔وزیر اعظم نے گرمی کے موسم میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے لئے اقدامات کی ہدایت تو کردی ہے،دیکھنا ہے کیا صرف ہدایت سے عوام کو لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نجات مل جائے گی؟ اس لئے کہ وزارت کوبہانے بازی عادت ہے، ہر وقت بہانوں کی ایک طویل فہرست افسران کی جیب میں موجود ہوتی ہے،افسران بالا کو ارسال کر دی جاتی ہے۔مبصرین کی جانب سے یہ بھی کہا جارہا ہے:”وزارت اعلیٰ اور وزارت عظمیٰ کی بیوروکریسی کے مزاج میں فرق ہے“۔وقت گزرنے کے ساتھ عام آدمی کو معلوم ہو جائے گا کہ اس کہاوت میں کتنی صداقت ہے۔یاد رہے وزراء کی اہلیت اور قابلیت کے مطابق بیورو کریسی کام کرتی ہے،مخلوط حکومت کے وزراء اپنے اہداف کو سامنے رکھتے ہیں،اتنی کمزور حکومت سازی مسلم لیگ نون کو شاید پہلی بار کرنی پڑی ہے۔مختلف الخیال پارٹیوں کے وزراء کیسی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے،اس بارے کوئی پیشگوئی آسان نہیں۔بعض بیوروکریٹس کو ماضی میں حکومت تبدیل ہوتے ہی مشکلات سے دوچار ہونا پڑا تھااس حوالے سے بھی کارکردگی میں منفی یا مثبت فرق آسکتا ہے۔تاہم وزیر اعظم شہباز شریف ہرقسم کے حالات میں کام کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں،توقع کی جانی چاہیئے کہ بیوروکریٹس ان کی راہ میں رکاوٹ کھڑی نہیں کریں گے۔واضح رہے ابھی صرف بی این پی کے سربراہ رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل نے حقیقت پسندانہ رائے دی ہے،انہوں نے نئی حکومت سے بلوچستان کے مسائل حل ہونے یا 6نکات کے بارے میں پیش رفت بالخصوص مسنگ پرسنز کے معاملے میں زیادہ توقعات وابستہ نہیں کیں۔گزشتہ تین حکومتوں کا رویہ ان کے سامنے ہے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے تحریری معاہدے کی بجائے نیت صاف ہونے پر انحصار کیا ہے۔حکومت کی کارکردگی سب کچھ آشکارہ کر دیتی ہے۔اچھائی اور بہتری کی توقع کی جائے، یہ ممکن نہیں کہ نئی حکومت پرانی حالت میں مزیدبگاڑ کی غلطی کرے۔کم از کم شہباز شریف جیسی شخصیت سے ایسی امید نہیں کی جا سکتی۔بشرطیکہ کوئی انہونی نہ ہوجائے۔سردار اختر مینگل ماضی میں مسلم لیگ نون کے ساتھ کام کر چکے ہیں، ایک بار پھر ساتھ چلنے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر ہی کیا ہوگا۔ علاعوہ ازیں 75برسوں میں سرزد ہونے والی غلطیوں کی اصلاح آسان نہیں، متعدد پیچ و خم حائل ہیں، سب کے لئے قابل قبول صورت حال تک پہنچنے کی راہ میں ایک سے زائد نشیب و فراز موجود ہیں انہیں عبور کرنے میں وقت لگے گا۔خطے میں عالمی طاقتوں کے درمیان جاری یوکرین جنگ بھی اثر انداز ہو گی۔پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اسی جنگ کے اثرات میں سے ایک ہے۔آئی ایم ایف کی تازہ شرائط ابھی سامنے نہیں آئیں،ایف اے ٹی ایف کے تقاضے اس کے علاوہ ہیں۔اس میں کسی پاکستانی کو شک نہیں کہ دنیابھر میں امریکہ اور روس(بشمول چین)کی ایک دوسرے کو زیر کرنے کی کشمکش ابھی ختم نہیں ہوئی، بلکہ ماضی کے مقابلے میں اس میں تیزی آگئی ہے۔ماضی میں اس جنگ کا میدان غریب اور پسماندہ ممالک (کوریا، ویت نام،فلسطین،مصر،اردن،عراق، ایران،شام،لیبیا، یمن، اورافغانستان وغیرہ) تھے۔اب روس اور امریکی حمایت یافتہ فوجیں یوکرین میں براہ راست ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ آج تک2ارب40کروڑ ڈالر کی امداد دے چکا ہے، 80کروڑ ڈالر مالیت کے ایک فوجی پیکج کی منظوری دی جا چکی ہے۔پیکج میں توپ خانے کا نظام،توپ خانے کے گولے، بکتر بند اہلکار کیریئر اور ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔ان اقدامات سے یہی سمجھا جائے گا کہ ابھی یوکرین جنگ کے فوری خاتمہ کی امید نہیں۔ویت نام اور افغانستان سے نکلنے میں امریکہ نے 20،20سال لگائے تھے۔ شاید روس بھی امریکہ کو یہاں دیر تک الجھائے رکھنے کی حکمت عملی بنائے بیٹھا ہے۔اگر امریکہ اسی طرح اس جنگ کے اخراجات برداشت کرتا رہا تو اندرون ملک اس کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔یوکرین روس کی سرحد پر واقع ہے،اپنی افواج بھیجنا روس کے لئے آسان ہے۔ امریکہ یہ جنگ ہزاروں میل دور سے لڑ رہا ہے۔اسے اپنی مشکلات کا علم ہوگا۔یوکرین جنگ جتنا طول پکڑے گی اتنا زیادہ مالی بوجھ امریکہ کو برداشت کرنا ہوگا۔اس دوران یورپی یونین اور بھارت کتنا تیل روبل میں ادائیگی کرکے خرید چکے ہوں گے،اور کتنے ارب ڈالر کا امریکہ کو نقصان پہنچے گا؟ یہ ایک نیا فیکٹر ہے، پاکستانی ماہرین معیشت کے لئے اس کا تخمینہ لگانا فی الحال مشکل ہے، حالانکہ کیلکولیٹر ان کے ہاتھوں میں موجود ہے۔اس لئے کہ یہ سماجی و معاشی عنصر ماضی کی جنگوں میں سامنے نہیں آیا تھا۔اسی طرح چینی افواج کی بھارت میں موجودگی غیر متوقع اور نیا عنصر ہے،اس کے اثرات ابھی آنکھوں سے اوجھل ہیں۔تمام پہلویکجا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ سرداراختر مینگل کو وفاق سے زیادہ توقعات نہ ہونے کی ایک وجہ عالمی غیر یقینی صورت حال بھی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں